سمیع اللہ ملک (دوسری قسط)
ماضی میں بھی دونوں ممالک جنگ کے دہانے تک پہنچے،جیساکہ2001کاپارلیمنٹ حملہ یا2019کاپلوامہ واقعہ،مگرپھربھی بیک چینل مذاکرات،عالمی دبااورخطے کے زمینی حقائق نے دونوں ملکوں کوایک مہیب انجام سے روکے رکھااوردونوں ممالک سفارت کاری کے ذریعے واپس آئے۔بیک چینل مذاکرات،عالمی دباؤاورجنگ کے بعدکی ہولناکی کااحساس دونوں کومیزپرلے آیا۔پہلگام حملے کے بعدموجودہ کشیدگی اسی تناظر میں دیکھنے کی متقاضی ہے۔تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جنگ کی پہلی گولی سے پہلے بھی ہزار مواقع ہوتے ہیں۔دونوں اطراف عقل وشعورکے چندچراغ ہمیشہ روشن رہتے ہیںشرط یہ ہے کہ کوئی ان کے گردپروانہ بننے کی ہمت کرے۔پانی کی جنگ ہویاخاک کی،انسانیت کی بقا ہمیشہ وہیں ممکن ہے جہاں بات چیت کادریاخشک نہ ہو۔
اقوام متحدہ کے آبی کورسز1997کاکنونشن میں اگرچہ بھارت دستخط کنندہ نہیں،مگراس کے اصول عرفی بین الاقوامی قانون کا درجہ رکھتے ہیں۔عالمی بینک کاثالثی کرداراس معاہدے کوقانونی تحفظ فراہم کرتاہے۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل آبی جارحیت کوتجارتی ناکہ بندی امن کے خلاف اقدام کے طورپرخبردارکرتے ہوئے اس پرعالمی پابندیاں لگاسکتی ہے۔
پانی کازبردستی روکنا’’تجارتی ناکہ بندی‘‘کے زمرے میں آتاہے اوریہ عمل امن وسلامتی کے خلاف خطرہ سمجھاجاتاہے۔اقوام متحدہ چارٹرکے باب7کے تحت،اگرکوئی عمل عالمی
امن کوخطرے میں ڈالے،تواس پرپابندیاں،ثالثی،یاحتی کہ اقوام متحدہ کی افواج کااقدام بھی ممکن ہے اگرچہ عملی سطح پریہ امکانات اکثرسیاسی حمایت سے مشروط ہوتے ہیں۔ بھارت کو بین الاقوامی سطح پرکٹہرے میں لانے کیلئے پاکستان کوسفارتکاری،قانونی مہارت،اورعالمی حمایت کے امتزاج کی ضرورت ہوگی۔یادرکھیں:دنیاکاقانون شمشیر سے نہیں،تدبیر سے لکھاجاتاہے۔
بھارت کی جانب سے ممکنہ آبی جارحیت کوہمیشہ کیلئے ختم کرنے کیلئے ضروری ہے کہ اس کے مستقل حل کی راہیں تلاش کی جائیں جس کیلئے فوری طورپران تین تجاویزپرعملدرآمد کیلئے عالمی پیمانے پرسفارتی کاروائیوں کاآغازکیاجائے۔
٭سندھ طاس معاہدے اوردیگرتنازعات کے حل کیلئے عالمی ثالثی کمیشن بناتے ہوئے باہمی مذاکرات کوفعال بنایاجائے۔
٭دوسرافوری طورپرورلڈبینک کی ثالثی کیلئے مشترکہ درخواست کااہتمام کیاجائے۔تیسراعلاقائی آبی معاہدوں کیلئے"ایس سی او"یا"سارک"کے فریم ورک کواستعمال کیاجائے۔
٭آخری تجویزیہ ہے کہ اقوام متحدہ میں مستقل آبی نمائندگی کاقانون منظورکروایاجائے تاکہ مستقبل میں کہیں بھی ایسا تنازعہ جوعالمی امن کیلئے خطرہ بن سکتاہو،اس کیلئے اقوام متحدہ اپنابھرپورکرداراداکرے۔یادرہے کہ اگربرصغیر کے دو ایٹمی ملک دریاکے پانی پرجنگ چھیڑدیں،تویہ صرف ان کا نہیں،دنیاکامسئلہ بنے گا۔ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی تاریخ کی روشنی سے قانون وسفارت کی نئی راہیں نکالیںاوربجائے دریاروکنے کے،ان کے بہامیں امن کی لہریں شامل کریں۔
