محمد راشد تبسم
تصور کیجیے کہ ایک دن آپ کو اپنا گھر، روزگار، سکول اور برسوں کی یادیں چھوڑ کر کسی نامعلوم مقام کی طرف ہجرت کرنا پڑ جائے۔ دنیا بھر کے کروڑوں مہاجرین اسی تلخ حقیقت کا سامنا کر رہے ہیں۔
ہر سال 20 جون کو دنیا بھر میں عالمی یومِ مہاجرین منایا جاتا ہے۔ یہ دن ان لاکھوں افراد کی ہمت، صبر اور استقامت کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے منایا جاتا ہے جو جنگوں، مسلح تنازعات، ظلم و ستم، سیاسی عدم استحکام اور دیگر سنگین حالات کے باعث اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ یہ دن صرف ایک عالمی تقریب نہیں بلکہ دنیا کے لیے ایک اہم یاد دہانی بھی ہے کہ مہاجرین کا مسئلہ آج کے دور کے بڑے انسانی چیلنجز میں شامل ہو چکا ہے۔ دنیا بھر میں جبری نقل مکانی کے بڑھتے ہوئے رجحان سے واضح ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ اب کسی ایک خطے یا چند ممالک تک محدود نہیں رہا بلکہ ایک عالمی انسانی بحران کی صورت اختیار کر چکا ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے مطابق 2025 کے اختتام تک دنیا بھر میں جبری طور پر بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد تقریباً 117.8 ملین تک پہنچ چکی تھی۔ ان میں پناہ گزین، اندرونِ ملک بے گھر افراد، سیاسی پناہ کے متلاشی اور دیگر متاثرہ طبقات شامل ہیں۔ ان متاثرین میں تقریباً 39 فیصد بچے ہیں جن کا بچپن، تعلیم اور مستقبل غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مہاجرین کے مسئلے کو صرف اعدادوشمار تک محدود نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ ان کے پیچھے لاکھوں خاندانوں کی جدائی، محرومی اور نئی زندگی کی جدوجہد کی داستانیں پوشیدہ ہیں۔
ہجرت اور نقل مکانی انسانی تاریخ کا ایک پرانا مگر مسلسل جاری رہنے والا المیہ ہے۔ مختلف ادوار میں جنگوں، مذہبی تعصب، سیاسی جبر، معاشی بحرانوں اور قدرتی آفات نے انسانوں کو اپنے علاقے چھوڑنے پر مجبور کیا۔ موجودہ دور میں اس مسئلے کی شدت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ حالیہ برسوں میں سوڈان، یوکرین، غزہ، شام اور افغانستان میں جاری تنازعات نے لاکھوں افراد کو بے گھر کیا ہے جبکہ غزہ اور سوڈان کے بحرانوں نے انسانی المیوں کی نئی داستانیں رقم کی ہیں۔
دوسری جانب موسمیاتی تبدیلیاں بھی نقل مکانی کی ایک بڑی وجہ بن کر سامنے آ رہی ہیں۔ عالمی اداروں کے مطابق صرف 2024 کے دوران تقریباً 45.8 ملین افراد سیلاب، طوفان، خشک سالی اور دیگر قدرتی آفات کے باعث اپنے گھروں سے محروم ہوئے۔ ماہرین کے مطابق اگر ماحولیاتی تبدیلیوں کی رفتار برقرار رہی تو آنے والے برسوں میں موسمیاتی مہاجرین کی تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔
ہجرت کے اثرات صرف ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونے تک محدود نہیں ہوتے بلکہ یہ انسانی زندگی کے ہر پہلو کو متاثر کرتے ہیں۔گھر، روزگار اور سماجی ماحول سے محرومی مہاجرین کو ذہنی دباؤ اور غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیتی ہے۔ بچوں کی تعلیم متاثر ہوتی ہے جبکہ خواتین اور بزرگوں کو اضافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ روزگار، بنیادی سہولیات اور قانونی دستاویزات تک محدود رسائی ان مسائل کو مزید بڑھا دیتی ہے۔
اسلامی تعلیمات میں بھی مہاجرین اور پناہ کے طلبگار افراد کے حقوق کو خاص اہمیت دی گئی ہے۔ قرآن مجید میں مہاجرین اور ان کی مدد کرنے والوں کی تعریف کی گئی ہے جبکہ ہجرت مدینہ اسلامی تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔ ریاست مدینہ میں مہاجرین اور انصار کے درمیان بھائی چارے کی جو مثال قائم کی گئی، وہ آج بھی انسانیت، ہمدردی اور سماجی ذمہ داری کا بہترین نمونہ سمجھی جاتی ہے۔
مہاجرین کی میزبانی اور انسانی ہمدردی کے حوالے سے پاکستان کا کردار نہایت اہم اور قابل قدر رہا ہے۔ پاکستان گزشتہ چار دہائیوں سے زائد عرصے سے لاکھوں مہاجرین کی میزبانی کر رہا ہے۔ خصوصاً 1979 میں افغانستان میں جنگ کے آغاز کے بعد سے پاکستان دنیا کے بڑے مہاجر میزبان ممالک میں شمار ہوتا رہا ہے۔ مختلف اندازوں کے مطابق اس وقت پاکستان میں 30 لاکھ سے زائد افغان باشندے موجود ہیں جن میں تقریباً 13 لاکھ 50 ہزار رجسٹرڈ پناہ گزین شامل ہیں۔
