اسلام آباد ہائی کورٹ نے گستاخانہ مواد پھیلانے کے الزام میں گرفتار ملزم بابر خورشید کی درخواستِ ضمانت مسترد کر دی۔
عدالت نے اس فیصلے میں ملزم کے خلاف دائر مقدمے کی نوعیت اور اس کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے ضمانت کی درخواست کو مسترد کیا۔عدالت کے جسٹس محمد اعظم خان نے اس کیس کی سماعت کی اور تحریری فیصلہ بھی جاری کیا جس میں ضمانت مسترد کرنے کی وجوہات بیان کی گئی ہیں۔ایف آئی اے نے ملزم کے خلاف پیکا ایکٹ (الیکٹرانک کرائمز کی روک تھام کے قانون) کے سیکشن 11 کے تحت مقدمہ درج کیا تھا، جو کہ گستاخانہ مواد کی تشہیر کے حوالے سے ہے۔ ایف آئی اے کے مطابق، بابر خورشید نے سوشل میڈیا پر مواد پوسٹ کیا تھا جو مسلمانوں کی مذہبی مقدسات کی توہین کرتا تھا۔اس کیس کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں اور اس کے نتائج کا فیصلہ مزید عدالت کی کارروائیوں پر منحصر ہوگا۔