رمضان — ضبطِ نفس سے عدلِ معاشرہ تک

ملک محمد اسحاق
رمضان المبارک محض عبادات کا مہینہ نہیں، یہ انسان کی داخلی تعمیر اور معاشرے کی اجتماعی تطہیر کا موسم ہے۔ یہ وہ ساعتِ مبارک ہے جب فرد اپنے باطن میں جھانکتا ہے اور قوم اپنے اجتماعی ضمیر کا محاسبہ کرتی ہے۔ روزہ ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ انسان صرف خواہشات کا پیکر نہیں، امانتِ الٰہی کا حامل بھی ہے۔ یہی امانت اسے باقی مخلوقات سے ممتاز کرتی ہے۔

اسلام نے عبادت کو محض رسوم تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے کردار سازی اور معاشرتی اصلاح کا ذریعہ بنایا۔ روزہ اسی فلسفے کی عملی تصویر ہے۔ جب ایک صاحبِ ایمان طلوعِ فجر سے غروبِ آفتاب تک حلال چیزوں سے بھی اجتناب کرتا ہے تو دراصل وہ اپنے نفس کو پیغام دیتا ہے کہ تم میرے مالک نہیں، میں تمہارا نگران ہوں۔ یہ ضبطِ نفس ہی تقویٰ کی بنیاد ہے، اور تقویٰ ہی وہ روشنی ہے جو انسان کو اندھیروں میں راستہ دکھاتی ہے۔

قرآنِ حکیم نے روزے کا مقصد واضح الفاظ میں بیان کیا: ‘‘لعلکم تتقون’’ — تاکہ تم میں پرہیزگاری پیدا ہو۔ گویا رمضان کا اصل ہدف بھوک یا پیاس نہیں بلکہ اخلاقی بیداری ہے۔ تقویٰ کا مطلب محض خوف نہیں، بلکہ شعوری احتساب ہے۔ وہ کیفیت جس میں انسان تنہائی میں بھی وہی کرے جو محفل میں کرتا ہے، اور اندھیرے میں بھی وہی سوچے جو روشنی میں سوچتا ہے۔

رمضان کی روح ہمیں اعتدال سکھاتی ہے۔ آج کا انسان افراط و تفریط کے درمیان جھول رہا ہے۔ کہیں اسراف ہے تو کہیں محرومی، کہیں دولت کا انبار ہے تو کہیں فاقوں کی قطاریں۔ روزہ ہمیں بھوک کا احساس دلا کر اس طبقاتی خلیج کی طرف متوجہ کرتا ہے جسے ہم روزمرہ کی آسائشوں میں بھول جاتے ہیں۔ جب ایک صاحبِ حیثیت شخص پیاس محسوس کرتا ہے تو اسے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ مزدور جو دن بھر دھوپ میں محنت کرتا ہے، اس کی کیفیت کیا ہوگی۔

یہی احساس رمضان کو سماجی انقلاب کا ذریعہ بناتا ہے۔ افطار کا دسترخوان صرف کھانے کی تقسیم نہیں، دلوں کی نزدیکی کا استعارہ ہے۔ اسلام نے روزہ دار کو افطار کرانے کی فضیلت بیان کر کے دراصل معاشرے میں سخاوت کا دروازہ کھولا۔ یہ پیغام دیا کہ عبادت تنہا کافی نہیں، خدمت بھی لازم ہے۔ اگر ہمارے شہروں میں کوئی بھوکا سو جائے اور ہم صرف اپنی عبادتوں پر مطمئن رہیں تو یہ روحِ رمضان کے خلاف ہے۔

رمضان کا ایک اہم پہلو زکوٰ? اور صدقات ہیں۔ زکوٰ? اسلامی معاشی نظام کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ یہ محض خیرات نہیں بلکہ ایک منظم معاشی اصول ہے جو دولت کی گردش کو یقینی بناتا ہے۔ جب مال چند ہاتھوں میں سمٹ جائے تو حسد، بیچینی اور سماجی انتشار جنم لیتا ہے۔ زکوٰ? اس ارتکاز کو توڑ کر معاشرے میں توازن قائم کرتی ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ دولت اصل میں اللہ کی عطا ہے اور اس میں محتاج کا حق شامل ہے۔

آج عالمی معیشت عدم مساوات کے بحران سے دوچار ہے۔ دولت اور غربت کے درمیان بڑھتا ہوا فرق معاشرتی استحکام کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔ ایسے میں رمضان کا پیغام پہلے سے زیادہ اہم ہو جاتا ہے۔ اگر اہلِ ثروت دل کھول کر زکوٰ? اور صدقات ادا کریں، اگر ادارے شفافیت کے ساتھ مستحقین تک وسائل پہنچائیں، تو رمضان واقعی سماجی عدل کا مہینہ بن سکتا ہے۔

