مسقط: آبنائے ہرمز میں ایک جہاز میں آگ لگنے کی اطلاع موصول ہوئی ہے، تاہم واقعے کی وجہ، جہاز کو پہنچنے والے نقصان اور ممکنہ جانی نقصان سے متعلق فوری طور پر تفصیلات سامنے نہیں آسکیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق برطانوی بحری سکیورٹی ایجنسی یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (یو کے ایم ٹی او) نے بتایا کہ اسے ایک دوسرے جہاز کے کپتان کی جانب سے آگ لگنے کے واقعے کی اطلاع موصول ہوئی۔ایجنسی کے مطابق متاثرہ جہاز عمان کے ساحلی علاقے خصب سے تقریباً 9 ناٹیکل میل، یعنی لگ بھگ 17 کلومیٹر شمال میں موجود تھا۔ ابتدائی اطلاع میں جہاز کی شناخت، آگ لگنے کی وجہ اور واقعے کے نتیجے میں ہونے والے ممکنہ نقصان کے بارے میں مزید معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
آگ لگنے کی وجہ تاحال معلوم نہیں
یو کے ایم ٹی او کی ابتدائی رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ جہاز میں آگ حادثاتی طور پر لگی یا اس کے پیچھے کوئی اور وجہ تھی۔ اسی طرح یہ بھی معلوم نہیں ہوسکا کہ واقعے میں عملے کا کوئی رکن زخمی یا ہلاک ہوا ہے یا نہیں۔تاحال جہاز کو پہنچنے والے نقصان اور آگ پر قابو پانے سے متعلق تفصیلات بھی سامنے نہیں آئی ہیں۔ واقعے کی مکمل نوعیت جاننے کے لیے مزید معلومات کا انتظار ہے۔
آبنائے ہرمز عالمی تجارت کے لیے اہم کیوں ہے؟
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔ خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرۂ عرب سے ملانے والی یہ گزرگاہ عالمی منڈیوں تک خام تیل اور قدرتی گیس پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔اس سمندری راستے میں کسی بھی سکیورٹی واقعے، جہازوں کی آمدورفت میں رکاوٹ یا بحری نقل و حرکت محدود ہونے سے عالمی توانائی کی ترسیل متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوسکتا ہے۔اسی وجہ سے آبنائے ہرمز میں پیش آنے والے واقعات پر عالمی بحری سکیورٹی اداروں اور توانائی کی منڈیوں کی خصوصی توجہ رہتی ہے۔
خطے میں بحری سکیورٹی کے خدشات
رپورٹ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں فروری میں جنگ شروع ہونے کے بعد آبنائے ہرمز میں بحری سکیورٹی کی صورتحال مزید حساس ہوگئی ہے۔ ایران کی جانب سے اس اہم گزرگاہ پر کنٹرول بڑھانے کی کوششوں اور بعض جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات نے تجارتی جہاز رانی سے متعلق خدشات کو بڑھایا ہے۔تاہم، موجودہ واقعے میں جہاز میں آگ لگنے کی وجہ یا اس کے پیچھے کسی حملے کے ملوث ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی۔ اس لیے واقعے کو کسی مخصوص فریق کی کارروائی قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