پہلگام کے فالس فلیگ آپریشن کے بعدبین الاقوامی ردعمل بھی سامنے آرہاہے کہ کسی طورپردوایٹمی قوتوں کے درمیان جنگ کے خطرات کواگرختم نہیں توکم کیاجائے۔پاکستان کا اتحادی ہونے کے ناطے چین کیلئے سی پیک منصوبے کی حفاظت اس کی سب سے بڑی ترجیح میں شامل ہے کیونکہ سی پیک منصوبہ ہی چین کی طرف سے دنیامیں سب سے بڑے منصوبے’’بی آرآئی‘‘بیلٹ اینڈروڈ انیشی ایٹوکے ساتھ ملائے گا۔ضروری ہے کہ قارئین کیلئے انتہائی اختصارکے ساتھ اس پراجیکٹ کے متعلق بتایاجائے کہ چین اپنے پراجیکٹس کیلئے کیوں اورکس قدرحساس ہے۔
یہ منصوبہ2013میں چینی صدرشی جن پنگ نے پیش کیاتھا۔بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹودنیاکاسب سے بڑاانفراسٹرکچراوراقتصادی رابطہ کاری کامنصوبہ ہیاوراس کی مجموعی مالیت کاتخمینہ تقریبا1.3سے2ٹریلین امریکی ڈالرکے درمیان لگایاگیاہے۔اس کامقصدقدیم شاہراہِ ریشم کے تصورکوجدیدتقاضوں کے مطابق دوبارہ زندہ کرناہے،تاکہ ایشیا،یورپ، افریقا،اورلاطینی امریکا کے ممالک کے درمیان اقتصادی اورتجارتی روابط کومضبوط کیاجاسکے۔یہ زمینی راستہ ہے جوچین کووسطی ایشیا،مشرقی یورپ،اور مغربی یورپ سے جوڑتاہے ۔ گوادرپورٹ21ویں صدی کی میری ٹائم سلک روڈکاواحدسمندری راستہ ہے جوچین کوجنوب مشرقی ایشیا،جنوبی ایشیا،مشرقی افریقا،اوریورپ کے ساحلی علاقوں سے منسلک کرتا ہے۔
اس کامقصدقدیم شاہراہِ ریشم کے تصورکوجدیدتقاضوں کے مطابق دوبارہ زندہ کرناہے،تاکہ ایشیا،یورپ،افریقا،اورلاطینی امریکا کے ممالک کے درمیان اقتصادی اورتجارتی روابط کومضبوط کیاجاسکے۔یہ زمینی راستہ ہے جوچین کووسطی ایشیا،مشرقی یورپ،اور مغربی یورپ سے جوڑتاہے۔گوادرپورٹ21ویں صدی کی میری ٹائم سلک روڈکاواحدسمندری راستہ ہے جوچین کوجنوب مشرقی ایشیا،جنوبی ایشیا،مشرقی افریقا،اوریورپ کے ساحلی علاقوں سے منسلک کرتاہے۔
چینی حکومت کی جانب سے2023تک براہ راست تقریباایک ٹریلین امریکی ڈالرخرچ یامختص کیے جاچکے ہیں۔نجی اورریاستی چینی بینکوں،کمپنیوں،اورفنڈزکی شمولیت سے متوقع مجموعی مالیت ڈیڑھ سے 2ٹریلین امریکی ڈالرتک پہنچ سکتی ہے۔مختلف ذرائع کے مطابق اگرتمام منصوبے مکمل ہوئے تومنصوبہ کی مالیت اوربڑھ سکتی ہے۔بی آرآئی میں150سے زائدممالک اورادارے کسی نہ کسی شکل میں وابستہ ہیں۔بی آرآئی منصوبے کے تحت بندرگاہیں،ریلوے،سڑکیں،توانائی(بجلی،گیس،تیل)،ٹیلی کمیونیکشن،لاجسٹک کوریڈورز، فائبرآپٹک جی،اے آئی5،اورڈیجیٹل سلک روڈمیں سرمایہ کاری کی گئی ہے۔گویاعالمی معاشی نطام پرمکمل گرفت نظرآ رہی ہے۔اس کے ساتھ ہی اگرچین کی علاقائی توسیع کی طرف نظر دوڑائیں توبی آرآئی اب ایشیا،یورپ،افریقا،لاطینی امریکااور بحرالکاہل کے متعددممالک تک پھیل چکاہے۔
اپریل2025میں،چین کے گوانگژوبندرگاہ سے پیروکے چانکائے پورٹ تک براہِ راست شپنگ روٹ کاآغازہوا۔یہ راستہ جو’’کوسکو کوسکووولگا‘‘نامی 300میٹرلمبے جہازکے ذریعے چلایاجارہاہے،ایشیااورجنوبی امریکاکے درمیان تجارتی روابط کومضبوط بنانے کیلئے اہم قدم ہے۔اس سے پیروتک نقل وحمل کاوقت تقریبا30دن ہوگیاہے اورلاجسٹک لاگت میں تقریبا20%کمی آئی ہے۔چین لاؤس ریلوے،جوبی آرآئی کاایک نمایاں منصوبہ ہے،نے دونوں ممالک کے درمیان فریٹ ٹائم اورلاجسٹک لاگت کونمایاں طورپرکم کیاہے۔ چین اورلاس کے درمیان تجارتی حجم میں سال بہ سال26.6فیصداضافہ ہوا،جو7.1بلین امریکی ڈالرتک پہنچ گیاہے۔
