سعد رضوی کے گھر سے 14کروڑ کی کرنسی،2 کلو سونا بر آمد

بھارتی سمیت غیرملکی کرنسی بھی شامل،سعد ،انس کا سراغ مل گیا، گرفتاری دیں:پولیس
 لاہور،اسلام آباد،گوجرانوالہ،مریدکے()قانون نافذ کرنے والے اداروں نے سربراہ تحریک لبیک سعد رضوی اور ان کے بھائی انس رضوی کا سراغ لگا لیا،پولیس ذرائع کے مطابق حکام نے دونوں بھائیوں سے کہا ہے کہ وہ خود کو قانون کے حوالے کردیں،اگر انہوں نے خود کو قانون کے حوالے نہ کیا توجلد دونوں کوگرفتار کرلیا جائے گا۔ پنجاب پولیس نے پچھلے دنوں سعد رضوی کیگھر پر چھاپے کے دوران بر آمد ہونے والے سامان کی تفصیل بھی جاری کردی۔پولیس کے مطابق سعد رضوی کیگھر سے چھاپیکے دوران ملکی و غیر ملکی کرنسی، طلائی زیورات، قیمتی گھڑیاں، پرائز بانڈز اور دیگر قیمتی سامان بر آمد ہوا۔نقدی اور زیورت کی مالیت کروڑوں میں ہے، سعد رضوی کیگھر سے 14 کروڑ 44 لاکھ کی پاکستانی کرنسی بر آمد ہوئی۔غیرملکی کرنسی میں 50 ہزار کی بھارتی کرنسی بھی شامل ہے۔جبکہ 2885 یورو، 8592 سعودی ریال، 4250 پاو?نڈز، 2500 ہانگ کانگ ڈالر، 200 کینیڈین ڈالر، 1440 درہم، 5200 شامی کرنسی، 84 ملیشین رنگٹ، ایک امریکی ڈالر اور 25 عراقی دینار بر آمد ہوئے ہیں۔بر آمد غیرملکی کرنسی کی مالیت 25 لاکھ روپے سے زیادہ ہے۔پنجاب پولیس کے مطابق سعد رضوی کیگھر سے 6 کروڑ 34 لاکھ سے زائد مالیت کا سونا چاندی بھی بر آمد ہوا ہے جس میں قریباً دو کلو(1922 گرام )سونا اور 898 گرام چاندی شامل ہے۔پنجاب حکومت کی جانب سے سوال اٹھایا گیا ہے کہ اِن اثاثوں کے ذرائع کیا ہیں اور آیا یہ ’صدقات اور خیرات کا پیسہ تھا؟‘۔ پنجاب حکومت نے کہا کہ ’ایک مدرسے کے مولوی کے گھر سونے کی اینٹیں کہاں سے آئیں؟ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے )نے ریاست مخالف احتجاجات اور تشدد آمیز سرگرمیوں میں ملوث ہونے پر مذہبی جماعت کے خلاف قانونی و مالیاتی کارروائیوں کا آغاز کر دیا،شواہد کی بنیاد پر مذہبی جماعت کے متعدد اور اہم عہدیداران اور کارکنان کے اکاو?نٹس اور اثاثہ جات کی جانچ پڑتال کی جارہی ہے جبکہ ایف آئی اے کی جانب سے متعدد بینک اکاو?نٹس کو منجمد کر دیا گیا ہے جو مبینہ طور پر پر تشدد احتجاجات کے لیے فنڈنگ میں استعمال ہو رہے تھے، ایف آئی اے حکام کے مطابق فنڈنگ اور مالی معاونت میں ملوث اہم افراد کے نام سٹاپ لسٹ میں شامل کرنے کا عمل جاری ہے۔صوبائی فوکل پرسنز نامزد کردئیے گئے، فوری ری ایکشن اور کانٹر میسجنگ، سرکاری ہیلپ لائن 1919 پر فیک نیوز رپورٹ کریں، شناخت خفیہ رہے گی۔مرید کے احتجاج کے دوران سوشل میڈیا پر انتشار پھیلانیوالے افراد کیخلاف بھی کریک ڈاون جاری ہے ، لاہور،قصور،کامونکی،گوجرانوالہ اور شیخوپورہ میں مزید109شر پسندوں کے واٹس ایپ اور فیس بک اکاو?نٹس ٹریس کر لیے گئے شرپسندوں کی گرفتاری کیلئے کریک ڈاو?