راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت (ATC) نے پاکستان تحریک انصاف (PTI) کی رہنما کنول شوزب کی جانب سے دائر بیرونِ ملک جانے کی اجازت کی درخواست مسترد کر دی ہے۔
کیس کی تفصیلات:
سماعت کی صدارت: انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے کی۔درخواست: کنول شوزب نے عدالت سے بیرونِ ملک سفر کرنے کی اجازت مانگی تھی۔
پراسیکیوشن کے دلائل:
پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے عدالت کو آگاہ کیا کہ کنول شوزب 9 مئی کے واقعات سے متعلق 11 مقدمات میں نامزد ہیں۔ان مقدمات میں سے ایک کیس میں فردِ جرم (چارج فریم) ہو چکی ہے جبکہ باقی میں ہونا باقی ہے۔تمام مقدمات میں چالان کی نقول ملزمان کو فراہم کی جا چکی ہیں۔پراسیکیوٹر نے مؤقف اختیار کیا کہ کنول شوزب کے بیرونِ ملک جانے سے ٹرائل کی کارروائی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
عدالتی فیصلہ:
فریقین کے دلائل سننے کے بعد، جج امجد علی شاہ نے کنول شوزب کی بیرونِ ملک جانے کی اجازت کی درخواست خارج کر دی۔عدالت نے فیصلہ دیا کہ ان مقدمات میں ٹرائل کی اہمیت کے پیش نظر ملزمہ کو بیرونِ ملک جانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
پس منظر:
9 مئی 2023 کو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں پرتشدد مظاہرے ہوئے تھے۔ ان مظاہروں میں عسکری تنصیبات، خاص طور پر جی ایچ کیو (GHQ) اور کور کمانڈر ہاؤس لاہور پر حملے کیے گئے۔ کنول شوزب سمیت کئی رہنما ان مقدمات میں نامزد ہیں۔