پی ٹی آئی کے رہنما سلمان اکرم راجہ نے ملک کی موجودہ معاشی اور عدالتی صورتحال پر شدید تنقید کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ برآمدات میں کمی اور درآمدات میں اضافہ ملک کی معاشی پوزیشن کو ظاہر کرتا ہے اور 8 فروری کا "جعلی نظام" بے نقاب ہو گیا ہے۔ ان کے مطابق ہائی کورٹ کے دو خطوط نے عدلیہ کے نظام کی حقیقت واضح کر دی۔ سلمان اکرم راجہ نے تاریخی حوالوں سے کہا کہ امام ابوحنیفہ نے جج بننے سے انکار کیا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ حکمران اپنی مرضی کے فیصلے کروائیں گے۔علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ پاکستان 1947 میں قائم ہوا مگر 1971 میں ٹوٹ گیا۔ 1973 کے آئین کے تحت تمام لوگ اکٹھے رہیں گے اور معاشرے میں قانون کی بالادستی ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالتوں کی غیر فعالیت اور آئین و قانون کی پامالی نے ملک کو معاشرتی بحران کی طرف دھکیل دیا۔سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے ملک میں موجودہ قدرتی اور معاشرتی مسائل پر بات کی۔ انہوں نے کہا کہ کے پی میں ایک گھر کے 13 افراد شہید ہوئے اور بونیر میں بھی بڑی تباہی ہوئی۔ اسد قیصر نے کہا کہ خیبر و بلوچستان کے بارڈر پر ڈیزاسٹرز ہیں اور ملک میں چھوٹے ڈیمز کی ضرورت ہے۔
انہوں نے وفاق اور صوبوں پر زور دیا کہ نئے ڈیمز کی تعمیر کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں اور سابق وزیر اعظم کے بلین ٹری پراجیکٹ کو مکمل کیا جائے۔انہوں نے سیاسی مسائل پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ آٹھ فروری کے واقعات میں مینڈیٹ نہ ملنے پر مستعفی ہو جانا چاہیے تھا اور ملک کی ترقی کا راز صرف آئین و قانون کی بالادستی میں ہے۔پی ٹی آئی کے رہنما زبیر عمر نے وزیراعظم کے دعووں کو بھی چیلنج کیا اور کہا کہ چین میں وزیراعظم نے کہا کہ ایک روپے کی کرپشن نہیں ہوئی، لیکن اکاؤنٹنٹ جنرل کی رپورٹ میں شوگر مل اسکینڈل میں 300 ارب روپے کی کرپشن ثابت ہوئی ہے۔ زبیر عمر نے کہا کہ یہ رقم شوگر مل اونرز کی جیب میں گئی، جن میں حکومت کے لوگ شامل ہیں۔