پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) نے مون سون 2026 کے موسمی جائزے میں خبردار کیا ہے کہ گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر اور بالائی خیبرپختونخوا کے پہاڑی علاقوں میں معمول کے مطابق بارشیں متوقع ہیں، تاہم معمول سے زیادہ درجہ حرارت کے باعث گلیشیئر تیزی سے پگھلنے اور سیلابی خطرات میں اضافے کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق ہندوکش، قراقرم اور ہمالیہ (HKH) کے بیشتر علاقوں میں مون سون کے دوران درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہنے کی توقع ہے، جبکہ گلگت بلتستان کے مشرقی علاقوں میں گرمی کی شدت نسبتاً زیادہ ہو سکتی ہے۔رپورٹ کے مطابق بلند درجہ حرارت کے باعث برف اور گلیشیئر معمول سے زیادہ تیزی سے پگھل سکتے ہیں، جس سے دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ اور حساس وادیوں میں سیلاب کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ یہ پیش گوئی بین الاقوامی موسمیاتی اداروں، جن میں آئی سی آئی موڈ، اے پی سی سی، کوپرنیکس کلائمیٹ چینج سروس، آئی آر آئی اور ساؤتھ ایشین کلائمیٹ آؤٹ لک فورم (SASCOF-34) شامل ہیں، کی رپورٹس سے بھی مطابقت رکھتی ہے۔محکمے نے خبردار کیا ہے کہ مختصر دورانیے کی شدید بارشیں اچانک سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ، ملبے کے ریلوں اور پہاڑی ڈھلوانیں کھسکنے جیسے خطرات پیدا کر سکتی ہیں، جبکہ گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے سے آنے والے سیلاب (GLOFs) کا خدشہ بھی بڑھ سکتا ہے۔
محکمہ موسمیات نے دریاؤں، ندی نالوں اور گلیشیائی وادیوں کے قریب رہنے والے افراد کو محتاط رہنے، موسمی صورتحال پر نظر رکھنے اور سرکاری ہدایات پر عمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ متعلقہ اداروں کو بھی ممکنہ آبی اور موسمی خطرات سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔دوسری جانب گلگت بلتستان میں حالیہ بارشوں کے باعث دریائی کٹاؤ، لینڈ سلائیڈنگ اور اچانک آنے والے سیلاب نے معمولات زندگی متاثر کر دیے ہیں، جبکہ متعدد شاہراہیں بند ہونے سے کئی علاقوں کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔محکمہ مواصلات و تعمیرات گلگت بلتستان کے مطابق استور ویلی روڈ مختلف مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ اور بڑے پتھر گرنے کے باعث ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دی گئی ہے۔اسی طرح بالائی ہنزہ کی چپورسن اور مسگر وادیوں کو ملانے والی واحد رابطہ سڑکیں بھی لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے بند ہیں، جبکہ بارشوں کے بعد مٹی کے تودے گرنے سے مسگر گاؤں کو ملانے والی واحد زمینی شاہراہ بھی تاحال بحال نہیں ہو سکی۔