ن کا دوسرا مرحلہ آج رات سے شروع ہوگا،250سے زائد شرپسندوں کی فہرست مرتب کی جا چکی ہے۔پولیس حکام کے مطابق توڑ پھوڑ کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں ٹی ایل پی رہنما و?ں اور پرتشدد مظاہرین کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔ادھر دوسری جانب احتجاج کے دوران توڑ پھوڑ کے کیس میں لاہور اور گردو نواح میں اب تک مظاہرین کے خلاف پولیس کی مدعیت میں اب تک 20 مقدمات درج کیے جاچکے ہیں۔یہ مقدمات اسلام پورہ، نیوانارکلی،بھاٹی گیٹ، شفیق آباد گوالمنڈی، بادامی باغ، شاہدرہ، شاہدرہ ٹاون، نواں کوٹ اور مریدکے سٹی تھانہ میں درج کئے گئے ہیں جبکہ پولیس 40 افراد کو حراست میں لے چکی ہے۔جبکہ دیگر شہروں میں بھی مقدمات درج کئے گئے ہیں۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور نے ٹی ایل پی آپریشن کیذمہ داران کیخلاف کارروائی اور زخمیوں کے بہتر علاج معالجے کیلئے دائر درخواست پر فریقین سے 23 اکتوبر کو جواب طلب کرلیا۔پولیس نے شیخوپورہ فیکٹری ایریا کے ایس ایچ او شہزاد نواز کی ہلاکت کی ایف آئی آر مذہبی جماعت کے مرکزی قائدین کے خلاف درج کر لی۔پولیس نے اسی جماعت سے منسلک سات مدارس بھی جنوبی پنجاب کے شہر وہاڑی میں سیل کر دئیے۔لاہور کی انسداد دہشتگردی عدالت کے جج منظر علی گل نے ٹی ایل پی کیابراہیم، حسنین، حافظ محمد نعیم، محمد پرویز سمیت 60سے زائد کارکنوں کو جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔ادھر راولپنڈی میں بھی تحریک لبیک کے امیر حافظ سعد حسین رضوی سمیت 21 رہنماو?ں اور 35 نامعلوم افراد کے خلاف تھانہ روات میں انسدادِ دہشت گردی ایکٹ، اقدامِ قتل، ڈکیتی اور عوام کو اکسانے سمیت سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق قاری ابرار نے فائرنگ کی جس سے ایک اہلکار بلٹ پروف جیکٹ کے باعث محفوظ رہا جبکہ قاری دانش اور دیگر نے ایک اہلکار کو تشدد کا نشانہ بنا کر آنسو گیس کے شیل چھین لیے،پولیس نے موقع سے کیلوں والے ڈنڈے، پٹرول بم، ٹی ایل پی کے جھنڈے اور گولیوں کے خول بر آمد کر لیے۔ دوسری طرف فیصل آباد میں تھانہ سول لائن اور جھنگ بازار میں 54 مظاہرین کے خلاف مقدمات درج کیے گئے، تھانہ سول لائن میں 23 نامزد اور 6 نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔تھانہ جھنگ بازار میں 5 نامزد اور 20 نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا، مقدمات میں انسداد دہشت گردی، دفعہ 144 کی خلاف ورزی، روڈ بلاک، ہوائی فائرنگ سمیت دیگر دفعات شامل ہیں۔بورے والا کے تھانہ صدر میں 13 نامزد 200 نامعلوم ملزموں کے خلاف دہشتگردی،اقدام قتل و دیگر سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا۔