بھل صفائی میں ہیرا پھیری کا انکشاف

بھل منتقل کرنے کیلئے گاڑیاں،لیبر اور پٹرول بھی محکمہ آبپاشی کا استعمال، اینٹی کرپشن میں درخواست دائر، انکوائری شروع 
 لاہور(خصوصی رپورٹ)لاہور کینال کی بھل صفائی میں بڑے پیمانے پر مبینہ کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔ محکمہ آبپاشی کی مشینری ڈویڑن کے افسروں اور ملازمین نے نہر سے نکلنے والی بھل لاکھوں روپے میں نجی سوسائٹیوں کو فروخت کردی۔تفصیل کے مطابق محکمہ آبپاشی لاہور ڈویڑن اور مشینری ڈویڑن کی مبینہ کرپشن سامنے آ گئی،نہر سے نکلنے والی بھل بھرتی ڈالنے کے لئے نجی سوسائٹیوں کو فروخت کردی گئی،محکمہ اینٹی کرپشن میں درخواست دائر پر انکوائری شروع کر دی گئی۔درخواست کے مطابق موسم سرما کے دوران لاہور کینال سالانہ بھل صفائی کے لئے بند کی گئی،محکمہ آبپاشی لاہور ڈویڑن نے بھل صفائی کا ٹھیکہ مشینری ڈویڑن کو دیا،مشینری ڈویڑن نے لاہور کینال برانچ سے بھل نکال کر رنگ روڈ کے ساتھ سرکاری اراضی پر گڑھوں میں ڈالنی تھی، لیکن مشینری ڈویڑن کے افسروں نے نجی سوسائٹیوں کو مہنگے داموں بھل فروخت کردی۔بھل نجی سوسائٹیوں تک لیجانے کے لئے سرکاری گاڑیاں اور ڈمپرز استعمال کئے جارہے ہیں،ڈمپروں، ٹرالیوں اور دیگر وہیکلز میں پٹرول بھی محکمہ کا اور لیبر بھی محکمہ کی استعمال کی جارہی ہے۔ایس ڈی او مشینری ڈویڑن را ئو اظہر کا کہنا ہے کہ صفائی کے دوران عملے نے اگر بھل فروخت کی ہے تو اس کی انکوائری کریں گے، بھل فروخت کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