ڈی ایس پی عثمان حیدر کی بیوی اور بیٹی کے قتل کیس میں اہم پیش رفت، پولیس افسران معطل

ڈی ایس پی عثمان حیدر کی بیوی اور بیٹی کے قتل کیس میں اہم پیش رفت، پولیس افسران معطل

 ڈی ایس پی عثمان حیدر کی بیوی اور بیٹی کے قتل کے کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔

 پولیس نے لڑکی کی لاش ملنے کے باوجود مقدمہ 302 کی دفعات کے تحت درج نہ کرنے پر ایس ایچ او کاہنہ، چوکی انچارج صوئے اصل محمد ذوالفقار اور اے ایس آئی اللہ رکھا کو معطل کر دیا ہے۔بتایا گیا ہے کہ کاہنہ پولیس نے لڑکی کی لاش ملنے کے بعد صرف پوسٹمارٹم کروایا اور صرف 174 کی کارروائی کی، جبکہ قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج نہیں کیا گیا اور لاش کی لاوارث تدفین کر دی گئی۔ڈی آئی جی انویسٹی گیشن ذیشان رضا کے مطابق تین ملزمان گرفتار کیے گئے ہیں، جن میں اصل قاتل ڈی ایس پی عثمان حیدر ہی ہیں۔ ملزم نے سرکاری گاڑی میں اپنی بیوی اور بیٹی کو ہوٹل سے کھانا کھلا کر واپس جاتے ہوئے گھریلوناچاقی کے تنازع پر رنگ روڈ پر فائرنگ کر کے قتل کیا۔

ملزم نے اپنی بیوی کی لاش کو کالاشاہ کاکو کے قریب کھائی میں پھینک دیا جبکہ بیٹی کی لاش کو کاہنہ کے علاقے میں گندے نالے میں پھینک دیا۔ جرم چھپانے کے لیے ملزم نے اہلخانہ کے اغوا کا مقدمہ درج کرایا۔ذرائع کے مطابق ڈی ایس پی عثمان حیدر اور اس کی بیوی کے درمیان پلاٹ کے لین دین پر اختلافات چل رہے تھے اور بیٹی ماں کے ساتھ کھڑی ہونے کی وجہ سے قتل کی گئی۔ پولیس نے ملزم کی گرفتاری کے بعد اس کی پیشہ ورانہ صلاحیت بروئے کار لاتے ہوئے کیس کی مکمل تحقیقات شروع کر دی ہیں۔