شہریوں کے لاکھوں فنگر پرنٹس کی چوری ، معاملہ پیچیدہ

لاہور(کرائم رپورٹر)شہریوں کے لاکھوں فنگر پرنٹس کی چوری کا معاملہ پیچیدہ ہو گیاشہریوں کے فنگر پرنٹس کی چوری کی تحقیقات مکمل نہ ہو سکیں،گرفتار ملزمان سے پوچھ گچھ کے باوجود ایف آئی اے اصل ملزموں  تک نہ پہنچ سکی۔ایف آئی اے نے نادرا کو تحقیقات کے لیے مراسلہ لکھ دیا۔ذرائع مراسلہ میں کہا گیا کہ نادرا تحقیقات کر کے بتائے کہ لاکھوں فنگر پرنٹس کہاں سے چوری ہوئے ؟نادرا ایف آئی اے کو 7روز میں رپورٹ بھجوائے۔ذرائع کے مطابق دس انگلیوں کے فنگر پرنٹس صرف پولیس ، جیل ،نادرا کے ریکارڈ میں رکھے جاتے ہیں۔ایف آئی اے کے مطابق گرفتار ملزمان کے پاس ہر شہری کی تمام انگلیوں کے فنگر پرنٹس موجود تھے ،ایف آئی اے نے چند روز قبل شادباغ سے فنگر پرنٹس چوری کرنیوالے گروہ کو پکڑا تھا۔گرفتار ملزمان کو فنگر پرنٹس کا ڈیٹا فراہم کرنے والوں کو تاحال پتہ نہ چلایا جا سکا۔