سمیع اللہ ملک (آخری قسط)
خطے کی موجودہ عالمی صورتِ حال محض دوقوموں کی کشمکش نہیں بلکہ ایک وسیع ترطاقت آزمائی کی تصویربن چکی ہے جہاں عالمی قوتیں علاقائی شطرنج کی بساط پراپنے سفارتی حربوں کے پیادوں کواستعمال کرکے اپنے مفادات کی تکمیل کیلئے ایسے خوفناک ڈراموں کی پشت پناہی پرموجود ہوتے ہیں۔جیساکہ ہم سب جانتے ہیں کہ امریکااوراس کے اتحادی چین کے تجارتی و عسکری اثرورسوخ کوروکنے کی کوشش کررہے ہیں،وہیں سی پیک جیسے منصوبے،جنہیں پاکستان اورچین نے اپنی ترقی کی ریڑھ کی ہڈی قراردیاہے،مغربی اوربھارتی قوتوں کی آنکھوں کاکانٹابنے ہوئے ہیں۔
امریکااورچین کے مابین بڑھتی ہوئی تجارتی کشمکش میں بھارت کی شمولیت کونظراندازنہیں کیاجاسکتا۔کواڈاتحاد،جس میں بھارت، امریکا،جاپان،اورآسٹریلیاشامل ہیں،دراصل چین کے خلاف ایک معاشی وعسکری بندباندھنے کی کوشش ہے۔چین اورپاکستان کا مشترکہ منصوبہ سی پیک،بھارت اورمغربی طاقتوں کی آنکھ کاکانٹاہے۔بلوچستان اورکشمیرمیں دہشتگردی کواس تناظرمیں بھی دیکھاجاسکتاہے کہ یہ سی پیک کوغیرمستحکم کرنے کی ایک کڑی ہے۔
انڈو-امریکن اتحاد،اسرائیلی عسکری معاونت،اورافغانستان میں ٹی ٹی پی کی سرگرمیاں،سب ایک مربوط جغرافیائی تانے بانے کی نشاندہی کرتی ہیں۔کیایہ سانحہ بھی اسی عالمی بساط پرایک پیادہ قربان کرنے کی حکمت عملی ہے؟
اسرائیل اوربھارت کے درمیان عسکری وانٹیلی جنس تعاون اب کسی سے ڈھکاچھپانہیں۔غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے دوران بھارت کی حمایت،اوراسرائیلی فوج میں بھارتی رضاکاروں کی شمولیت،یہ سب ایک نئے سفارتی اتحادکی نشاندہی کرتے ہیں جس کے اثرات جنوبی ایشیا میں بھی دیکھے جاسکتے ہیں۔
امریکاانڈیاکوایشیامیں چین کے خلاف استعمال کرناچاہتاہے،لہذاوہ کشمیرکے معاملے پرخاموشی اختیارکرسکتاہے۔تاہم،اگرثبوت سامنے آتے ہیں کہ انڈیاخود ساختہ حملوں میں ملوث ہے،توامریکاکی پوزیشن پیچیدہ ہوسکتی ہے۔تاہم ٹرمپ نے اقتدارمیں آنے کے بعدجس طرح عالمی چپقلش کوبڑھانے کیلئے جن پالیسیوں کااعلان کرکے اپنے دوستوں کو بھی نہیں بخشا،اس کابین الاقوامی ردعمل بھی سامنے آناشروع ہوگیاہے اورعین ممکن ہے کہ ٹرائیکانے باہم ایک سازش کے تحت پہلگام جیسے واقعہ کیلئے اپنے منصوبوں کی تکمیل کیلئے اس ڈرامہ کواس لئے بھی رچایاہے کہ ٹرمپ۔اسرائیل اورانڈیاکے اندرونی خلفشارسے توجہ ہٹانے کیلئے ویساہی ڈرامہ کیاجائے جواس سے پہلے کئی مواقع پرکیاگیاہے۔
