پاکستان کی معروف سابقہ اداکارہ اور ڈیجیٹل کنٹینٹ کریئیٹر اریج فاطمہ نے اپنی پہلی طلاق اور دوسری شادی سمیت دیگر ذاتی باتوں کا انکشاف کیا ہے۔
انہوں نے حال ہی میں ایک پوڈکاسٹ میں شرکت کی، جو اوہائیو میں ریکارڈ کی گئی تھی، اور اس دوران اپنی زندگی کے اہم مراحل پر بات کی۔اریج فاطمہ نے بتایا کہ ان کا پہلا نکاح صرف گھر کے بزرگوں کی مرضی سے ہوا تھا اور اس میں رخصتی نہیں ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ان کے سابقہ شوہر کے بزرگ پاکستان میں ان کے دادا کے جاننے والے تھے، مگر مکمل تحقیق ممکن نہ تھی۔ ان کا نکاح اور منگنی ایک دن میں ہوا، اور ایک ماہ بعد یہ رشتہ ختم ہو گیا، لیکن ان کی رخصتی نہیں ہوئی۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ اس بارے میں پہلے کبھی بات نہیں کرتی تھیں، مگر اب حالات کے پیش نظر سچائی کا انکشاف کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی شادی 2014 میں ہوئی، اور چند مہینوں بعد ختم ہو گئی، جب کہ ان کی عمر اس وقت 24 سال تھی۔دوسری شادی کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ یہ تقریباً تین سال بعد 2017 میں ہوئی، اور ان کے شوہر عزیر کا میڈیا سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان کی ملاقات اتفاقیہ طور پر ہوئی، اور بات چیت شروع ہونے کے بعد شادی ہو گئی۔
عزیر نے کبھی باقاعدہ پروپوز نہیں دیا، بلکہ انہوں نے پوچھا کہ اگر کوئی کسی کو پسند کرتا ہے تو کیا طریقہ ہونا چاہیے، جس پر انہوں نے والدین کو شامل کرنے کا مشورہ دیا۔اداکاری کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان میں خواتین کو حجاب میں دکھایا جائے، تو وہ دوبارہ اداکاری کریں گی، لیکن حجاب چھوڑ کر اداکاری نہیں کریں گی۔ انہوں نے 2019 میں ڈرامہ سیریل "حسد" کے بعد شوبز چھوڑ دیا تھا۔ ان کا پہلا نکاح 2014 میں بزنس مین فراز خان سے ہوا، جو جلد ہی ختم ہو گیا۔ بعد میں انہوں نے 2017 میں کینیڈین ڈاکٹر عزیر علی سے شادی کی، اور اب وہ دو بیٹوں، عیسیٰ اور یحییٰ، کی والدہ ہیں۔ وہ اوہائیو میں مقیم ہیں اور ایک معروف ڈیجیٹل کریئیٹر کے طور پر 1.6 ملین انسٹاگرام فالوورز رکھتی ہیں۔