دنیا تسلیم کرنے پر مجبور، پاکستان امن کا حقیقی سفیر، فرسٹیشن کے شکار بھارت کی چیخ و پکار قابل دید

 مزمل اقبال ہاشمی
جس نہج پر دنیا   اور اسے لیڈ کرنے کے دعویدار چل پڑے ہیں، تاریخ ان  کے کردار کو  یاد رکھے گی کہ  انہوں نے  دنیا میں تباہی و بربادی اور جنگ و جدال  میں ہی اپنی  طاقت کو صرف کیا، وہیں تاریخ یہ بھی یاد رکھے گی ان حالات میں ایک ایسا کردار بھی تھاجسے دنیا  والے   پاکستان  سے یاد کرتے  ہیں مگر اس نے اپنی بساط سے بڑھ کر   اس وقت جنگ بندی کرائی، جب دنیا تیسری جنگ عظیم کی طرف گامزن تھی۔  بین الاقوامی سیاست کے پیچیدہ منظرنامے میں جہاں طاقت کا استعمال اکثر مسائل کا حل سمجھا جاتا ہے، وہاں پاکستان نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ دانشمندانہ سفارتکاری پائیدار امن کی بنیاد بن سکتی ہے۔ حالیہ کشیدگی کے دوران، جب امریکہ اور ایران کے درمیان حالات خطرناک حد تک بگڑنے کے قریب تھے، پاکستان نے نہایت بصیرت کے ساتھ اپنا کردار ادا کرتے ہوئے ممکنہ جنگ کو ٹالنے میں اہم کردار ادا کیا۔۔ حالیہ کشیدگی، جو امریکہ اور ایران کے درمیان خطرناک حد تک بڑھ چکی تھی، اگر ایک بڑے تصادم میں تبدیل ہو جاتی تو نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پورا خطہ اس کے تباہ کن اثرات سے محفوظ نہ رہتا۔ ایسے نازک وقت میں پاکستان نے صرف ممکنہ جنگ کو ٹالنے میں اہم کردار ادا کیا بلکہ عالمی سطح پر اپنی ساکھ کو بھی مزید مستحکم کیا۔

پاکستان نے اس صورتحال میں جذباتی یا جانبدارانہ مؤقف اپنانے کے بجائے ایک متوازن اور ذمہ دار ریاست کا کردار ادا کیا۔ اسلام آباد نے بیک ڈور ڈپلومیسی کے ذریعے دونوں ممالک  سمیت خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ رابطے برقرار رکھے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پل کا کردار ادا کیا۔ اس عمل میں پاکستان کی سب سے بڑی کامیابی یہ رہی کہ اس نے خود کو ایک قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر منوایا،ایک ایسا کردار جو کسی بھی عالمی تنازع کے حل میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔

خلیجی ممالک خصوصا  سعودی عرب ، قطر، امارات کو بھی جنگ کا ایندھن بننے سے بچانے میں نہایت اہم اور ذمہ دارانہ سفارتی کوششیں کیں۔  خلیجی ممالک، جو عالمی معیشت اور توانائی کے مراکز کی حیثیت رکھتے ہیں، کسی بھی بڑے تصادم کی صورت میں سب سے پہلے متاثر ہو سکتے تھے، تاہم پاکستان نے برادر اسلامی ممالک کے ساتھ قریبی رابطوں، اعلیٰ سطحی سفارتی مشاورت اور اعتماد سازی کے اقدامات کے ذریعے اس خطرے کو کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ پاکستان کی قیادت نے یہ واضح پیغام دیا کہ خطے کا امن اجتماعی مفاد میں ہے اور کسی بھی قسم کی پراکسی کشیدگی  پورے عالم اسلام کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ اس متوازن اور مدبرانہ حکمتِ عملی کے باعث نہ صرف خلیجی ممالک کو براہِ راست تصادم میں کھنچنے سے روکا گیا بلکہ پاکستان نے ایک بار پھر خود کو امتِ مسلمہ کے اتحاد اور خطے کے استحکام کے لیے ایک سنجیدہ اور قابلِ اعتماد آواز کے طور پر منوایا۔

بین الاقوامی میڈیا نے بھی پاکستان کے اس مثبت کردار کو نمایاں انداز میں سراہا۔ معروف امریکی اخبار The New York Times نے اپنے تجزیے میں لکھا کہ پاکستان نے ‘‘خاموش مگر مؤثر سفارتکاری’’ کے ذریعے ایک ممکنہ جنگ کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اسی طرح BBC نے اپنی رپورٹ میں پاکستان کی کوششوں کو ‘‘تعمیری اور بروقت’’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد نے کشیدگی کم کرنے میں ایک کلیدی پل کا کردار ادا کیا۔ مزید برآں Al Jazeera نے بھی پاکستان کے اقدامات کو سراہتے ہوئے اسے ‘‘خطے میں استحکام کے لیے مثبت پیش رفت’’ قرار دیا۔ Reuters اور CNN جیسے عالمی خبر رساں اداروں نے بھی اپنی رپورٹس میں پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں کو اجاگر کیا، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ عالمی سطح پر پاکستان کے مثبت کردار کو سنجیدگی سے تسلیم کیا جا رہا ہے۔ یہ تمام عالمی ردعمل اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان کا بیانیہ، جو امن، مکالمے اور تعاون پر مبنی ہے، عالمی سطح پر پذیرائی حاصل کر رہا ہے۔ یہی وہ پہلو ہے جو پاکستان کو دیگر علاقائی قوتوں سے ممتاز کرتا ہے۔