پاکستان کی مہاجر دوستی صرف افغان مہاجرین تک محدود نہیں رہی۔ مختلف ادوار میں کشمیریوں، روہنگیا مسلمانوں اور دیگر متاثرہ برادریوں کو بھی پاکستان میں پناہ دی گئی۔ کراچی میں روہنگیا برادری کی بڑی تعداد کئی دہائیوں سے آباد ہے جبکہ آزاد جموں و کشمیر میں بھی پناہ گزین خاندان مقیم ہیں۔ محدود وسائل کے باوجود پاکستان نے ان افراد کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے کی کوشش کی ہے۔ معاشی مشکلات، مہنگائی اور قدرتی آفات کے باوجود مہاجرین کے لیے انسانی ہمدردی کا رویہ برقرار رکھا گیا۔
مہاجرین کی میزبانی جہاں ایک انسانی خدمت ہے وہیں اس کے ساتھ کئی عملی چیلنجز بھی وابستہ ہیں۔ پاکستان میں مقامی آبادی اور مہاجرین کے درمیان سماجی و ثقافتی ہم آہنگی کی متعدد مثالیں موجود ہیں۔ حکومت پاکستان اور بین الاقوامی اداروں نے مختلف منصوبے شروع کیے جن کا مقصد مہاجرین اور میزبان آبادی دونوں کی ضروریات کو پورا کرنا تھا۔ بعض ماہرین کے مطابق مہاجرین محنت، کاروبار اور ہنر کے ذریعے مقامی معیشت میں مثبت کردار بھی ادا کرتے ہیں۔
اس کے باوجود وسائل پر دباؤ ایک حقیقت ہے۔ پاکستان میں تقریباً 26 ملین بچے پہلے ہی سکولوں سے باہر ہیں جن میں پانچ لاکھ کے قریب مہاجر بچے بھی شامل ہیں۔ صحت، تعلیم، روزگار اور رہائش کے شعبوں میں بڑھتی ہوئی ضروریات حکومتی اداروں کے لیے بڑا چیلنج ہیں۔ مہاجرین کو قانونی روزگار، بینکنگ سہولیات اور دستاویزات کے حصول میں مشکلات کا سامنا رہتا ہے، جس کے باعث بہت سے افراد غیر رسمی شعبوں میں کم اجرت پر کام کرنے پر مجبور ہیں۔
درحقیقت مہاجرین کے حقوق کا تحفظ صرف میزبان ممالک کا نہیں بلکہ پوری دنیا کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق دنیا کے تقریباً 68 فیصد مہاجرین کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں مقیم ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سب سے بڑا بوجھ محدود وسائل رکھنے والے ممالک اٹھا رہے ہیں۔ ایسی صورتحال میں ترقی یافتہ ممالک اور بین الاقوامی اداروں کو مالی اور فنی تعاون بڑھانا چاہیے۔
مہاجرین کے مسئلے کا دیرپا حل اسی صورت ممکن ہے جب ان کی وطن واپسی اپنی مرضی، مکمل تحفظ اور عزت کے ساتھ ہو۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ان کے آبائی ممالک میں امن قائم ہو، حالات بہتر ہوں اور روزگار کے مواقع دستیاب ہوں۔ ساتھ ہی دیگر ممالک میں آبادکاری کے پروگراموں کو بھی مزید مؤثر اور وسیع بنانے کی ضرورت ہے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ عالمی سطح پر آبادکاری کی موجودہ شرح ضرورت کے
مقابلے میں بہت کم ہے اور صرف 8 فیصد تک محدود ہے۔
عالمی یوم مہاجرین ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہمدردی، احترام اور باہمی تعاون ہی انسانیت کی اصل بنیاد ہیں۔ مہاجرین کے حقوق، تعلیم، صحت اور باوقار زندگی کے مواقع کا تحفظ ہر مہذب معاشرے کی ذمہ داری ہے۔ کوئی بھی شخص خوشی سے اپنا گھر اور وطن نہیں چھوڑتا بلکہ ہجرت اکثر مجبوری اور بقا کی جدوجہد کا نتیجہ ہوتی ہے۔
یہ دن اس حقیقت کو بھی اجاگر کرتا ہے کہ انسانی جان کی حرمت ہر سیاسی مفاد اور سرحدی تنازع سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ پاکستان نے گزشتہ کئی دہائیوں سے مہاجرین کی میزبانی کر کے انسانیت دوستی کی روشن مثال قائم کی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ دنیا ایسے پائیدار حل تلاش کرے جو تعلیم، روزگار، خود انحصاری اور انسانی وقار کو فروغ دیں۔ہر مہاجر کے ہاتھ میں صرف ایک سفری بیگ نہیں ہوتا، بلکہ اس کے ساتھ بچھڑے ہوئے گھر، ادھورے خواب اور بہتر مستقبل کی امید بھی سفر کرتی ہے۔ عالمی یومِ مہاجرین ہمیں یاد دلاتا ہے کہ پناہ کی تلاش میں نکلنے والے یہ لوگ بوجھ نہیں بلکہ انسان ہیں، اور انسانیت کا اصل امتحان یہی ہے کہ ہم ان کے ساتھ کیسا سلوک کرتے ہیں۔