حکومت سندھ نے نوکری پیشہ خواتین کو مفت پنک اسکوٹر فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
سندھ کے سینئر وزیر ٹرانسپورٹ، شرجیل انعام میمن نے یلو لائن بی آر ٹی کے جاری تعمیراتی کام کا دورہ کیا اور منصوبے کی پیش رفت کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر محکمہ ٹرانسپورٹ کے سیکریٹری اسد ضامن، پروجیکٹ ڈائریکٹر یلو لائن ضمیر عباسی اور دیگر متعلقہ حکام موجود تھے۔ کنسلٹنٹس نے منصوبے کی پیش رفت اور مشکلات کے بارے میں سینئر وزیر کو بریفنگ دی۔
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ یلو لائن بی آر ٹی کی تکمیل میں کسی قسم کی تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، اور اس منصوبے کو مئی 2025 تک مکمل کیا جائے گا، یعنی اس منصوبے کو مقررہ مدت سے پانچ ماہ قبل مکمل کر لیا جائے گا۔وزیر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سندھ عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں فراہم کرنے کے لیے مسلسل محنت کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یلو لائن بی آر ٹی کراچی کے شہریوں کے لیے اسٹیٹ آف دی آرٹ منصوبہ ہے جس کی تکمیل میں کچھ چیلنجز ہیں، جیسے یوٹیلیٹی مسائل، لیکن حکومت اس کے حل کے لیے پرعزم ہے۔
ریڈ لائن بی آر ٹی کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ کچھ مسائل سول ایوی ایشن، واٹر بورڈ اور کے فور کی وجہ سے درپیش ہیں، تاہم یہ جلد حل کر لیے جائیں گے۔وزیر نے گرین لائن کے کرایوں میں اضافے کا انکار کرتے ہوئے کہا کہ اس کے بجائے عوامی سفری سہولتوں میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔خواتین کے لیے خصوصی اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے شرجیل انعام میمن نے بتایا کہ نوکری پیشہ خواتین کے لیے پنک اسکوٹر فراہم کیے جائیں گے، جس سے خواتین کو محفوظ اور آرام دہ سفری سہولتیں ملیں گی۔انہوں نے مزید کہا کہ پنک ٹیکسی سروس بھی جلد شروع کی جائے گی، اور "آئی ورک فار سندھ" ایپ اور پورٹل کے ذریعے بے روزگار نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔شرجیل انعام میمن نے کہا کہ یہ تمام منصوبے کراچی کے عوام کے لیے ہیں اور ان کی بروقت تکمیل کی جائے گی تاکہ شہر میں جدید سفری سہولتیں دستیاب ہوں۔