عمان کی بندرگاہ کے قریب بحری جہاز ال کائیاپر میں پراسرار آتشزدگی کے بعد کراچی سے تعلق رکھنے والے پاکستانی انجینئر حماد عبیدہ تاحال لاپتا ہیں۔
اہلخانہ کے مطابق حماد عبیدہ بحری جہاز پر تھرڈ انجینئر کے فرائض انجام دے رہے تھے اور 6 ستمبر کو ڈیوٹی کے لیے کراچی سے روانہ ہوئے تھے۔اہلخانہ کا کہنا ہے کہ 13 ستمبر کو بحری جہاز میں آگ لگنے کی اطلاع ملی، جس سے جہاز کا انجن روم اور دیگر حصے متاثر ہوئے۔ حادثے کے وقت جہاز پر 25 افراد پر مشتمل عملہ موجود تھا، جن میں سے 23 افراد کو ریسکیو کرلیا گیا۔اہلخانہ کے مطابق حادثے کے وقت حماد عبیدہ کی ڈیوٹی رات کی شفٹ میں انجن روم میں تھی۔ کریو ممبرز نے بتایا کہ انجن روم میں موجود افراد کے زندہ بچنے کے امکانات انتہائی کم تھے، تاہم حماد عبیدہ کے زندہ ہونے یا حادثے میں جاں بحق ہونے سے متعلق تاحال کوئی حتمی اطلاع نہیں ملی۔
اہلخانہ نے بتایا کہ فارن آفس اور میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی کے کرائسس مینجمنٹ سیل سے رابطے کے باوجود حماد عبیدہ کا سراغ نہیں مل سکا۔حماد عبیدہ کے اہلخانہ نے حکومت پاکستان اور متعلقہ اداروں سے عمانی حکام کے ساتھ فوری رابطہ کرکے ان کی تلاش یقینی بنانے کی اپیل کی ہے۔ اہلخانہ کا کہنا ہے کہ اگر وہ حادثے میں جاں بحق ہوچکے ہیں تو ان کی میت کی ریکوری کے لیے بھی فوری اقدامات کیے جائیں۔