ماتمِ پہلگام ۔۔۔۔۔۔خاموشی کی چیخ

سمیع اللہ ملک (پہلی قسط)
کشمیر،وہ دلِ مضطرب جوبرف پوش پہاڑوں کے سینے میں دھڑکتاہے،ایک بارپھرلہو لہان ہوگیاہے۔پہلگام کی سرسبزوادی،جو کبھی سیاحوں کی مسکراہٹوں سے جگمگاتی تھی،آج ماتم کدہ بن چکی ہے۔وادی کشمیر،برصغیرکے دل میں ایک ایساخطہ ہے جو اپنی فطری خوبصورتی کے ساتھ ساتھ ایک پیچیدہ تاریخی وجغرافیائی ورثہ بھی رکھتاہے۔برطانوی استعمارکے اختتام پرجب برصغیرکوتقسیم کیاگیاتوریاست جموں وکشمیر کی حیثیت متنازعہ ہوگئی۔اس نزاع نے خطے کوایسی کشمکش میں دھکیل دیاجوآج بھیگزشتہ78سالوں سے سلگ رہی ہے۔
پہلگام میں سیاحوں پرحملہ صرف کشمیرمیں ہی نہیں بلکہ عالمی امن واستحکام کیلئیایک سنگین چیلنج ہے۔یہ خطہ1989سے تشدد کی لپیٹ میں ہے،جس میں بیرونی مداخلت،مقامی ناراضگی اورجیواسٹریٹجک مفادات کاامتزاج نظرآتاہے۔تاحال کسی گروہ نے ذمہ داری قبول نہیں کی،جوعام طورپرکشمیرمیں دہشتگردواقعات کے برعکس ہے۔یہ خلاء سازش کے نظریات کوہوادیتاہے۔
بیسرن کے سنسان میدانوں میں گونجتی گولیوں کی آوازنے نہ صرف انسانی جانیں نگلیں،بلکہ اس وادی کی خوبصورتی کوبھی نوحہ گربنادیا۔وہ میدان جہاں کبھی بچے تتلیاں پکڑتے تھے،آج خون آلودکپڑوں اورسسکیوں سے بھرچکاہے۔وہ چراگاہ جس پرکبھی گڈریے بانسری بجاتے تھے،آج انسانی المیے کی گواہی دے رہی ہے۔پہلگام،جہاں حالیہ دہشتگردانہ حملہ ہوا،ضلع اننت ناگ کاسیاحتی مقام ہے اوراس کامحلِ وقوع نہایت اسٹریٹیجک ہے۔یہ علاقہ نہ صرف مقامی سیاحت کامحورہے بلکہ امرناتھ یاتراکاایک اہم پڑابھی ہے، جس کی بنیادپریہاں ہمہ وقت سیکیورٹی موجودرہتی ہے۔
یہ حملہ محض ایک واردات نہیں،بلکہ ایک پیغام ہیایک خاموش اشارہ،جو سیاسی بساط پرکچھ بڑی چالوں کاپیش خیمہ معلوم ہوتاہے۔یہ حملہ عین اس وقت وقوع پذیرہوتاہے جب ایک اعلی امریکی وفد ہندوستان کے دورے پرموجودہے۔کیایہ محض اتفاق ہے؟ یاایک گہری،پیچیدہ سازش کاوہ مکارانہ باب ہے جس سے انسانی مستقبل کی تباہی کے مناظرچیخ چیخ کر اپنے طرف متوجہ کر رہے ہیں؟یہ وہ سوال ہے جس کاجواب تلاش کرنامحض صحافت کی نہیں،ضمیرِ انسانی کی ضرورت ہے۔
یہ پہلی بارنہیں کہ جب کبھی عالمی توجہ ہندوستان کی طرف مائل ہوتی ہے،کشمیرمیں خون کی ندی بہادی جاتی ہے۔تاریخ کی گردسے جھانک کردیکھئے توجب بھی کوئی اعلی امریکی عہدیدار بھارت آتاہے،کشمیرمیں دہشتگردی کے واقعات میں اضافہ ہوتاہے۔ کیاتعجب ہے کہ جب بھی امریکی یادیگرمغربی رہنماجنوبی ایشیاکادورہ کرتے ہیں،خطے میں تشدد کے واقعات میں اضافہ دیکھاگیا ہے۔مثال کے طورپر
٭2000میں امریکی صدرکلنٹن کے دورہ بھارت کے دوران چھٹی سنگھ جموں میں50سکھوں کوان کی مذہبی عبادت گاہ گوردوارہ میں گولیوں سے بھون دیاگیااورصرف آدھ گھنٹے میں اس کاالزام کشمیری مجاہدین اورپاکستان پرلگادیاگیاجبکہ خودبھارتی حکومت کی طرف سے مقررکردہ تحقیقی کمیشن جس کی سربراہی ایک ریٹائرڈجسٹس اورایک ریٹائرڈفوجی جرنیل کے ساتھ دیگرسوشل سروس کے ایک ماہرنے مشترکہ تحقیق کے بعدانڈین انٹیلی جنس کوموردِ الزام ٹھہرادیا۔
