سمیع اللہ ملک (پہلی قسط)
آج کی تحقیقی دستاویزمیں بھارت اورپاکستان کے درمیان پانی کے مسئلے پرممکنہ جنگی صورتحال کاایک فکری،قانونی اورتہذیبی تجزیہ پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔اس میں تاریخی پس منظر،سیاسی بیانات،فوجی توازن،بین الاقوامی قانون،اورعالمی اداروں کے کردارکاجائزہ لیاہے۔تحریر میں ادبی شائستگی،فکری گہرائی اورلسانی وقارکاخاص خیال رکھاگیاہے تاکہ یہ محض ایک رپورٹ نہ ہو بلکہ ایک فکری وعلمی شہادت بن سکے۔
برصغیرکاخطہ،جس نے کبھی دریائے سندھ کی روانی میں تمدن کی کشتیاں بہائی تھیں،آج اسی پانی کی دھارپرشمشیرآبدارتھامے کھڑا ہے۔دریاں کی سرزمین،جوکسی زمانے میں زندگی کی علامت تھی،اب باہمی عدم اعتماد،جغرافیائی رقابت اورسیاسی ترجیحات کے ہاتھوں جنگ کی دہلیزپرکھڑی ہے۔بھارت کے حالیہ جارحانہ بیانات اورپاکستان کاردِعمل ایک ایسے المیے کی نویددے رہے ہیں جو صرف فوجی محاذپرنہیں،بلکہ تہذیبی،ماحولیاتی اورانسانی سطح پربھی خوفناک نتائج پیداکرسکتاہے۔
انڈیااورپاکستان کے درمیان پانی کاتنازعہ ایک طویل عرصے سے جاری ہے،جوبنیادی طورپردریائے سندھ کے طاس سے منسلک ہے۔حالیہ ہفتوں میں انڈیاکے آبی وسائل کے وزیرسی آرپاٹیل کے بیان(پاکستان کوایک قطرہ پانی نہیں دیاجائے گا)اورجوابی ردعمل میں پاکستان کایہ کہناکہ پانی روکنا"اقدامِ جنگ"ہوگا،محض سیاسی بیان نہیں بلکہ ایک قومی سلامتی کااقرارہے۔آبی ذرائع پاکستان کی زراعت،معیشت،اورانسانی بقاسے جڑے ہیں۔ان کاروکناگویازندگی کی شہ رگ کودباناہے۔(ایسااقدام جنگ کے مترادف ہوگا) نے اس مسئلے کوایک نئے تناکی طرف دھکیل دیاہے۔
برصغیرمیں پانی صرف ایک قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ تہذیبوں کاخمیرہے۔سندھ،جہلم،چناب اورراوی کے کناروں پرانسانی تاریخ نے کئی تمدنوں کوجوانی بخشی۔1960کاسندھ طاس معاہدہ اس تاریخی حقیقت کااعتراف تھاکہ دریاکسی قوم کی جاگیرنہیں،بلکہ خداکی نعمت ہیں۔تاہم آج یہ معاہدہ بھارتی قیادت کے جارحانہ بیانات کی زدمیں ہے۔وزیرآبی وسائل سی آرپاٹیل کابیان کہ"پاکستان کوایک قطرہ بھی نہ ملے"ایک ایسا اشتعال انگیزجملہ ہے جوسیاست کوسفارت سے جداکرکے اسے خالص طاقت کے پیمانے پرلے آتاہے۔یہ پانی کوزندگی سے کاٹ کرہتھیارمیں تبدیل کرنے کی کوشش ہے گویانیل کوفرعون کی ملکیت قراردے دیناہے۔
پانی اب فقط زراعت کامسئلہ نہیں رہا؛یہ قومی سلامتی کا،وجودکا،اورعلاقائی سیاست میں بالادستی کامسئلہ بن چکاہے۔دریاوہ پرخروش وجودبن گئے ہیں جن کے کناروں پراب کھیتی کم اورتوپوں کی گرج زیادہ سنائی دیتی ہے۔تاریخی اعتبارسے دریائے سندھ اوراس کے معاون دریاں نے نہ صرف زراعت کوسہارادیابلکہ دونوں ملکوں کے عوام کے مابین قدرتی اشتراک کاکرداربھی اداکیا۔ 1960کاسندھ طاس معاہدہ،جوعالمی ثالثی اورعقلی سفارتکاری کاشاہکارتھا،آج شدیددباکی زدمیں ہے۔بھارت کے آبی وسائل کے وزیرکاحالیہ بیانایک ایساسیاسی طبلِ جنگ ہے جس نے فضاکوبارودآلودکردیاہے۔