ورلڈبینک کے مطابق،بی آرآئی کے تحت شامل معیشتیں دنیاکی30%جی ڈی پی،60%آبادی،40%عالمی تجارت اور75معروف توانائی کے ذخائرکی نمائندگی کرتی ہیں۔ یہ منصوبہ سرحدپاربنیادی ڈھانچے کوبہتربنانے،تجارتی لاگت کوکم اورتجارتی قواعد کوبہتربنانے کے مواقع فراہم کرتاہے۔بی آرآئی کے تحت حاصل کردہ قرضوں کی ادائیگی میں کچھ ممالک،جیسے زیمبیا،پاکستان،اورسری لنکاکومشکلات کاسامناہے جس سے ان کی معیشتوں پردباؤبڑھاہے۔جس کی بناپربڑے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے ماحولیاتی اثرات پربھی تشویش کااظہارکیا گیاہے۔ورلڈٹریڈمارکیٹ(اوای سی ڈی،ای یوآئی پی او)کی ایک رپورٹ کے مطابق بی آرآئی کے تحت سرمایہ کاری حاصل کرنے والے ممالک سے جعلی مصنوعات کی تجارت میں اضافہ ہواہے۔بی آرآئی اب اپنے دوسرے مرحلے میں داخل ہورہاہے،جس میں بڑے منصوبوں سے ہٹ کرچھوٹے،پائیدار،اورماحولیاتی لحاظ سے دوستانہ منصوبوں پرتوجہ دی جارہی ہے۔اس میں قابل تجدیدتوانائی کے منصوبے اورنجی چینی سرمایہ کاری شامل ہیں،تاکہ قرضوں کے بوجھ اورماحولیاتی اثرات کوکم کیاجا سکے
پہلگام حملے کوچین کے معاشی محاصرے کے تناظرمیں پاک-چین اقتصادی راہداری پردباڈالنے کی ایک ممکنہ حکمتِ عملی کے طورپردیکھاجاسکتاہے۔اس حملے کے بعدبھارت کی جانب سے پاکستان پرالزامات،آبی معاہدوں کی معطلی،اورعسکری تیاریوں میں اضافہ،خطے میں کشیدگی کوبڑھارہاہے،جس کااثرسی پیک جیسے منصوبوں پربھی پڑسکتاہے۔چین نے پہلگام حملے کے بعدپاکستان کے موقف کی مکمل حمایت کی اورغیرجانبدارتحقیقات کامطالبہ کیا۔چینی وزیرخارجہ وانگ یی نے پاکستانی وزیرخارجہ اسحاق ڈار سے گفتگومیں اس بات پرزوردیاکہ مسائل کاحل مذاکرات کے ذریعے تلاش کیاجاناچاہیے۔
بھارت،پہلگام حملے کوبنیادبناکرخاص طورپرچین کے خلاف اقدامات کیلئے امریکااوردیگرمغربی ممالک سے حمایت حاصل کرنے کیلئے پورازورلگائے گاجس میں اب تک اس کو کوئی خاص کامیابی نہیں ہوسکی تاہم مودی حکومت پوری کوشش کررہی ہے کہ اس فالس فلیگ آپریشن کے نتیجے میں پاکستان پرعسکری اورسفارتی اقدامات کادباؤڈال کرسی پیک کو نقصان پہنچایاجائے تاکہ چین اور پاکستان کے اقتصادی مفادات متاثرہوں۔ایسے اقدامات سے خطے میں کشیدگی بڑھ سکتی ہے،جونہ صرف پاکستان بلکہ چین کیلئے بھی تشویش کا باعث ہوسکتی ہے۔توقع ہے کہ عالمی ردعمل کے نتیجے میں امریکااورروس انڈیاکے اسٹریٹجک پارٹنرزہونے کے باوجود، خطے میں جوہری جنگ کے خطرے کوروکنے کیلئے دباؤڈالیں گے۔
آج جب بھارت اورپاکستان دونوں نیوکلیئرصلاحیت کے حامل ہیں،توپانی کی جنگ کاانجام صرف ایک فریق کی شکست نہیں،بلکہ پورے خطے کی ہلاکت ہوگا۔دریااگرہتھیاربن جائیں،توزندگی مرجاتی ہے۔ہمیں پھرسے وہی تدبر،وہی حکمت،اوروہی تہذیب کی روشنی درکارہے جس نے1960میں سندھ طاس معاہدے کوجنم دیا۔(جاری ہے)