خیبر پختونخوا میں گورنر راج پر غور کے لیے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس آج

خیبر پختونخوا میں گورنر راج پر غور کے لیے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس آج

قومی اسمبلی اور سینیٹ نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق سے متعلق قراردادیں کثرتِ رائے سے منظور کرلی ہیں، جبکہ صوبے میں گورنر راج کے معاملے پر غور اور منظوری کے لیے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس آج طلب کیا گیا ہے۔

صدر مملکت نے 11 اکتوبر کو خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس فیصلے کے بعد آئینی تقاضوں کے مطابق پارلیمنٹ سے توثیق حاصل کرنے کا عمل شروع کیا گیا، جس کے تحت قومی اسمبلی اور سینیٹ میں الگ الگ قراردادیں پیش کی گئیں۔

قومی اسمبلی میں چار گھنٹے بحث
گزشتہ روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی کی توثیق کے لیے قرارداد پیش کی۔ اجلاس کی صدارت اسپیکر سردار ایاز صادق نے کی۔ایمرجنسی کی توثیق سے متعلق قرارداد پر بحث کے لیے معمول کا وقفہ سوالات ملتوی کردیا گیا، جس کے بعد ارکان نے تقریباً چار گھنٹے تک اپنے خیالات کا اظہار کیا۔حکومتی ارکان نے خیبر پختونخوا میں سکیورٹی چیلنجز کو ایمرجنسی کے نفاذ کی وجہ قرار دیتے ہوئے فیصلے کی حمایت کی۔ دوسری جانب اپوزیشن ارکان نے اس اقدام کی مخالفت کرتے ہوئے اسے غیر آئینی قرار دیا اور ایوان میں احتجاج اور نعرے بازی کی۔طویل بحث کے بعد قومی اسمبلی نے ایمرجنسی کی توثیق سے متعلق قرارداد کثرتِ رائے سے منظور کرلی۔

سینیٹ میں بھی قرارداد منظور
قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد یہی قرارداد سینیٹ میں پیش کی گئی، جہاں حکومت اور اپوزیشن کے ارکان کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔ ایوان میں احتجاج اور نعرے بازی بھی کی گئی۔اپوزیشن ارکان نے فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے احتجاج کیا اور بعد ازاں ایوان سے واک آؤٹ کرگئے۔ تاہم اپوزیشن کے احتجاج کے باوجود سینیٹ نے بھی آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کی توثیق سے متعلق قرارداد کثرتِ رائے سے منظور کرلی۔

گورنر راج پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس
قومی اسمبلی اور سینیٹ سے ایمرجنسی کی توثیق کے بعد اب خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے معاملے پر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ اجلاس میں اس معاملے پر غور کیا جائے گا اور متعلقہ آئینی و پارلیمانی کارروائی آگے بڑھائی جائے گی۔گورنر راج کے معاملے پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اختلافات بھی سامنے آنے کا امکان ہے، کیونکہ اپوزیشن پہلے ہی ایمرجنسی کے نفاذ کی مخالفت کرچکی ہے۔

صوبے کی سیاسی صورتحال پر نظریں مرکوز
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کی توثیق اور گورنر راج کے معاملے نے ملکی سیاسی صورتحال میں اہمیت اختیار کرلی ہے۔ حکومت کی جانب سے سکیورٹی چیلنجز کو فیصلے کی وجہ قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ اپوزیشن اس اقدام پر اعتراضات اٹھا رہی ہے۔اب تمام نظریں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس پر مرکوز ہیں، جہاں گورنر راج سے متعلق آئندہ کارروائی اہم ہوگی۔ اس معاملے پر حتمی پیش رفت اور حکومتی فیصلے کے بارے میں مزید تفصیلات پارلیمانی کارروائی کے بعد سامنے آئیں گی۔