لاہور(آئی این پی )لاہور ہائیکورٹ میں سربراہ تحریکِ لبیک پاکستان حافظ سعد حسین رضوی اور ان کے بھائی حافظ انس حسین رضوی کی بازیابی سے متعلق دائر درخواست پر بار بار احکامات کے باوجود وزارتِ داخلہ اپنی جامع رپورٹ پیش کرنے میں مکمل ناکام رہی ہے۔ لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس جواد ظفر کی جانب سے تحریکِ لبیک پاکستان کے سربراہ کی مبینہ گمشدگی اور بازیابی کے کیس کی سماعت کی گئی، سماعت کے دوران وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے عدالت عالیہ کے سامنے اپنی رپورٹ جمع کروائی۔لاہور ہائیکورٹ کے روبرو اپنی رپورٹ میں ایف آئی اے حکام نے موقف اختیار کیا کہ دونوں رہنماں کے خلاف منی لانڈرنگ کا کیس درج اور موجود ہے اور وہ ادارے کو قانونی طور پر مطلوب ہیں، تاہم ایف آئی اے نے واضح کیا کہ سعد رضوی اور انس رضوی ان کی کی تحویل میں موجود نہیں ہیں۔دوسری جانب وزارتِ داخلہ کی طرف سے عدالت کے احکامات کے باوجود رپورٹ جمع نہ کرائے جانے پر سخت برہمی کا اظہار کیا گیا، عدالتِ عالیہ نے وزارتِ داخلہ کو دوبارہ باضابطہ نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ ایک ہفتے کے اندر رپورٹ طلب کر لی ہے کہ دونوں رہنما اس وقت کہاں ہیں اور کس ادارے کی تحویل میں ہیں