ٹریفک پولیس اہلکار کو مارنے اور خوف و ہراس پھیلانے کا کیس، ملزم درخواست ضمانت خارج

ٹریفک پولیس اہلکار کو مارنے اور خوف و ہراس پھیلانے کا کیس، ملزم درخواست ضمانت خارج

 آئی ایٹ مرکز میں ٹریفک پولیس اہلکار کو مارنے اور خوف و ہراس پھیلانے کے کیس میں برطانوی نژاد پاکستانی شہری عاقب خان کی بعداز گرفتاری درخواست ضمانت انسداد دہشتگردی عدالت نے خارج کر دی۔

انسداد دہشتگردی عدالت کے جج انوال حسنات ذوالقرنین نے درخواست ضمانت پر سماعت کی۔ وکیل ملزم نے عدالت میں کہا کہ ان کا موکل برطانوی شہری ہے اور پاکستانی قوانین سے لاعلم تھا، اور یہ مقدمہ دہشتگردی کے زمرے میں نہیں آتا، پولیس نے جھوٹ پر مبنی مقدمہ درج کیا۔پراسیکیوٹر راجہ نوید نے عدالت کو بتایا کہ غیر ملکی شہریوں کو پاکستانی قوانین کی زیادہ پاسداری کرنی چاہیے۔ ملزم کے قبضے سے اسلحہ برآمد ہوا، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس نے ٹریفک اہلکار کو جان سے مارنے کا ارادہ کیا تھا۔

پراسیکیوٹر نے مزید کہا کہ ملزم نے کمرشل ایریا میں خوف و ہراس پھیلایا، جس کی ویڈیو بطور ثبوت موجود ہے، اور مختلف عدالتی نذیریں بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پبلک مقامات پر خوف و ہراس پھیلانا دہشتگردی کے زمرے میں آتا ہے۔عدالت نے دلائل سننے کے بعد عاقب خان کی درخواست ضمانت مسترد کر دی۔ ملزم کے خلاف تھانہ آئی نائن میں دہشتگردی سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج ہے۔