٭اسی طرح 2016میں پٹھانکوٹ میں فوجی اڈے پرامریکی صدراوباماکے دورے سے قبل ہوا،جسے پاکستان کے خلاف پروپیگنڈے کیلئے استعمال کیاگیا۔
٭جون2024میں ہندو یاتریوں پرحملہ،جس میں9/افرادہلاک ہوئے۔ابتدائی الزامات حسبِ روایت پاکستان پرلگائے گئے،مگربعدازاں تحقیقات کی دبیزپرتوں میں سے انڈین خفیہ اداروں کے سائے جھانکتے نظرآئے۔
٭ الفاران نامی گروہ نے1995میں پہلگام میں6غیرملکی سیاحوں کواغواکیا،لیکن تحقیقات میں انڈین خفیہ ایجنسی"را"کاہاتھ پایاگیا۔بعد میں یہ اغواکاری ایک’’فالس فلیگ‘‘ آپریشن ثابت ہوا۔
٭اب پہلگام پرموجودہ حملہ امریکی نائب صدرکے دورے کے موقع پرپیش آگیاجس کے بارے میں کئی عالمی تجزیہ نگاربھی شکوک وشبہات کااظہارکررہے ہیں کہ حملہ ممکنہ طور پرانڈیاکوبین الاقوامی ہمدردی حاصل کرنے یاتوجہ ہٹانے کی کوشش ہوسکتی ہے۔ آج ایک مرتبہ پھرامریکی نائب صدرکادورہ ہندایک اہم خارجی پس منظرمہیاکرتاہے۔ایسے واقعات نہ صرف خطے میں غیریقینی کی فضاپیداکرتے ہیں بلکہ عالمی توجہ کومخصوص بیانیوں کی طرف موڑتے ہیں۔ 
ٹرائیکا( امریکا،اسرائیل اورانڈیا)کے ملوث ہونے کے واضح ثبوت اورشواہدموجودہیں۔ بلوچستان اورکشمیرمیں ٹرائیکا پاک چین کے اس عظیم الشان پراجیکٹ سی پیک سے اس لئے خوفزدہ ہے کہ اس کی تکمیل سے دنیابھرکی تجارتی منڈیوں پرامریکااورمغرب کی اجارہ داری ختم ہونے کاخدشہ ہے۔اسی لئے امریکانے چین کوبحرِ ہنداوربحرالکاہل میں محدود کرنے کیلئے ’’کواڈ‘‘جیسااتحادبنایاہے۔ بحرہندکے سونامی کے بعدہندوستان،جاپان،آسٹریلیااورامریکانے آفات سے بچاکی کوششوں میں تعاون کیلئے2007میں ایک غیر رسمی اتحادبنایا۔جاپان کے اس وقت کے وزیراعظم شینزوآبے نے اس اتحادکوباضابطہ چوکورسیکورٹی ڈائیلاگ یاکواڈکی طرح شکل دی۔کواڈکوایشین آرک آف ڈیموکریسی قائم کرنا تھالیکن اپنے ممبروں کے درمیان ہم آہنگی کی کمی اورالزامات کی وجہ سے یہ گروپ چین مخالف بلاک کے سواکچھ نہیں رہا۔کواڈکی ابتدائی تکراربڑی حدتک سمندری سلامتی پرمبنی رہی ہے لیکن اب امریکا اسے چین کی بڑھتی ہوئی معاشی ترقی اورعالمی اجارہ داری کومحدودکرنے کیلئے استعمال کرنے کاخواہاں ہے۔
پاکستان اورچین سی پیک کے ذریعے اسٹرٹیجک پارٹنرہیں،اس لئے پہلگام کے واقعہ جیسی گہری سازش کے ممکنہ محرکات اوراس کوبنیادبناکر عالمی طورپرپاکستان پرالزام تھوپ کر جارحیت کاپروگرام ترتیب دینے کی کوشش کی جائے گی۔یہی وجہ ہے کہ انڈیانے پاکستان پردباؤبڑھانے کیلئے اپنے سفارتی تعلقات کوفوری طورپرمحدودکرتے ہوئے پاکستان میں اپنے سفارت خانے کے افرادمیں کمی کا اعلان کردیاہے،پاکستانی شہریوں پرپابندی عائد کرتے ہوئے ہرقسم کے ویزوں کومنسوخ کردیاہے اوراس وقت انڈیامیں جوپاکستانی ویزوں پرگئے ہوئے ہیں،ان کوہرحال میں یکم مئی تک ملک چھوڑنے کاکہاگیاہے۔انڈیااورپاکستان کے مابین دریاں کے پانی کی تقسیم کا عالمی معاہدہ‘‘سندھ طاس‘‘کاپانی روکنے کااعلان کردیاہے جبکہ اس معاہدے کاضامن’’ورلڈبینک‘‘ہے۔پاکستانی وزارتِ خارجہ نے بھی ہنگامی اجلاس بلاکرایسے ہی جوابی کاروائی کاعندیہ دے دیاہے۔گویااس خطے میں پاکستان پردباؤ بڑھاکراپنے اگلے مقاصد کے حصول کیلئے نئی صف بندیوں کاآغازکردیاگیاہے۔ 
