105 تحصیلوں میں موٹر بائیک ایمبولنس سروس کا جلد آغاز

 ابتدائی طور پر دو سالہ منصوبہ شروع ہوگا جس پر 98 کروڑ 40 لاکھ روپے لاگت آئیگی ،مقامی ریسکیو سکائوٹ کی بھرتیاں ہونگی 
 لاہور (خصوصی رپورٹ )ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز سے باہر پنجاب کی 105 تحصیلوں میں موٹر بائیک ایمبولنس سروس شروع کی جائیگی۔ دستاویزات کے مطابق ابتدائی طور پر دو سالہ منصوبہ شروع ہوگا جس پر 98 کروڑ 40 لاکھ روپے لاگت آئیگی۔ایمرجنسی سروسز سے ٹرینڈ مقامی ریسکیو سکائوٹ کی بھرتیاں کی جائیں گی۔1050 ایمرجنسی سکائوٹس کو ماہانہ 60 ہزار اعزازیہ دیا جائیگا۔ایمرجنسی سکائوٹس ایمرجنسی سروسز کے لیے اپنی ذاتی موٹر سائیکل استعمال کریں گے۔بھرتیوں کے دوران ای بائیکس رکھنے والوں کو ترجیح دی جائیگی۔اہلیت کے لیے پیرامیڈیکل ، ہیلتھ سیفٹی ڈپلومہ،ریسکیو سکائوٹ یا کیڈر کورس سرٹیفکیٹ لازم ہوگا۔ریسکیو سکائوٹس کو مزید ایک ماہ کی ٹریننگ کرا کر فائنل سلیکشن کی جائیگی۔حکومت کی جانب سے یونیفارم ، جوتے، فسٹ ایڈ کٹس کی فراہمی کی جائیگی۔ریسکیو سکائوٹس کو ایمرجنسی مینجمنٹ اینڈ ڈسپیچ سسٹم سے مانیٹر کیا جائیگا۔ریسکیو سکائوٹ پورٹل اور مانیٹرنگ سیل بھی قائم ہوگا۔دیہات میں ریسکیو سروسز کی بڑھتی ڈیمانڈ کے پیش نظر ڈسٹرک ایمرجنسی آفیسر بارہا درخواستوں پر منصوبہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ریسکیو سکائوٹس کو فراہم کی جانیوالی کٹس میں بی پی آپریٹس، ٹارچ،سٹیتھوسکوپ،گلوکومیٹر،پلس آکسیمیٹر، تھرمامیٹر ،نیبلائزر،سی پی آر ماسک سمیت دیگر آلات شامل ہوں گے،اب تک صوبہ بھر میں ریسکیو ایمرجنسی بائیک سروس سے چالیس لاکھ سے زائد افراد کو ایمرجنسی سروسز فراہم کی جا چکی ہیں۔صوبہ بھر میں چونیاں،کوٹ رادھا کشن، پتوکی، مریدکے، پسرور،سمبڑیال، رینالہ خورد، چشتیاں، روکھان، جتوئی ، علی پور سمیت 105 تحصیلوں میں سروسز کا آغاز ہوگا۔