گندم ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت کارروائی ہوگی، وزیراعلیٰ سندھ کا حکم

گندم ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت کارروائی ہوگی، وزیراعلیٰ سندھ کا حکم

کراچی: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت محکمہ خوراک اور محکمہ زراعت کا مشترکہ اجلاس منعقد ہوا جس میں گندم کی خریداری، ذخائر، امدادی قیمت اور مارکیٹ صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں وزیر خوراک مخدوم محبوب الزمان، وزیر آبپاشی جام خان شورو، وزیر ایکسائز مکیش کمار چاولہ، مشیر وزیراعلیٰ گیانچند اسرانی، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ سندھ میں گندم خریداری مہم یکم اپریل 2026 سے شروع کی گئی، جبکہ حکومت نے گندم کی امدادی قیمت 3500 روپے فی 40 کلوگرام مقرر کی ہے۔ اس کے علاوہ 50 کلوگرام بوری پر 60 روپے بار دانہ ادائیگی کی منظوری بھی دی گئی ہے۔حکام کے مطابق اب تک 81 ہزار 348 میٹرک ٹن گندم خریدی جا چکی ہے، جبکہ صوبائی حکومت نے ایک ملین میٹرک ٹن خریداری کا ہدف مقرر کیا تھا۔ دوسری جانب نجی شعبے کے پاس 5 لاکھ 88 ہزار 512 میٹرک ٹن گندم کے ذخائر موجود ہیں۔اجلاس کو بتایا گیا کہ کراچی میں 1 لاکھ 59 ہزار 577، سکھر میں 2 لاکھ 19 ہزار 760، لاڑکانہ میں 1 لاکھ 41 ہزار 284، حیدرآباد میں 39 ہزار 244، میرپورخاص میں 4 ہزار 676 اور شہید بینظیر آباد میں 23 ہزار 971 میٹرک ٹن گندم ذخیرہ کی گئی ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے خریداری کا ہدف پورا نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مزید 1 لاکھ 77 ہزار 40 میٹرک ٹن مقامی گندم خریدنے کی ہدایت دی۔ اجلاس میں 2 لاکھ میٹرک ٹن گندم پاسکو سے حاصل کرنے کی تجویز پر بھی غور کیا گیا۔مراد علی شاہ نے ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی منافع خوری کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ گندم کے ذخائر کی ریئل ٹائم نگرانی یقینی بنائی جائے اور عوام کو مصنوعی قلت یا قیمتوں میں ہیرا پھیری کا شکار نہیں ہونے دیا جائے گا۔انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ آبادگاروں کو مقررہ امدادی قیمت کی بروقت ادائیگی یقینی بنائی جائے اور آٹے کی قیمتوں میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔

وزیراعلیٰ سندھ نے واضح کیا کہ ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی اور عوامی مفادات کے تحفظ کے لیے منصفانہ مارکیٹ نظام کو یقینی بنایا جائے گا۔ اجلاس میں اس عزم کا اظہار بھی کیا گیا کہ صوبے میں گندم کے وافر ذخائر برقرار رکھ کر عوام کو سستی اور مناسب قیمت پر آٹے کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