چین کشمیرکے معاملے پرپاکستان کی حمایت کرتارہاہے اورسی پیک کے تحفظ کواپنی قومی سلامتی سے جوڑتاہے۔اگرانڈیاکاملوث ثابت ہوتاہے،توچین اقوام متحدہ یادیگرفورمز پردباؤ بڑھاسکتاہے۔دوسری طرف روس،جوچین کااتحادی ہے،ممکنہ طورپرانڈیاپرنرم مؤقف اپنائے گاکیونکہ انڈیا اسلحے کی خریداری میں روس کااہم گاہک ہے۔
مکمل سیاسی تجزیہ کیلئے داخلی محرکات کے ان اہم نکات کوبھی سامنے رکھناہوگا:
٭کیاانڈیاکشمیرمیں اپنی پالیسیوں کی ناکامی چھپانے یافوجی موجودگی کوجوازدینے کیلئے ایسے واقعات کواستعمال کررہاہے؟
٭کیا انڈیا نے کشمیراورہندوستان میں مسلمانوں پرجاری مظالم سے توجہ ہٹانے کیلئے یہ فالس فلیگ آپریشن کیاہے؟
٭کیاخطے میں بھارتی تسلط سے بنگلہ دیش کی آزادی پاک بنگلہ دیش کے نئے دوستی کے اتحادکی وجہ یہ ڈرامہ رچایاگیاہے؟
٭کیا(انڈیا-اسرائیل-امریکا)ایک نیامحاذ کھول کرچین،پاکستان،اورایران کے اتحادکوکمزورکرنا چاہتے ہیں؟
٭کیامغربی میڈیا اس واقعے کو’’اسلامی دہشتگردی‘‘کے طورپرپیش کرکے مقامی کشمیری مزاحمت کوداغدارکرنے کی کوشش کرے گا؟
بین الاقوامی المیے میں ذرائع ابلاغ، بیانیے کی جنگ،اورسچ کاگلاگھونٹنے میں ٹرائیک((امریکا،اسرائیل اورانڈیا)کے میڈیاکاکردار قابلِ نفرت بن چکاہے۔جہاں ایک طرف غزہ میں اسرائیلی مظالم پرپردہ ڈالنے کی کوشش ہورہی ہے،وہیں کشمیرمیں اس طرح کے واقعات کوری ایکشنقراردیکردنیاکوگمراہ کیاجارہاہے۔بین الاقوامی میڈیاکی خاموشی، بالخصوص مغربی ذرائع ابلاغ کاتعصب،ان کارروائیوں کوپسِ منظرمیں دھکیل دیتاہے تاکہ اسرائیل وبھارت کے اقدامات پرسوال نہ اٹھیں۔کیادنیاکی آنکھیں اب صرف وہی آنسو دیکھتی ہیں جوامریکاکی مرضی سے بہائے جائیں؟
بین الاقوامی قانونی تناظرمیں ان عالمی طاقتوں کی خاموشی جواقوام متحدہ کی قرردادوں کے مطابق کشمیرکے حق خودارادیت کے معاہدے میں بطورضامن دستخط کرچکی ہیں،اقوامِ متحدہ کی قراردادیں،بالخصوص قراردادنمبر47جو1948میں منظورکی گئی، کشمیرمیں استصوابِ رائے کی حمایت کرتی ہے۔تاہم،بھارت اس پرعملدرآمدسے گریزاں رہاہے۔عالمی عدالتِ انصاف اورانسانی حقوق کی تنظیمیں اس مسئلے پرمسلسل خاموشی اختیارکیے ہوئے ہیں۔اقوام متحدہ کی طرف سے منظورشدہ قراردادیں ان ضامنوں سے سوال کرتی ہیں کہ کیا اگرتمہارے ملک کے عوام کے ساتھ ایسامعاہدہ اوروعدہ کیاگیاہوتاتوکیاتم اسی طرح خاموش رہتے، لاکھوں بے گناہ کشمیریوں کی شہادت پراسی طرح آنکھیں بندرکھتے؟
تف ہے تمہارے اس کردارپرکہ خودتودنیابھرمیں انسانی حقوق کے چیمپئن بننے کادعویٰ کرتے ہولیکن کشمیرکے معاملے پرتم سب کوسانپ سونگھ جاتاہے اورتم سب اپنے مفادات کے اسیربن کرغزہ میں نیتن یاہواورکشمیرمیں مودی کی ظالم فوج کوکشمیریوں کے کھلے عام قتل کالائسنس دینے میں کوئی عارنہیں سمجھتے۔بین الاقوامی قانون کے تحت شہری آبادی کونشانہ بنانا جنگی جرم کے زمرے میں آتاہے،اورایسے واقعات میں اقوامِ متحدہ کی مداخلت لازم ہے،بصورتِ دیگرعالمی اداروں کی ساکھ پرسوال اٹھتے ہیں۔
