سندھ کے سینیئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں جاری ترقیاتی منصوبوں اور سماجی اصلاحات کے حوالے سے اہم اعلان کیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت سندھ نے ملازمت پیشہ خواتین اور طالبات کے لیے الیکٹرک بائیکس کی تعداد میں اضافہ کرنے کی منظوری دے دی ہے تاکہ خواتین کی آمدورفت اور روزمرہ کے امور میں سہولت فراہم کی جا سکے۔اس کے علاوہ، شرجیل میمن نے سندھ کے بڑے ہاؤسنگ پروگرام ایس پی ایچ ایف کا ذکر کیا، جسے انہوں نے ایک سماجی انقلاب قرار دیا ہے۔ اس پروگرام کے تحت اب تک 20 لاکھ افراد کی ویریفکیشن مکمل ہو چکی ہے، 15 لاکھ افراد کے اکاؤنٹس کھولے جا چکے ہیں، اور مزید 6.5 لاکھ گھروں کی تعمیر آخری مراحل میں ہے۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس پروگرام کے ذریعے 10 لاکھ افراد کو روزگار کے مواقع فراہم کیے گئے ہیں اور 9 لاکھ خواتین کو زمین کے مالکانہ حقوق دیے گئے ہیں۔سندھ کے دیگر اہم ترقیاتی منصوبوں کا بھی ذکر کرتے ہوئے، شرجیل میمن نے کراچی میں پانی اور صفائی کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے 85.5 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ کے فور، حب، اسٹارم واٹر ڈرین، اور KWSSIP-II جیسے منصوبوں کے لیے فنڈز جاری کیے گئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ سندھ حکومت اپنے ترقیاتی ایجنڈے پر بھرپور توجہ دے رہی ہے، جس کے تحت 293 اسکیمیں منظور کی گئی ہیں، جن میں پانی، صفائی، اور میونسپل خدمات شامل ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ کی ہدایت پر، تمام منصوبوں کی بروقت فنڈنگ یقینی بنائی جا رہی ہے، اور شہری و دیہی علاقوں میں سڑکوں اور رابطہ نظام کی بہتری کے لیے تیزی سے کام جاری ہے۔شرجیل میمن نے کورنگی کاز وے برج، انڈر پاسز، لیاری ٹرانسفارمیشن منصوبہ، اور 970 کلومیٹر سڑکوں کی بحالی کا ذکر بھی کیا۔ سندھ سولر انرجی پروجیکٹ کے لیے فنڈز جاری ہو چکے ہیں اور 25 ارب روپے کے قابل تجدید توانائی اقدامات پر کام شروع کیا جا چکا ہے۔انہوں نے بتایا کہ سندھ حکومت کا وژن ریزیلینس، خوشحالی، اور مساوات ہے، اور اس کے تحت صوبہ بھر میں ترقیاتی سرگرمیاں بھرپور طریقے سے جاری ہیں۔