پی ٹی آئی رہنما علی محمد خان نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ مذاکرات میں تلخی پیدا کر رہی ہیں کیونکہ انہیں این آر او چاہیے، اور یہ این آر او صرف پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین دے سکتے ہیں۔
علی محمد خان نے یہ بھی کہا کہ "تلخی" کا مقصد مذاکرات میں تھوڑا سا مرچ مسالہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے حکومت سے کہا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا مسئلہ قومی اہمیت کا حامل ہے، اور پی ٹی آئی اس معاملے میں حکومت کا مکمل ساتھ دے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو 20 جنوری سے پہلے اس مسئلے پر امریکہ کے سامنے موثر آواز اٹھانی چاہیے۔علی محمد خان نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت میں بھی پروڈکشن آرڈرز جاری ہوئے تھے اور اس کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت بھی اہم شخصیات جیسے میاں شہباز شریف، خواجہ سعد رفیق، اور احسن اقبال کے پروڈکشن آرڈرز جاری کیے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں آئین اور قانون کی حکمرانی نہیں ہے اور عافیہ صدیقی کا مسئلہ حل ہونے کے بجائے طول پکڑ چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں دونوں فریقوں کو احتیاط سے کام لینا چاہیے اور امید ظاہر کی کہ مذاکرات کا مثبت نتیجہ نکلے گا۔