اسرائیل، امریکا،اورانڈیاکے درمیان دفاعی تعاون گزشتہ دہائی میں نمایاں ہواہے۔رپورٹس کے مطابق،انڈین فوجیوں کی اسرائیل میں موجودگی اس کاسب سے بڑاثبوت ہے کہ ہزاروں انڈین شہری اسرائیلی فوج میں بھرتی ہوچکے ہیں،جوفلسطینیوں کے خلاف کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔غزہ میں جنگی جرائم کے عالمی دباؤاورتوجہ کوکم کرنے کیلئے اسرائیل اوراس کے اتحادی کسی نئے محاذکی تخلیق میں دلچسپی رکھتے ہیں۔خودمودی حکومت کااندرونی سیاست کایہ ایجنڈہ بھی سامنے آگیاہے کہ وہ کشمیر میں تشددکوانڈیاکی قومی یکجہتی کومضبوط کرنے اورمقامی آبادی کومزید دباکیلئے استعمال کرنے جارہاہے۔دوسری طرف انڈیا کھلم کھلاآقاؤں کے ایماپربلوچستان میں علیحدگی پسندوں کی مدد سے سی پیک کواور صوبہ خیبرپختونخواہ میں ٹی ٹی پی جیسی دہشگرد تنظیموں کی مددسے پاکستانی استحکام کونشانہ بنارہاہے۔ 
ابھی حال ہی میں دہشتگردوں اورخوارجی گروہ نے11مارچ2025کوجعفرایکسپریس پرحملہ کرکے درجنوں بے گناہ شہریوں کو شہیدکردیاجس کاساراپلان انڈین’’را‘‘نے تیار کیا تھا۔دہشتگردوں نے کھلے عام سی پیک کونشانہ بنانے کااعتراف کرتے ہوئے پرنٹ اورالیکٹرانک میڈیا پربراہ راست چین کواس پراجیکٹ کوفوری بندکرنے کی دہمکییاں بھی دیں۔ 
اب بھی وہی انداز،وہی اسلوب،وہی اہتمامِ خونریزی!توکیایہ محض دہشتگردی ہے؟یاایک سیاسی اسکرپٹ جس کاسٹیج کشمیرہے، اورتماش بین دنیاکی بے حس آنکھیں ہیں ۔گویا مظلوم کشمیریوں پرہونے والے ہندوبرہمن کے انسانیت سوزظلم وستم کی داستان میں ماضی کے سائے اورحال کادھواں اب خاموشی کے شورکے سمندرمیں تلاطم پیداکررہے ہیں جس کوعالمی نگاہوں سے پو شیدہ رکھنے کیلئے مودی جنتاایک مرتبہ پھراپنی اسی مکاری کاڈرامہ رچاکراقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پرسب سے پرانے تنازعے سے توجہ ہٹانے کیلئے اپنے امریکی اوراسرائیلی استعمارکی مددسے ایسے مکروہ اقدام کررہی ہے۔ 
کشمیرمیں حالیہ دہشتگردی کے واقعے کاجغرافیائی،سیاسی وعسکری اورانٹیلی جنس تناظرمیں ہونے والے واقعات کاجائزہ لیاجائے توبھارتی انٹیلی جنس ایجنسیوں پرماضی میں مختلف داخلی فالس فلیگ آپریشنزکا الزام لگتارہاہے جوبعدازاں تحقیقات پرانڈین سازش کے بھیانک اورخوفناک چہرے سے نقاب ہٹانے میں مددگارثابت بھی ہوچکاہے۔مثلاچھٹی سنگھ پورہ جموں،پٹھانکوٹ اورممبئی حملوں کے تناظرمیں یہ بحث ہمیشہ زندہ رہی ہے کہ کہیں نہ کہیں ان کارروائیوں میں داخلی ہاتھ ملوث رہاہے،جو عالمی رائے عامہ کومتاثر کرنے کیلئے انجام دی جاتی ہیں۔اسی طرح،ٹی ٹی پی کے ذریعے پاکستان میں دہشتگردی،اوربلوچستان میں علیحدگی پسند تحریکوں کی بھارتی سرپرستی کے بھی مصدقہ شواہدموجودہیں،جنہیں پاکستان متعددبین الاقوامی فورمزپرپیش کرچکاہے۔(جاری ہے)

ِ