دوسری جانب، بھارت میں صف ماتم بچھ چکی ہے۔ مودی اور اس کی ہندتوا  سرکار  کو جس خفت اور ذلالت کا سامنا ہے یہ منظر بھی لطف اٹھانے  کے لیے قابل دید ہے۔  بھارت کے ایوانوں میں اس وقت کھلبلی، بے چینی اور شدید فرسٹریشن کی کیفیت نمایاں ہے، کیونکہ پاکستان کی حالیہ سفارتی کامیابی نے اس کے برسوں پرانے بیانیے کو زمین بوس کر دیا ہے۔ وہ بھارت جو ہر عالمی فورم پر پاکستان کو تنہا کرنے کے دعوے کرتا رہا، آج خود سفارتی میدان میں پس منظر میں دھکیلتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ عالمی میڈیا کی جانب سے پاکستان کے کردار کی کھلے عام تحسین نے نئی دہلی کے لیے یہ صورتحال مزید ناقابلِ برداشت بنا دی ہے۔  یہی وجہ ہے کہ بھارت کی جانب سے اس کامیابی کو کمزور دکھانے، اسے وقتی قرار دینے اور مختلف تاویلات پیش کرنے کی کوششیں دراصل اس کی اندرونی شکست کا اعتراف ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے ابھرتے ہوئے مثبت اور ذمہ دار عالمی کردار نے بھارت کی اسٹریٹیجک برتری کے دعووں کو چیلنج کر دیا ہے، اور یہی وہ حقیقت ہے جو اسے سب سے زیادہ مضطرب اور بے چین کر رہی ہے۔

بھارت کی جانب سے مختلف بین الاقوامی فورمز پر پاکستان کے خلاف بیانیہ بنانے اور  اس کی ساکھ کو متاثر کرنے کی مسلسل کوششیں کی گئیں۔ تاہم حالیہ پیش رفت نے بھارت کے اس بیانیے کو نہ صرف کمزور کیا بلکہ  اس کے  جھوٹے بیانیے  کی چتا کو جلا کر  بھسم کردیا ہے۔جب دنیا ایک ممکنہ جنگ کے دہانے پر کھڑی تھی، اس وقت پاکستان نے امن کا پیغام دیا، جبکہ بھارت اس تمام عمل میں کہیں نظر نہیں آیا۔ یہ خاموشی خود ایک سوالیہ نشان بن گئی۔ عالمی برادری نے دیکھا کہ کون سا ملک بحران کے وقت آگے بڑھ کر ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے اور کون محض بیانیے کی سیاست میں مصروف ہے۔اس وقت پاکستان نہ صرف عالمی سفارتی سرگرمیوں کا اہم حصہ بنا بلکہ اس نے ایک ایسے وقت میں قیادت کا مظاہرہ کیا جب دنیا کو اس کی ضرورت تھی۔ اس پیش رفت کے بعد عالمی سطح پر پاکستان کا امیج ایک ذمہ دار اور فعال ریاست کے طور پر مزید مضبوط ہوا، جبکہ بھارت کی پوزیشن نسبتاً کمزور دکھائی دی۔

یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان کی اس سفارتی کامیابی نے خطے میں طاقت کے توازن کو ایک نئی جہت دی ہے۔ اب پاکستان کو محض ایک علاقائی کھلاڑی کے طور پر نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو عالمی مسائل کے حل میں مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے۔ اس کے برعکس بھارت کی  سفارتی تنہائی کی کوششیں نہ صرف ناکام ہوئیں بلکہ الٹا پاکستان کے حق میں ایک مثبت فضا پیدا کر گئیں۔پاکستان کی یہ کامیابی اس کی مستقل مزاج پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ ماضی میں بھی پاکستان نے مختلف علاقائی اور بین الاقوامی تنازعات میں ثالثی کا کردار ادا کیا ہے، اور ہر بار اس نے ذمہ داری اور توازن کا مظاہرہ کیا ہے۔ یہی تسلسل اس کی سفارتی طاقت کا اصل راز ہے۔
اس پیش رفت نے عالمی برادری کو یہ پیغام بھی دیا ہے کہ جنوبی ایشیا میں امن اور استحکام کے لیے پاکستان کا کردار ناگزیر ہے۔ پاکستان نے نہ صرف ایک ممکنہ جنگ کو روکنے میں مدد دی بلکہ اس نے یہ بھی ثابت کیا کہ وہ عالمی امن کے قیام میں ایک سنجیدہ اور قابلِ اعتماد شراکت دار ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ حالیہ سفارتی کامیابی نے پاکستان کو ایک نئی بلندی پر پہنچا دیا ہے۔ یہ صرف ایک وقتی کامیابی نہیں بلکہ ایک طویل المدتی تبدیلی کا آغاز ہے، جس کے اثرات آنے والے وقتوں میں بھی محسوس کیے جائیں گے۔ پاکستان آج ایک بار پھر دنیا کے سامنے ایک ایسے ملک کے طور پر ابھرا ہے جو نہ صرف اپنے مفادات کا تحفظ کرنا جانتا ہے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی عملی اقدامات کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہی وہ پہچان ہے جو کسی بھی قوم کو حقیقی معنوں میں عظیم بناتی ہے۔ پاکستان  زندہ باد