سلمان اکرم راجہ کا علیمہ خان پر سخت ردعمل، سیاسی لائحہ عمل پر اختلاف سامنے آ گیا

سلمان اکرم راجہ کا علیمہ خان پر سخت ردعمل، سیاسی لائحہ عمل پر اختلاف سامنے آ گیا

سابق وزیر اور سیاسی رہنما  سلمان اکرم راجہ نے علیمہ خان کے سیاسی کردار اور حالیہ کال کے حوالے سے سخت ردعمل دیتے ہوئے واضح مؤقف اختیار کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ وہ اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کے لیے بھی تیار ہیں، تاہم سیاسی فیصلوں کا اختیار سیاسی قیادت کے پاس ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ علیمہ خان کی جانب سے اڈیالہ جیل کے باہر اجتماع کی کال دی گئی تھی، لیکن ان کی توقعات کے مطابق لوگ بڑی تعداد میں جمع نہیں ہوئے۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی تحریک یا انقلاب کا انحصار صرف گاڑیوں میں لوگوں کو لانے یا وقتی جمع کرنے سے نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے منظم سیاسی حکمتِ عملی درکار ہوتی ہے۔علیمہ خان کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی اپنے بھائی سے جذباتی وابستگی اپنی جگہ، لیکن وہ سیاسی لائحہ عمل طے نہیں کر سکتیں۔ ان کے مطابق سیاسی فیصلے صرف تجربہ کار سیاسی رہنما ہی بہتر انداز میں کر سکتے ہیں۔

سلمان اکرم راجہ نے مزید کہا کہ موجودہ سیاسی حکمتِ عملی محمود خان اچکزئی اور وہ خود ترتیب دے رہے ہیں، اور اسی لائحہ عمل کے تحت آئندہ سیاسی سرگرمیاں آگے بڑھائی جائیں گی۔ان کے اس بیان کے بعد سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے کہ قیادت اور حکمتِ عملی کا اختیار کس کے پاس ہونا چاہیے اور تحریکوں کی سمت کون طے کرے گا۔