پنجاب میں شدید گرمی اور ہیٹ ویو کا خدشہ، درجہ حرارت 46 ڈگری تک جانے کی پیشگوئی

پنجاب میں شدید گرمی اور ہیٹ ویو کا خدشہ، درجہ حرارت 46 ڈگری تک جانے کی پیشگوئی

پنجاب میں رواں سال موسمِ گرما کے دوران غیر معمولی حد تک درجہ حرارت بڑھنے اور ہیٹ ویو کے خدشات ظاہر کیے گئے ہیں۔

 محکمہ موسمیات پاکستان اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس کے مطابق اپریل کے آخر سے جون تک صوبے کے بیشتر علاقے شدید گرمی کی لپیٹ میں رہ سکتے ہیں۔محکمہ موسمیات کے سیزنل آؤٹ لک کے مطابق مارچ سے مئی 2026 کے دوران درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہنے کا امکان ہے، جبکہ جنوبی پنجاب سمیت بعض علاقوں میں یہ اضافہ 4 سے 6 ڈگری سینٹی گریڈ تک ہو سکتا ہے۔ بعض دنوں میں اس سے بھی زیادہ درجہ حرارت ہیٹ ویو کی صورتحال پیدا کر سکتا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق اپریل میں درجہ حرارت معمول سے 1 سے 2 ڈگری، مئی میں 2 سے 3 ڈگری زیادہ رہنے کی توقع ہے، جبکہ جون میں درجہ حرارت بعض علاقوں میں 45 سے 46 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے۔لاہور سمیت بڑے شہری علاقوں میں گرمی کی شدت زیادہ محسوس ہونے کا امکان ہے۔ ماہرِ ماحولیات ڈاکٹر ذوالفقار علی کے مطابق کنکریٹ، ٹریفک اور فضائی آلودگی کے باعث "اربن ہیٹ آئی لینڈ ایفیکٹ" پیدا ہوتا ہے، جس سے شہروں میں درجہ حرارت دیہی علاقوں کے مقابلے میں زیادہ ریکارڈ ہوتا ہے۔ لاہور میں مئی کے دوران درجہ حرارت 42 سے 45 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا سکتا ہے۔

محکمہ موسمیات کے ہیٹ ویو الرٹ سسٹم کے مطابق 42 ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے زائد درجہ حرارت کو ہیٹ ویو قرار دیا جاتا ہے، جبکہ مسلسل کئی دنوں تک گرمی برقرار رہنے سے صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔لاہور میں محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر علیم الحسن کے مطابق اپریل کے آخر تک درجہ حرارت 38 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا سکتا ہے، جبکہ ماضی میں اپریل کے دوران 46 ڈگری سینٹی گریڈ بھی ریکارڈ کیا جا چکا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مئی اور جون میں ہیٹ ویو کے امکانات مزید بڑھ جائیں گے۔اسی طرح ڈائریکٹر جنرل محکمہ موسمیات صاحبزادہ خان نے خبردار کیا ہے کہ جون اور جولائی میں درجہ حرارت 44 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر سکتا ہے۔ماہرین کے مطابق درجہ حرارت میں اضافے کی بڑی وجوہات میں موسمیاتی تبدیلی، بارشوں میں کمی، ہائی پریشر سسٹم، درختوں کی کٹائی اور شہری علاقوں میں سبزہ کم ہونا شامل ہیں۔ ان کے مطابق پنجاب میں ہیٹ ویوز کی شدت اور دورانیہ دونوں بڑھ رہے ہیں۔

جنوبی پنجاب میں خشک اور گرم ہوائیں مزید شدت اختیار کر سکتی ہیں، جبکہ شدید گرمی زرعی شعبے پر بھی منفی اثر ڈال سکتی ہے، جس سے فصلوں کی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

محکمہ موسمیات اور متعلقہ اداروں نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے، جن میں:

غیر ضروری طور پر دھوپ میں نکلنے سے گریز
پانی کا زیادہ استعمال
ہلکے اور ڈھیلے کپڑے پہننا
سر کو ڈھانپ کر رکھنا
ادھر محکمہ تحفظ ماحولیات نے شجرکاری کے فروغ، ہیٹ ویو الرٹ سسٹم کو مؤثر بنانے، اسپتالوں میں ہیٹ اسٹروک سے نمٹنے کی تیاری اور پانی کی فراہمی یقینی بنانے کی سفارش کی ہے۔ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے برسوں میں پنجاب میں گرمی کی لہریں مزید شدت اختیار کر سکتی ہیں، جس کے اثرات انسانی صحت، پانی کی دستیابی اور توانائی کی طلب پر پڑیں گے۔