وادی کشمیر،تیری خاک بھی چراغاں ہے،کشمیرکی فضاآج بھی خموش نہیں۔وہ اپنے زخموں سے بھی چیختی ہے،اپنے بادلوں سے بھی روتی ہے،یہ ایک حادثہ نہیں،یہ تاریخ کاورق ہے خون میں ڈوبا،چیخوں سے مزین،اورجھوٹ کے غلاف میں لپٹاہوا،اوراپنی برف میں بھی سوال چھپائے رکھتی ہے۔آج بھی کئی سوال ہیں جوتاریخ کے سینے میں دھڑکتے ہیں۔ وادی کشمیر کی سرسبزپہاڑوں میں بہائے جانے والاخون آج بھی یہ سوال پوچھتاہے کہ اگریہ سازش ہے،تواس کے معمارکون ہیں؟اگرانڈیاخوداپنے شہریوں کے خون سے اپنا دامن رنگ رہاہے،توکیا عالمی برادری اس جرم کی چشم پوشی کرے گی؟اگرامریکاپشت پناہی کرے گا،توچین وروس کاردعمل کیاہوگا؟
یہ واقعہ صرف ایک سانحہ نہیں بلکہ عالمی سفارتی شطرنج کی چال معلوم ہوتاہے،جس میں انسانی جانیں محض مہرے بن چکی ہیں۔اگردنیا نے اس پرسنجیدگی سے غورنہ کیاتویہ شعلے پورے خطے کواپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔اب وقت ہے کہ عالمی برادری،اقوام متحدہ،اورانسانی حقوق کی تنظیمیں نہ صرف اس واقعہ کی شفاف تحقیقات کامطالبہ کریں بلکہ اس پسِ
پردہ ہاتھوں کو بھی بے نقاب کریں جوامن کے نام پرجنگ کاکھیل کھیل رہے ہیں۔واقعے کی آزادانہ بین الاقوامی تحقیقات ہونی چاہئیں،خاص طور پرجب تاریخی طور پرانڈین خفیہ ایجنسیوں کے ملوث ہونے کے شواہدموجودہیں۔
٭جیوپولیٹیکل احتیاط اورکشمیر کے معاملے پرپاکستان کوچین اورروس کے ساتھ تعلقات کومزیدمضبوط بنانے کیلئے فوری اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔خطے میں امن وسلامتی اورکشمیر کے معاملے پر اپنے ہمسایوں افغانستان، ایران کے ساتھ مل کراقوام متحدہ میں انڈیاکی ممکنہ جارحیت کے خلاف بلاک بنانے کی ضرورت ہے۔
٭خطے کے عوام کے اندرفوری طورپرپرنٹ اورالیکٹرانک میڈیاکے ذریعے ایک جامع عوامی بیداری کی مہم کاآغازکیاجائے اور ایسے واقعات کے پیچھے چھپی سازشوں کے بارے میں آگاہ کیاجائے،تاکہ عوام پروپیگنڈے کاشکارنہ ہوں۔
٭اس سارے معاملے میں سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ کشمیرکی مقامی آبادی کوتشدد کی قیمت اداکرنی پڑرہی ہے،جبکہ طاقتور ممالک اپنے مفادات کی جنگ لڑرہے ہیں۔
٭یہ مضمون ان تمام عناصر کیلئے ایک دعوتِ فکرہے جوخطے میں دیرپاامن کے خواہاں ہیں۔یہاں ہرفقرہ ایک سوال ہے،اورہرسوال کے پیچھے ایک چیخ ہے جوانصاف کی متقاضی ہے۔