خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی؟ آج آئینی مشاورت متوقع

خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی؟ آج آئینی مشاورت متوقع

اسلام آباد: خیبر پختونخوا کی سیاسی اور سیکیورٹی صورتحال کے تناظر میں وفاقی سطح پر اہم مشاورت کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ صوبے میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے ممکنہ نفاذ سمیت مختلف آئینی و قانونی آپشنز زیر غور ہیں۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وزیراعظم ہاؤس میں اعلیٰ سطح کا مشاورتی اجلاس ہوا، جس میں خیبر پختونخوا کی صورتحال، امن و امان اور دیگر متعلقہ امور کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور دیگر حکام شریک ہوئے۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں خیبر پختونخوا کے حوالے سے مختلف آئینی و قانونی آپشنز پر غور کیا گیا، جبکہ حتمی فیصلے سے قبل تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینے پر بھی بات ہوئی۔ صدر آصف علی زرداری سے وزیراعظم کی ملاقات کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔وفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال اور دہشت گردی کے مسئلے کو بھی مشاورت کا اہم حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ حکومتی اراکین کی جانب سے صوبائی حکومت کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں، تاہم ان امور پر سیاسی اختلافات موجود ہیں۔دوسری جانب ایک رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت نے فی الحال خیبر پختونخوا میں فوری طور پر ایمرجنسی یا گورنر راج نافذ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم دونوں آپشنز پر غور جاری ہے۔