لاہور: یکم مئی سے دودھ کی قیمت میں 10 روپے فی لیٹر اضافہ

لاہور: یکم مئی سے دودھ کی قیمت میں 10 روپے فی لیٹر اضافہ

لاہور (ویب ڈیسک):ڈیری فارمر ایسوسی ایشن اور دودھ فروش یونین کے درمیان تنازعہ شدت اختیار کر گیا ہے، جس کے نتیجے میں شہر کے بڑے حصے میں دودھ کے بحران کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

 اس تنازعے کی وجہ سے سرکاری نرخنامے کا نفاذ بھی سوالیہ نشان بن چکا ہے، کیونکہ ڈیری فارمر ایسوسی ایشن نے دودھ کی قیمتوں میں ازخود اضافے کا اعلان کیا ہے۔

دودھ کی قیمتوں میں اضافہ
ڈیری فارمر ایسوسی ایشن نے یکم مئی سے دودھ کی قیمتوں میں 10 روپے تک کا اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

بھینس کا دودھ: ہول سیل قیمت 10 روپے اضافے کے بعد 220 روپے فی لٹر ہو جائے گی۔
گائے کا دودھ: 7 روپے 50 پیسے اضافے کے بعد 170 روپے فی لٹر ہول سیل میں فروخت ہو گا۔
گائے اور بھینس کا مکس دودھ: 10 روپے اضافے کے بعد ہول سیل 195 روپے فی لٹر ہو جائے گا۔
پرچون قیمتوں میں مزید اضافہ
ڈیری فارمر ایسوسی ایشن کے مطابق پرچون قیمت میں بھی مزید 10 روپے کا اضافہ ہوگا، جس کے بعد دودھ کی قیمت عوام کی پہنچ سے مزید دور ہو جائے گی۔

دودھ فروش یونین کا احتجاج
موٹر سائیکل دودھ فروش یونین نے ڈیری فارمر ایسوسی ایشن کی جانب سے قیمتوں میں اضافے کو بلاجواز قرار دیتے ہوئے احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ یونین کے صدر ارشاد گجر نے کہا کہ اگر اضافے کا فیصلہ واپس نہ لیا گیا تو دودھ کی سپلائی بند کر دی جائے گی۔

سرکاری نرخنامہ کا مذاق
ڈپٹی کمشنر کی جانب سے جاری کردہ نرخنامے میں دودھ کی قیمت 170 روپے فی لٹر مقرر کی گئی ہے، لیکن مارکیٹ میں دودھ 220 روپے تک فروخت ہو رہا ہے، جس سے ضیاعِ حکومتی نرخنامہ اور متوازی نظام کی موجودگی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ڈیری فارمر ایسوسی ایشن کے صدر رفیق گجر نے کہا کہ قیمتوں میں اضافہ ایک سال تک کے لئے ہوگا۔

ضلعی انتظامیہ پر سوالات
ڈیری فارمر ایسوسی ایشن اور دودھ فروش یونین کے درمیان جاری اس کشمکش میں ضلعی انتظامیہ کی بے عملی اور نرخنامے کی عدم عملداری پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ ارشاد گجر نے وزیرِ اعلیٰ سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے، اور کہا ہے کہ اگر قیمتوں میں اضافہ واپس نہ لیا گیا تو دودھ کی سپلائی بند کر دی جائے گی۔

نتیجہ
یہ تنازعہ شہر کے عوام کے لئے مشکلات کا باعث بن سکتا ہے، کیونکہ دودھ کی قیمتوں میں اضافے سے عوام کی روزمرہ کی ضروریات متاثر ہو سکتی ہیں۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کو فوری طور پر اس مسئلے کا حل نکالنا ہوگا تاکہ دودھ کی فراہمی میں خلل نہ آئے اور عوام کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