راولپنڈی: سدرہ قتل کیس میں اہم پیش رفت، پولیس ٹیم نکاح کی تصدیق کیلئے مظفرآباد روانہ

راولپنڈی: سدرہ قتل کیس میں اہم پیش رفت، پولیس ٹیم نکاح کی تصدیق کیلئے مظفرآباد روانہ

راولپنڈی کے تھانہ پیرودھائی کی حدود میں غیرت کے نام پر 21 سالہ سدرہ کے قتل کے کیس میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔

 پولیس نے نکاح کی تصدیق کے لیے تفتیشی ٹیم کو مظفرآباد بھیج دیا ہے، جہاں سدرہ کے مبینہ دوسرے شوہر عثمان اور اس کے اہلخانہ کو باقاعدہ شاملِ تفتیش کیا جائے گا اور ان کے بیانات ریکارڈ کیے جائیں گے۔پولیس ذرائع کے مطابق سب انسپکٹر شعیب احمد کی سربراہی میں ٹیم عثمان سے نکاح کی تصدیق اور متعلقہ دستاویزات کے حصول پر کام کرے گی۔مقدمے میں ملوث سات ملزمان عصمت اللّٰہ، ضیا الرحمان، عرب گل، امانی گل، ظفر اللہ، صالح محمد اور رکشہ ڈرائیور خیال محمد جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں ہیں، جبکہ گورکن راشد محمود اور قبرستان کمیٹی کے سیکرٹری سیف الرحمان جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں قید ہیں۔پولیس نے عصمت اللّٰہ کے گھر سے سی سی ٹی وی ڈی وی آر تحویل میں لے کر ڈی کوڈنگ شروع کر دی ہے، تاہم تکنیکی مشکلات کے باعث ماہرین کی مدد لی جا رہی ہے۔ ڈی وی آر کی فوٹیجز میں 11 سے 17 جولائی کے درمیان کی سرگرمیوں پر خاص توجہ دی جا رہی ہے۔پولیس نے اب تک نعش منتقل کرنے والا لوڈر رکشہ، قبر کھدائی کے آلات اور دیگر شواہد برآمد کرلیے ہیں، جبکہ قتل میں استعمال ہونے والا تکیہ تاحال برآمد ہونا باقی ہے۔فرانزک سائنس ایجنسی لاہور کو قبر کشائی کے دوران حاصل شدہ نمونے بھی جمع کروا دیے گئے ہیں۔ ملزمان کا ریمانڈ یکم اگست کو مکمل ہوگا، جس کے بعد پولیس عدالت میں پیش رفت رپورٹ پیش کرے گی۔