خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کی تیاریاں مکمل؟ اہم فیصلے مذاکرات سے مشروط

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کی تیاریاں مکمل؟ اہم فیصلے مذاکرات سے مشروط

اسلام آباد: خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ سے متعلق انتظامی تیاریوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

ذرائع کے مطابق ممکنہ انتظامی تبدیلیوں کے حوالے سے ہوم ورک مکمل کر لیا گیا ہے، جبکہ حتمی فیصلے کا انحصار حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات پر ہوگا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈپٹی کمشنرز اور سیکریٹریز سمیت اہم انتظامی عہدوں پر تبدیلیوں سے متعلق تیاری مکمل کر لی گئی ہے۔ ریجنل پولیس افسران اور ڈسٹرکٹ پولیس افسران کی تعیناتیوں کے لیے فہرست بھی تیار کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ذرائع کے مطابق صوبے کے 12 اضلاع میں پہلے مرحلے میں ایمرجنسی نافذ کرنے کی تجویز بھی زیرِ غور ہے، تاہم اس حوالے سے تاحال کسی حتمی فیصلے کی تصدیق نہیں ہوئی۔

حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات اہم

ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج نافذ کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے نتائج سے مشروط ہے۔ اگر پاکستان تحریکِ انصاف سمیت اپوزیشن اور وفاقی حکومت کے درمیان مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو ایمرجنسی یا گورنر راج نافذ نہ کرنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔دوسری جانب اس معاملے کے پیشِ نظر وفاقی کابینہ کے ارکان کو اسلام آباد میں موجود رہنے کی ہدایت دیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ کا اجلاس جلد طلب کیے جانے کا امکان ہے۔

وفاقی سطح پر اہم اجلاس متوقع

ذرائع کا کہنا ہے کہ ممکنہ اجلاس میں صدرِ مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور اعلیٰ عسکری حکام کی شرکت متوقع ہے۔ اجلاس میں قومی سلامتی کے اداروں کی رپورٹس کا جائزہ لیے جانے کی بھی اطلاعات ہیں۔تاہم اجلاس کے حتمی شیڈول اور ایجنڈے کے حوالے سے باضابطہ اعلان سامنے آنا باقی ہے۔

پی ٹی آئی قیادت کی اہم ملاقات آج متوقع

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے سینئر رہنما آج وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے ملاقات کریں گے، جس میں صوبے کی سیاسی صورتحال، وفاق کی جانب سے ملنے والے پیغامات اور آئندہ کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ملاقات میں لانگ مارچ کے معاملے پر بھی گفتگو متوقع ہے۔ ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی رہنماؤں میں بیرسٹر گوہر سمیت دیگر اہم شخصیات شامل ہوں گی، جبکہ وزیراعلیٰ اور پارٹی قیادت کی جانب سے آئندہ کے لائحہ عمل سے متعلق اہم فیصلے کیے جانے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔واضح رہے کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ سے متعلق اطلاعات فی الحال ذرائع کے حوالے سے سامنے آئی ہیں۔ حتمی صورتحال حکومتی فیصلے اور سیاسی مذاکرات کے نتائج کے بعد ہی واضح ہو سکے گی۔