سائنسی اعتبار سے بھی روزے کے فوائد مسلمہ ہیں۔ جدید طبّی تحقیق نے وقفے وقفے سے کھانا چھوڑنے کے مثبت اثرات کو تسلیم کیا ہے۔ خلیاتی سطح پر جسم خود کو مرمت کرتا ہے، میٹابولزم بہتر ہوتا ہے، اور ذہنی یکسوئی میں اضافہ ہوتا ہے۔ مگر اسلام کا تصورِ روزہ محض جسمانی صحت تک محدود نہیں۔ یہ روح اور جسم دونوں کی ہم آہنگی کا نام ہے۔ اگر افطار اسراف اور نمود و نمائش کا مظہر بن جائے تو صحت اور روحانیت دونوں متاثر ہوتی ہیں۔

رمضان ہمیں سادگی سکھاتا ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ زندگی کی اصل خوبصورتی قناعت میں ہے، نہ کہ کثرت میں۔ جب ہم سادہ دسترخوان پر بیٹھ کر شکر ادا کرتے ہیں تو دل میں عاجزی پیدا ہوتی ہے۔ یہی عاجزی انسان کو دوسروں کے دکھ درد کا احساس دلاتی ہے۔ اور یہی احساس ایک بہتر معاشرے کی بنیاد رکھتا ہے۔

اس مہینے کی راتیں بھی اپنی ایک معنویت رکھتی ہیں۔ تراویح، تلاوتِ قرآن اور شبِ قدر کی تلاش دراصل انسان کے اندر امید کی شمع روشن کرتی ہے۔ شبِ قدر کا پیغام یہ ہے کہ ایک لمحہ بھی اگر خلوص سے گزارا جائے تو وہ ہزار مہینوں پر بھاری ہو سکتا ہے۔ گویا معیار وقت کا نہیں، نیت کا ہے۔

رمضان ہمیں معافی کا درس بھی دیتا ہے۔ دلوں کی کدورتیں ختم کرنا، رنجشوں کو دفن کرنا اور تعلقات کو بحال کرنا اسی مہینے کی روح ہے۔ اگر ہم روزہ رکھ کر بھی دل میں نفرت پالیں تو مقصد فوت ہو جاتا ہے۔ اسلام نے روزہ دار کو زبان اور رویے کی حفاظت کا حکم دیا ہے۔ جھوٹ، غیبت اور بدکلامی سے پرہیز کیے بغیر روزہ ادھورا ہے۔

یہ مہینہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اصل کامیابی نفس کی فتح میں ہے۔ جو شخص اپنی خواہشات پر قابو پا لے وہی حقیقی معنوں میں آزاد ہے۔ دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ بڑی تبدیلیاں اندر سے شروع ہوتی ہیں۔ جب فرد بدلتا ہے تو معاشرہ بدلتا ہے، اور جب معاشرہ بدلتا ہے تو تاریخ کا رخ بدل جاتا ہے۔

آج ہمیں ضرورت ہے کہ رمضان کو محض تقویمی رسم نہ بنائیں بلکہ اسے اصلاحِ احوال کا ذریعہ بنائیں۔ گھروں میں اسراف کم کریں، مساجد میں صفائی اور نظم کو بہتر بنائیں، بازاروں میں دیانت کو فروغ دیں، اور اداروں میں شفافیت کو یقینی بنائیں۔ اگر ہم نے رمضان کے پیغام کو عملی زندگی میں اتار لیا تو یہ مہینہ ہمارے لیے انفرادی اور اجتماعی نجات کا سبب بن سکتا ہے۔

رمضان ہمیں یاد دلاتا ہے کہ طاقت ضبط میں ہے، دولت تقسیم میں ہے، اور عزت خدمت میں ہے۔ یہی وہ پیغام ہے جو اسلام نے چودہ سو برس قبل دیا اور جو آج بھی اتنا ہی تازہ ہے جتنا اس دن تھا جب پہلی بار یہ اعلان ہوا۔

آخر میں سوال یہ نہیں کہ ہم نے کتنے روزے رکھے، بلکہ یہ ہے کہ روزوں نے ہمیں کتنا بدلا۔ اگر ہماری آنکھوں میں رحم، ہمارے ہاتھوں میں سخاوت، اور ہمارے دلوں میں تقویٰ پیدا ہو گیا تو سمجھ لیجیے کہ رمضان کامیاب ہو گیا۔ ورنہ بھوک اور پیاس محض جسمانی مشقت رہ جائے گی۔

رمضان دراصل ایک دعوت ہے — خود احتسابی کی، خدمت کی، اور اللہ سے تعلق مضبوط کرنے کی۔ جو اس دعوت کو قبول کر لے، وہ نہ صرف اپنے لیے بلکہ پورے معاشرے کے لیے روشنی کا مینار بن سکتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اس مبارک مہینے کی حقیقی روح کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