ویب ڈیسک: سندھ حکومت کی جانب سے خواتین کو مفت الیکٹرک اسکوٹیز فراہم کرنے کے لیے اگلے ماہ قرعہ اندازی کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔
یہ اعلان سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کی زیر صدارت ہونے والے اعلیٰ سطح اجلاس میں کیا گیا، جس میں سندھ کے بڑے ٹرانسپورٹ منصوبوں کی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں بتایا گیا کہ پہلے مرحلے میں ایک ہزار خواتین کو الیکٹرک اسکوٹیز فراہم کرنے کی تیاری مکمل کرلی گئی ہے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ جون میں ای وی اسکوٹی کے ساتھ ای وی ٹیکسی منصوبے پر بھی کام شروع کیا جائے گا تاکہ پبلک ٹرانسپورٹ کے متبادل اور جدید ذرائع شہریوں کو فراہم کیے جاسکیں۔پروجیکٹ ڈائریکٹر یلو لائن نے بتایا کہ جام صادق پل کی تعمیر مقررہ وقت سے پہلے جون 2025 تک مکمل کرلی جائے گی، جبکہ ڈیپو ون اور ڈیپو ٹو کی تعمیر بھی تیزی سے جاری ہے۔ سی ای او ٹرانس کراچی فواد غفار سومرو نے ریڈ لائن بی آر ٹی منصوبے کی پیش رفت پر بریفنگ دی اور بتایا کہ ڈیپو، اسٹیشنز اور بائیو گیس پلانٹ کی تعمیر کا کام جاری ہے۔
شرجیل میمن نے متعلقہ اداروں کو ہدایت دی کہ تمام منصوبے وقت پر مکمل کیے جائیں اور شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جام صادق پل کی قبل از وقت تکمیل خوش آئند ہے اور سندھ کے مختلف اضلاع میں کم از کم 500 نئی بسوں کی فوری ضرورت ہے تاکہ شہری و دیہی علاقوں میں ٹرانسپورٹ کے مسائل ختم کیے جاسکیں۔اجلاس میں ای وی ٹیکسی اور ای وی اسکوٹی منصوبوں پر بھی غور کیا گیا، جس پر صوبائی وزیر نے کہا کہ گرین لائن بی آر ٹی منصوبے کے انتظامات حکومت سندھ کے حوالے کرنے سے یومیہ سواریوں کی تعداد 50 ہزار سے بڑھ کر 61 ہزار ہوگئی ہے۔ انہوں نے شہریوں کو پبلک ٹرانسپورٹ کو ترجیح دینے پر خوشی کا اظہار کیا۔یہ منصوبے سندھ کی عوام کو جدید، محفوظ اور قابل اعتماد ٹرانسپورٹ فراہم کرنے کے لیے اہم قدم ہیں، اور اس سے نہ صرف خواتین کو خودمختاری ملے گی بلکہ پورے شہر میں ٹریفک اور آلودگی میں بھی کمی آئے گی۔