مقبوضہ کشمیر میں پابندیاں مزید سخت، سری نگر فوجی چھاؤنی میں تبدیل
بھارتی فوج کی زیر سرپرستی ویلج ڈیفنس گارڈز کے رکن نے ساتھی کو مار ڈالا
سرینگر (خصوصی رپورٹ)کنٹرول لائن کے دونوں جانب اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری آج بھارت کے یوم آزادی کو یوم سیاہ کے طور پر منائیں گے جسکا مقصد جموں وکشمیر پر غیر قانونی بھارتی قبضے کے خلاف احتجاج درج کرانا ہے۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یوم سیاہ منانے کی کال کل جماعتی حریت کانفرنس نے دی ہے جبکہ تمام آزادی پسند رہنماؤں اور تنظیموں نے اسکی حمایت کی ہے۔دنیا بھر میں مقیم کشمیری آج بھارت مخالف مظاہرے کریں گے تاکہ دنیا کی توجہ مقبوضہ علاقے میں جاری بھارتی مظالم کی طرف مبذول کرائی جا سکے۔ قابض بھارتی انتظامیہ نے بھارتی یوم آزادی سے قبل پورے مقبوضہ جموں و کشمیر بالخصوص سری نگر کو مکمل طور پر فوجی چھاؤنی میں تبدیل کر دیا ہے۔ قابض انتظامیہ نے پاکستان کے حق میں اور غیر قانونی بھارتی قبضے کے خلاف احتجاجی مظاہروں کو روکنے کیلئے پورے مقبوضہ علاقے میں پابندیاں مزید سخت کر دی ہیں۔،شہر بھر میں اہم مقامات پر رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں اورگاڑیوں ، مسافروں اور راہگیروں کی سخت تلاشی لی جارہی ہے۔دریں اثنا بھارتی انتظامیہ نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنمامیرواعظ عمر فاروق کو آج مسلسل دوسرے جمعہ کو سرینگر میں گھر میں نظر بند کر کے نماز جمعہ کی ادائیگی کیلئے جامع مسجد جانے سے روک دیا۔میرواعظ عمر فاروق نے ایکس پر جاری ایک بیان میں اپنی بار بار نظر بندی پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ بھارت علاقے میں حالات معمول پر آنے کے بلند بانگ دعوے کر رہا ہے لیکن پابندیاں او ر نظربندیوں سے اسکے اس دعوے کی قلعی کھل رہی ہے۔ ضلع ادھمپور میں بھارتی فوج کی سرپرستی میں قائم ویلج ڈیفنس گارڈز کے ایک رکن نے فائرنگ کر کے اپنے ساتھی کو ہلاک جبکہ دوسرے کو شدید زخمی کر دیا۔کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں وکشمیر شاخ نے پاکستان کے یوم آزادی پر اسلام آباد میں اپنے دفتر میں ایک پروقار تقریب کا انعقادکیا۔ اس موقع پر کیک کاٹا گیا اور مملکت خداد داد کے استحکام و ترقی اور مقبوضہ جموں و کشمیر کی بھارتی تسلط سے جلد آزادی کے لیے دعا کی گئی۔