حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل پر لیوی میں تیزی سے اضافہ کر دیا، عوام کو ریلیف سے محروم رکھا

حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل پر لیوی میں تیزی سے اضافہ کر دیا، عوام کو ریلیف سے محروم رکھا

وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی میں ایک بار پھر اضافہ کر دیا ہے، جس کے بعد عوام کو بین الاقوامی سطح پر تیل کی قیمتیں کم ہونے کے باوجود ریلیف نہیں دیا جائے گا۔

 صدر مملکت کے آرڈیننس اور حکومتی نوٹیفکیشن کے تحت پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پر لیوی میں فوری اضافہ کر دیا گیا ہے، جو آج سے نافذ ہو چکا ہے۔

لیوی میں اضافے کی تفصیلات:
پیٹرول: لیوی 70 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 78 روپے 2 پیسے فی لیٹر کر دی گئی (8 روپے 2 پیسے کا اضافہ)
ہائی اسپیڈ ڈیزل: لیوی 70 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 77 روپے ایک پیسہ فی لیٹر کر دی گئی (7 روپے ایک پیسے کا اضافہ)
ایک ماہ میں دوسرا اضافہ:
یہ پہلا موقع نہیں جب حکومت نے پیٹرولیم لیوی میں اضافہ کیا ہے۔ گزشتہ ایک ماہ کے دوران:پیٹرول پر لیوی میں کل 18 روپے 2 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا۔ہائی اسپیڈ ڈیزل پر لیوی میں کل 17 روپے ایک پیسہ فی لیٹر کا اضافہ ہوا۔
قانونی تبدیلی:
اس سے قبل، وفاقی حکومت کے پاس پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پر زیادہ سے زیادہ 70 روپے فی لیٹر لیوی لگانے کا اختیار تھا، لیکن پیٹرولیم لیوی آرڈیننس 1961 میں ترمیم کر کے اس حد کو ختم کر دیا گیا۔ اب حکومت کو مزید لیوی عائد کرنے کی مکصل آزادی حاصل ہو گئی ہے۔

حکومتی جواز:
حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اضافی محصولات ترقیاتی منصوبوں جیسے کہ کچھی کینال اور کوئٹہ-کراچی ایم 25 ہائی وے پر خرچ کیے جائیں گے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے واضح کیا تھا کہ "عالمی قیمتیں گرنے کے باوجود ہم عوام کو فوری ریلیف دینے کے بجائے اس رقم کو ملک کی تعمیر و ترقی پر استعمال کریں گے۔"

عوامی ردعمل اور تنقید:
معاشی ماہرین اور عام شہریوں کی طرف سے اس فیصلے پر تنقید کی جا رہی ہے، کیونکہ:مہنگائی کے موجودہ دور میں عوام پر اضافی بوجھ ڈالا گیا ہے۔بین الاقوامی سطح پر تیل کی قیمتیں کم ہونے کے باوجود مقامی سطح پر ریلیف نہیں دیا گیا۔یہ فیصلہ حکومتی محصولات بڑھانے کی کوشش سمجھا جا رہا ہے۔
آئندہ اثرات:
ماہرین کے مطابق، پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی میں اضافے سے:ٹرانسپورٹ اور روزمرہ اشیاء کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔مہنگائی کا دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔عوامی غم و غصہ بڑھ سکتا ہے، خاص طور پر مڈل کلاس اور غریب طبقے پر اس کے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔حکومت کی جانب سے اس اقدام کو قومی خزانے کو بہتر بنانے کے لیے ضروری قرار دیا جا رہا ہے، لیکن عوامی سطح پر اس فیصلے کو "مزید مالی بوجھ" کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