لاہور: ایشیا کپ میں پاکستان اور بھارت کے درمیان میچ نے کھیل کے اصول، اسپورٹس مین اسپرٹ اور کرکٹ کی روایات پر کئی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بھارتی ٹیم کے رویے نے گیم آف جنٹلمین کی ساکھ کو نقصان پہنچایا۔میچ ریفری کے متنازع کردار اور قوانین کی خلاف ورزی پر آئی سی سی اور ایشین کرکٹ کونسل خاموش ہیں۔سوالات اٹھائے گئے ہیں:ٹیموں کے کپتانوں کو ٹاس کے وقت ہاتھ نہ ملانے کے احکامات کس کے کہنے پر دیے گئے؟پاکستانی بیٹنگ کے دوران بھارتی بولرز کی ہر اپیل پر امپائرز کا ردعمل کیا منصوبہ بندی تھی؟میچ کے بعد بھارتی ٹیم نے ڈریسنگ روم سے باہر آکر پاکستانی ٹیم کے ساتھ ہاتھ کیوں نہیں ملایا؟اختتامی تقریب میں جیت کو پہلگام واقعے سے جوڑنے پر کوئی ایکشن ہوگا؟
آئی سی سی اور اے سی سی کی خاموشی کیوں؟پاکستانی ٹیم مینجر کی شکایت پر میچ ریفری کے خلاف کوئی کارروائی ہوگی؟
ردعمل:
پی سی بی چیئرمین و اے سی سی صدر محسن نقوی: پاک بھارت میچ میں اسپورٹس مین شپ نہ دیکھ کر شدید مایوسی، کھیل میں سیاست کی مداخلت اصل روح کے خلاف۔ہیڈ کوچ مائیک ہیسن: اختتامی تقریب میں پاکستانی کپتان کی غیر حاضری بھارتی رویے کا مناسب جواب۔