پنجاب حکومت نے لاہور میں رش اور لمبی قطاروں کے مؤثر اور جدید حل کے لیے پیلیکن ٹریفک سگنلز کے منصوبے کا دائرہ کار بڑھانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
یورپی ممالک کی طرز پر لاہور میں جدید ٹریفک مینجمنٹ سسٹم متعارف کرایا گیا ہے، جو مؤثر لین ڈسپلن کے قیام میں بھی مدد فراہم کرے گا۔مال روڈ پر کامیاب پائلٹ پراجیکٹ کے بعد دیگر اہم شاہراہوں پر بھی سگنلز کی تنصیب کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پہلے مرحلے میں لاہور کی 20 سے زائد اہم شاہراہوں پر جدید سسٹم نصب کیا جائے گا۔ یہ کام محکمہ ہاؤسنگ پنجاب کے تحت ٹیپا جدید سسٹم کی تنصیب کرے گا، جس کی سمری صوبائی کابینہ سے منظوری بھی حاصل کر لی گئی ہے۔ٹیپا اور سٹی ٹریفک پولیس کے اشتراک سے اہم شاہراہوں کا انتخاب کیا گیا ہے، اور پیلیکن ٹریفک سسٹم کی تنصیب کا عمل 5 ماہ میں مکمل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ ویڈیو وہیکل ڈٹیکشن سسٹم کے ذریعے ٹریفک مینجمنٹ خودکار نظام سے کی جائے گی۔محکمہ ہاؤسنگ کے مطابق مرکزی اربن ٹریفک کنٹرول سسٹم بھی نصب کیا جائے گا، اور زیبرا کراسنگ پر ٹریفک سگنلز سے منسلک ایل ای ڈی لائٹس لگائی جائیں گی۔
سسٹم کو سمارٹ سٹی سسٹم سے بھی منسلک کیا جائے گا، تاکہ پیدل مسافر محفوظ طریقے سے سڑک پار کر سکیں اور ٹریفک سگنلز پر رش اور لمبی قطاروں کا سلسلہ ختم ہو جائے۔ جدید سسٹم سے اہم ڈیٹا بھی ریکارڈ کیا جا سکے گا۔منصوبے میں جی پی او، ہائیکورٹ، ریگل، گورنر ہاؤس، ڈیوس روڈ اور کینال روڈ جنکشن، ظفر علی روڈ، فورٹریس اسٹیڈیم، جناح چوک، سرفراز رفیقی روڈ، سیکرٹریٹ، فیروز پور روڈ، مسلم ٹاؤن موڑ، بھیکیوال، دبئی چوک، برکت مارکیٹ، فردوس مارکیٹ، عسکری 10 اور پرویز اسلم چوک جیسے اہم مقامات شامل ہیں۔