ویب ڈیسک: سابقہ پاکستانی اداکارہ اریج فاطمہ، جنہوں نے 2019ء میں شوبز کو خیرباد کہہ دیا تھا، نے حال ہی میں اپنے نایاب اور مہلک کینسر کے تجربے، علامات اور علاج کے سفر کے بارے میں مداحوں سے تفصیلات شیئر کیں۔
اریج فاطمہ اب امریکا کی ریاست اوہائیو میں مقیم ہیں اور بطور ڈیجیٹل کریئیٹر اور انفلوئنسر انسٹاگرام پر 16 لاکھ فالوورز رکھتی ہیں۔انہوں نے انسٹاگرام ویڈیو میں بتایا کہ انہیں کوریوکارسینوما (Choriocarcinoma) نامی نایاب کینسر لاحق ہوا، جو عموماً مولر حمل کے بعد پیدا ہوتا ہے اور تقریباً ہر 50 ہزار کیسز میں سے ایک ہوتا ہے۔اریج نے اپنی علامات میں مسلسل خون آنا، تھوڑی پر ایکنی، متلی اور سب سے اہم، اپنی ’گٹ فیلنگ‘ شامل ہونے کا ذکر کیا۔ انہوں نے خواتین کو مشورہ دیا کہ وہ سالانہ بلڈ ٹیسٹ، پَیپ اسمیئر ٹیسٹ اور 50 سال سے زائد عمر میں میموگرام کروائیں۔
انہوں نے بتایا کہ ہسٹریکٹومی کے بعد کیموتھراپی کروانی پڑی کیونکہ یہ کینسر جارحانہ نوعیت کا تھا اور اعضاء کو نقصان پہنچا سکتا تھا۔ خوشخبری یہ ہے کہ جون میں انہیں کینسر فری قرار دیا گیا، تاہم آئندہ 10 سال تک ہر ماہ بلڈ ٹیسٹ کروانا ضروری ہوگا۔اریج نے اپنے مداحوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یہ ایک مشکل سفر تھا، لیکن ان کے بچوں اور خاندان کی حمایت نے ہمت بڑھائی۔مداحوں اور دوستوں نے اریج فاطمہ کے حوصلے کی تعریف کی اور ان کے لیے دعائیں اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