گورنر خیبر پختونخوا، فیصل کریم کنڈی اور عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے سربراہ ایمل ولی خان نے چارسدہ میں مشترکہ پریس کانفرنس میں صوبے کی موجودہ صورتحال پر گفتگو کی اور امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔
فیصل کریم کنڈی کا موقف:
گورنر نے کہا کہ دہشت گردی کا مقابلہ امن کے ذریعے کرنا ہوگا اور وہ صوبے کی بہتری کے لیے کام کرتے رہیں گے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ امن کی بحالی کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو اکٹھا کیا جائے گا اور صوبے میں امن و امان کی صورتحال انتہائی مخدوش ہے۔فیصل کریم کنڈی نے صوبائی حکومت کے اسلام آباد میں احتجاج کرنے کے حوالے سے بھی تبصرہ کیا اور کہا کہ صوبے میں امن کی صورتحال کا مقابلہ کرنے کے بجائے صوبائی حکومت اسلام آباد میں دیگر مسائل پر توجہ دے رہی ہے۔
ایمل ولی خان کا موقف:
ایمل ولی خان نے کہا کہ اے این پی اور پی پی کے درمیان ایک نظریاتی جوڑ ہے اور دونوں جماعتیں ایک عرصے سے ایک ساتھ کھڑی ہیں۔انہوں نے دہشت گردی کے خلاف گورنر خیبر پختونخوا سے بات چیت کی اور امن کے لیے ہر کسی کے تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔ایمل ولی خان نے پی ٹی آئی پر پابندی کی حمایت کی، کہا کہ پی ٹی آئی غیر جمہوری رویہ رکھتی ہے اور 9 مئی اور 24 نومبر کے واقعات کے بعد پابندی کی جواز بنتی ہے۔
آئندہ اقدامات:
فیصل کریم کنڈی نے بتایا کہ 5 دسمبر کو تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کی آل پارٹیز کانفرنس منعقد کی جائے گی تاکہ صوبے میں امن و امان کی بحالی کے لیے ایک جامع حکمت عملی تیار کی جا سکے۔گورنر نے وفاقی حکومت سے بھی بات کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ دہشت گردوں کے خلاف مشترکہ اقدامات کیے جا سکیں۔یہ پریس کانفرنس دونوں رہنماؤں کے درمیان صوبے کی سکیورٹی اور سیاسی امور پر تعاون کو ظاہر کرتی ہے، اور دونوں نے صوبے کی موجودہ صورتحال کے حل کے لیے مل کر کام کرنے کا عہد کیا۔