اڈیالہ جیل کے قیدی کی بانی پی ٹی آئی جیسی سہولیات کی درخواست پر فیصلہ ملتوی

اڈیالہ جیل کے قیدی کی بانی پی ٹی آئی جیسی سہولیات کی درخواست پر فیصلہ ملتوی

اسلام آباد ہائیکورٹ نے اڈیالہ جیل میں قید قتل کیس کے مجرم محمد عرفان کی جانب سے بانی پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کو دی جانے والی سہولیات فراہم کرنے کی درخواست پر ابتدائی دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔

سماعت جسٹس محمد اعظم خان نے کی۔ دورانِ سماعت عدالت نے ریمارکس دیے کہ"اس پر ہم آرڈر جاری کریں گے۔"درخواست گزار مجرم محمد عرفان کی جانب سے وکیل نوید ملک ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔انہوں نے مؤقف اپنایا کہ ان کا موکل قتل کے مقدمے میں 25 سال قید کی سزا کاٹ رہا ہے اور کئی بار سپرنٹنڈنٹ جیل کو سپیریئر کلاس سہولیات دینے کی درخواست دی گئی، مگر کوئی سہولت فراہم نہیں کی گئی۔وکیل نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو جیل میں نہ صرف بہترین سہولیات حاصل ہیں بلکہ انہیں ملاقاتوں کی اجازت بھی دی جاتی ہے، جبکہ ان کے موکل کو ان سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے۔

درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ جس طرح کی سہولیات بانی پی ٹی آئی کو دی گئی ہیں، وہی سہولیات محمد عرفان کو بھی فراہم کی جائیں۔درخواست میں سیکریٹری داخلہ، سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل، چیف کمشنر اسلام آباد اور ہوم ڈیپارٹمنٹ کو فریق بنایا گیا ہے۔