کاشف بٹ
واہ رے زمانے! کبھی عزت بیچی جاتی تھی غلامی کے سودے میں، آج کے "انفلونسر" لائکس اور ویوز کے بدلے اپنا جسم بیچ رہے ہیں۔ ٹک ٹاک پر جو کچھ ہو رہا ہے، وہ انٹرٹینمنٹ نہیں بلکہ ایمان کے جنازے کی ریہرسل ہے۔
کیا یہ وہی قوم ہے جو اپنے آپ کو مسلمان کہتی ہے؟ زبان پر اللہ کا نام اور عمل میں شیطان کا کھیل؟ جسمانی اعضاء کو تماشا بنا کر کہتے ہیں "یہ انٹرٹینمنٹ ہے"، کپڑے اتار کر نعرہ لگاتے ہیں "یہ فیشن ہے"، اور حیاء کو جلا کر دعویٰ کرتے ہیں "یہ آزادی ہے"۔ ! اگر یہ آزادی ہے تو پھر حیوانیت کو کیا کہیں گے؟
کیا قرآن نے ہمیں یہی سکھایا تھا؟ کیا نبی نے یہی امت تیار کی تھی کہ ایک ایپ پر ناچ گانا، جنسی حرکات، اور فحاشی کو کامیابی کی معراج بنا دیا جائے؟ اگر قومِ لوط آج زندہ ہو تو شاید کہے: "ہم سے بھی آگے نکل گئے ہو تم لوگ!"
طنز یہ ہے کہ انہی ہاتھوں سے قرآن پکڑا جاتا ہے، انہی زبانوں سے اللہ اکبر کہا جاتا ہے، اور انہی جسموں کو ویوز اور ڈالر کے بدلے نیلام کیا جاتا ہے۔ پھر سوال بنتا ہے: کل کس منہ سے اللہ کے حضور حاضر ہوں گے؟ کہیں یہ نہ کہنا پڑ جائے: "یا اللہ! ہم نے اپنا ایمان بھی اور اپنی غیرت بھی فالوورز کے بدلے بیچ دی۔"ہمارے حال پر ہنستا کون ہے؟ دشمن؟ یا خود ہمارا ضمیر؟
جب بے حیائی سڑکوں سے نکل کر موبائل کی اسکرین پر آ گئی ہے تو سمجھ لو عذاب کے دروازے خود ہم نے کھول دیے ہیں۔ابھی بھی وقت ہے — یا تو ٹک ٹاک کے ان شیطانی تماشوں کو دفن کرو، یا پھر اپنے ایمان کے کفن کی تیاری کرو۔