کب بدلے گا منظرنامہ؟

ندیم ملک

کبھی سوچا ہے کہ اس سرزمین کے باسیوں کے حصے میں ہمیشہ دکھ ہی کیوں آتے ہیں؟ کیوں ہماری گلیوں میں خوشیوں کی بہار کم اور آنسوؤں کے سیلاب زیادہ نظر آتے ہیں؟ ہم نے کتنے خواب دیکھے تھے کہ یہ ملک ہمارے بچوں کے لیے جنت بنے گا، مگر آج انہی خوابوں کے ٹکڑے ہمارے قدموں تلے بکھرے پڑے ہیں  ہر روز ایک نئی اذیت، ایک نیا بوجھ، ایک نیا طعنہ ہماری زندگیوں کا حصہ بن جاتا ہے۔ کبھی یہ مہنگائی کے ہاتھوں ہے، کبھی بجلی اور گیس کے بلوں کی شکل میں، کبھی ظلم اور ناانصافی کے روپ میں۔ سچ یہ ہے کہ ہم ایک ایسے عذاب کے دور میں جی رہے ہیں جہاں امید کا دیا ہر روز بجھتا ہے اور مایوسی کے اندھیرے مزید گہرے ہو جاتے ہیں  انتخابات سے پہلے اقتدار کے امیدواروں کی زبانوں سے نکلنے والے الفاظ کتنے میٹھے ہوتے ہیں۔ وہ وعدے کرتے ہیں کہ اب کی بار غربت ختم ہو گی، تعلیم عام ہو گی، علاج سب کے لیے ہوگا، مہنگائی کا جن قابو میں آ جائے گا، لیکن جیسے ہی وہ کرسی پر بیٹھتے ہیں تو عوام کی آواز ان کے کانوں تک نہیں پہنچتی۔ بجٹ آتے ہیں تو خوشیوں کے بجائے خوف بانٹتے ہیں۔ ہر شے مہنگی، ہر سہولت محدود اور زندگی ایک مسلسل امتحان بن جاتی ہے کتنا آسان ہے اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھ کر فیصلہ کرنا کہ آٹا دس روپے مہنگا کر دو، بجلی کے ریٹ بڑھا دو، ٹیکس لگا دو۔ لیکن وہ آنکھیں جو دن رات اپنی عزت بچانے اور پیٹ بھرنے کے لیے سرگرداں ہیں، وہ دل جو قرض کے بوجھ تلے ٹوٹ رہا ہے، ان کے بارے میں کون سوچتا ہے؟ اخبارات کی سرخیاں اب کہانی نہیں، زخم بن گئی ہیں۔ ایک طرف مہنگائی سے تنگ آ کر کوئی باپ اپنے بچوں سمیت خودکشی کر لیتا ہے، تو دوسری طرف کسی گاؤں کی معصوم بچی ہوس کے بھیڑیوں کا نشانہ بن جاتی ہے۔ ان خبروں کو پڑھ کر دل پتھر بھی ہو جائے تو حیرت نہیں

بشیر بدر نے کہا تھا

لوگ ٹوٹ جاتے ہیں ایک گھر بنانے میں
تم ترس نہیں کھاتے بستیاں جلانے میں

یہ دو مصرعے اس قوم کے ہر عام آدمی کی کہانی ہیں۔ جس نے زندگی بھر ایک چھوٹے سے مکان، بچوں کی تعلیم اور دو وقت کی روٹی کے لیے اپنی ہڈیاں گھلا دیں، اور بدلے میں اسے کیا ملا؟ ٹوٹے خواب، خالی ہاتھ، اور ایسے بوجھ جنہیں اٹھائے اٹھائے وہ قبر کے دہانے تک پہنچ جاتا ہے اب تو بجلی کے بل بھی زندگی کا فیصلہ کرنے لگے ہیں۔ دو سو یونٹ تک رعایت کا لالچ دیا جاتا ہے، مگر جیسے ہی ایک یونٹ بڑھتا ہے، 
رعایت قصہ? ماضی ہو جاتی ہے اور بل ساتویں آسمان کو چھونے لگتا ہے۔ کوئی سوچتا ہے کہ یہ کیسا انصاف ہے؟ کیا وہ لوگ جنہیں مہینوں محنت کے بعد صرف چند ہزار روپے ملتے ہیں، کیسے یہ بل ادا کریں؟ ہم بحیثیت قوم کب سوچیں گے؟ کب یہ اندھی تقلید ختم ہوگی کہ صرف چہروں کو بدلنے سے سب کچھ بدل جائے گا؟ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ تبدیلی کسی ایک شخصیت یا ایک تقریر کے سحر سے نہیں آتی، شعور سے آتی ہے۔ یہ اس وقت آئے گی جب عوام اپنے حق کے لیے آواز بلند کریں گے، سوال کریں گے، حساب مانگیں گے
حکمران جب اقتدار میں آتے ہیں تو شاید نیت رکھتے ہیں کہ کچھ کریں گے، لیکن اقتدار کے رنگین پردے، عیش و عشرت اور خوشامدی ٹولے کی چاپلوسی انہیں اندھا کر دیتی ہے۔ وہ زمینی حقیقت سے کٹ جاتے ہیں۔ فائلوں اور رپورٹوں میں سب کچھ اچھا لگتا ہے لیکن ان کے باہر ایک جہنم آباد ہے ہمارے ملک کا سب سے بڑا مسئلہ انصاف کی غیر موجودگی ہے۔ انصاف صرف عدالت کے کٹہرے میں نہیں ہونا چاہیے بلکہ ہر پالیسی میں ہونا چاہیے۔ تعلیم اور صحت کیوں خواب ہیں؟ بجلی اور گیس کے بلوں میں امیر اور غریب کا فرق کیوں نہیں؟ بڑے بڑے منصوبوں کے لیے اربوں روپے کہاں سے آ جاتے ہیں مگر ایک عام انسان کو دوائی اور روزگار کے لیے ترسنا پڑتا ہے
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم بطور قوم اپنی ترجیحات درست کریں۔ صرف حکمرانوں کو برا کہنا کافی نہیں، ہمیں اپنی خاموشی کا جواب بھی دینا ہوگا۔ ووٹ دیتے وقت سوچنا ہوگا کہ ہم کسی کے نعرے، زبان اور چہرے کو دیکھ رہے ہیں یا کردار کو؟
اگر ہم نے اپنے رویے نہ بدلے تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔ وہ پوچھیں گی کہ جب معصوم بچے بھوک سے بلک رہے تھے، جب ماؤں کے آنسو کسی کو نہیں دکھائی دیتے تھے، جب غربت انسانوں کو خودکشی پر مجبور کر رہی تھی، تب تم نے کیا کیا؟ تم کہاں تھے؟
یہ کالم کسی جماعت یا حکومت کے خلاف نہیں، یہ ایک اجتماعی نوحہ ہے۔ ہم سب اس کہانی کے کردار ہیں۔ جب تک عوام اور حکمران دونوں اپنی اپنی ذمہ داری نہیں سمجھیں گے، یہ درد، یہ اندھیرے، یہ مایوسیاں ختم نہیں ہوں گی