قصورکے تھانہ مصطفی آباد اور الہ آباد میں بھی مقدمات درج کر لئے گئے رحیم یارخان میں پولیس نے مذہبی جماعت کے ضلعی قائدین سمیت 200سے زائد کارکنوں کے خلاف انسداددہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمات درج کرلیئے‘ 2 گرفتار‘ دیگرکی گرفتاری کیلئے گھروں پرچھاپیمارے گئے ،احتجاج میں شریک زیادہ تر عہدیدارکارکن روپوش ہوگئے۔ دریں اثنا تحریک لبیک پاکستان نے 17 اکتوبر کے احتجاج کی کال واپس لے لی۔ یہ اعلان رکن مرکزی شوریٰ مفتی وزیر احمد نے اپنے ویڈیو پیغام میں کیا، مفتی وزیر احمد نے کہا کہ 17 اکتوبر کو شہدا ٹی ایل پی اور شہدا غزہ کے ایصال ثواب کے طور پر منائیں گے۔ تمام اراکین شوریٰ محفوظ ہیں، ان سے مشاورت کے بعد احتجاج کی کال واپس لینے کا اعلان کیا ہے،شہدا، زخمیوں اور لاپتا کارکنوں کے معاملات کی مصروفیت کے باعث 17 اکتوبر کی کال موخر کر رہے ہیں۔منگل کو کسی بھی جگہ پر کوئی احتجاج رپورٹ نہیں ہوا ہے۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے بیان جاری کیا ہے کہ صوبائی دارالحکومت لاہور سے نکلنے والی تمام موٹرویز بشمول اسلام آباد، سیالکوٹ اور عبدالحکیم کھلی ہیں اور ان پر ٹریفک رواں ہے۔اسی طرح جی ٹی روڈ پر بھی ٹریفک رواں ہے۔ مریدکے شہر میں بھی سڑک کو کلئیر کروا لیا گیا ہے جبکہ ضلعی انتظامیہ نے سڑک پر موجود جلی ہوئی گاڑیاں ہٹا دی ہیں۔مریدکے ضلعی انتظامیہ کے مطابق مظاہرین نے ستھرا پنجاب پروجیکٹ کی کئی گاڑیوں کو آگ لگائی تھی جس کے بعد نقصان کے تخمینے کا اندازہ لگایا جا رہا ہے۔ لاہور سیف سٹی انتظامیہ کے مطابق صوبائی دارالحکومت لاہور میں صرف ایک سمن آباد سے چوک یتیم خانہ پر سڑک بند ہے اس کے علاوہ صوبائی دارالحکومت میں کسی اور جگہ بھی کسی قسم کی ٹریفک کی بندش نہیں ہے۔اسی طرح پنجاب ماس ٹرانسپورٹ اتھارٹی نے بھی لاہور میں میٹرو بس، اورنج لین ٹرین، سپیڈو بس اور الیکٹرو بس کے آپریشنز بحال کر دئیے ہیں۔ یہ تمام سروسز جمعے سے تعطل کا شکار تھیں۔ راولپنڈی میں میٹرو بس جزوی طور پر بحال کر دی گئی ہے۔ تاہم اب بھی جڑواں شہروں اور مارچ کے مجوزہ روٹ پر پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری تعینات ہے۔اسلام آباد ٹریفک پولیس کے مطابق جناح سکوائر کو بدستور ٹریفک کے لیے بند رکھا گیا ہے، جبکہ ریڈ زون میں داخلے کے لئے صرف مارگلہ روڈ کو کھلا رکھا گیا ہے۔اس کے علاوہ اسلام آباد کی آئی جے پی روڈ پر کنٹینرز لگا کر آمد و رفت بدستور بند ہے، جبکہ مری روڈ پر فیض آباد پل کے اوپر بھی کنٹینرز رکھ کر ٹریفک معطل کر دی گئی ہے۔اسلام آباد کے دیگر تمام راستے ٹریفک کیلئے کھلے ہیں۔ دوسری جانب راولپنڈی ٹریفک پولیس کے مطابق شہر کی تمام شاہراہوں پر ٹریفک معمول کے مطابق رواں دواں ہے، تاہم فیض آباد انٹرچیینج بند ہونے کے باعث ٹریفک کو ڈبل روڈ کی جانب موڑا گیا ہے۔