پاکستان کی90فیصدزراعت دریائی پانی پرمنحصرہے۔پانی کی کمی قحط اورمعاشی تباہی کاسبب بن سکتی ہے۔متعصب ہندوقوم پرست مودی اپنے سیاسی اقتداراوراپنی سیاسی غلطیوں کوعوام سے چھپانے کیلئے بھی دریاں کاکنٹرول مقامی ریاستوں(جموں وکشمیر، پنجاب)میں سیاسی استحکام کیلئے اہم سمجھتاہے تاکہ عوام کی توجہ داخلی مسائل سے ہٹاکران خطرات کی طرف مبذول کرائی جا سکے۔
دریاں کی تقسیم اوراستعمال کے حوالے سے بین الاقوامی ادارے نے اخلاقی معیارات،آبی تنازعات کومدںطررکھتے ہوئے ایک نظریاتی فریم ورک جاری کررکھاہے جوعالمی قانون تین اہم اصولوں’’معقول ومنصفانہ استعمال‘‘،"’’نقصان سے بچاؤ‘‘اور’’اطلاع اور مشاورت‘‘پراستوارہے۔یہ اصول اقوام متحدہ کے آبی کورسزسے متعلق کنونشن1997 میں واضح طورپربیان کئے گئے ہیں جسے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے منظورکیاتھا۔اگرچہ بھارت اس معاہدے کادستخط کنندہ نہیں،لیکن یہ اصول’’عالمی عرفی قانون‘‘ کے زمرے میں آتے ہیں، یعنی تمام اقوام ان کے اخلاقی طورپرپابندہیں۔بھارت اگردریاں کابہاروکنے یارخ موڑنے کی کوشش کرتاہے،تووہ نہ صرف سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرے گابلکہ اقوامِ عالم کے متفقہ قانونی اصولوں کے خلاف بھی اقدام تصورکیاجائے گا۔یہ عمل ایک ایساقانونی جرم ہوگاجوبین الاقوامی دبااورتعزیرات کاجوازبن سکتاہے۔
1960میں عالمی بینک کی ثالثی سے طے پانے والاسندھ طاس معاہدہ،بین الاقوامی معاہدات میں ایک نمایاں مقام رکھتاہے۔یہ معاہدہ اس بنیادپرقائم ہواتھاکہ تین مشرقی دریا(راوی،بیاس،ستلج)بھارت کو،اورتین مغربی دریا((سندھ،جہلم،چناب)اکستان کودیے گئے۔ورلڈ بینک اس معاہدے کا’’ضامن‘‘ہے،اوراس کی نگرانی،شکایات کے ازالے،اورثالثی میں اس کاکردارکلیدی ہے۔انڈیاکومغربی دریاں پر محدوداستعمال((مثلاًبجلی کی پیداوار)کی اجازت ہے،لیکن پانی کوروکناممنوع ہے۔اگربھارت دریاروکنے کی کوشش کرے توپاکستان عالمی بینک میںتنازع کی درخو است دائرکرسکتاہے۔اس کامطلب یہ ہے کہ یہ معاملہ محض دوممالک کے درمیان نہیں رہے گا،بلکہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں اوردنیاکی نظروں میں ایک قانونی مقدمہ بن جائے گاگویاسندھ طاس معاہدہ ان بین الاقوامی قوانین کی روشنی میں امن یافناکی لکیربن چکاہے۔
پاکستان کی جانب سے یہ واضح عندیہ دیاگیاہے کہ دریاں کاپانی روکنااقدامِ جنگ کے مترادف ہوگا۔یہ اعلان کسی مہم جوئی کاغماز یاصرف سیاسی یاعسکری ردعمل نہیں بلکہ قومی بقاکا اعلان ہے۔پاکستان کی زراعت،صنعت اورروزمرہ زندگی ان دریاں سے منسلک ہے اورپاکستان کی زراعت کا90فیصددارومدارانہی دریاں پرہے۔ان کارک جاناگویاپورے ملک کی نبض پرہاتھ رکھ کراسے دبادیناہے۔گویایہ جنگ ہتھیاروں سے پہلے پانی کے قطروں پرلڑی جارہی ہے۔جہاں بھارت ایک آبی قوت بننے کے خواب دیکھ رہا ہے،وہیں پاکستان اس خواب کواپنے وجود کے خلاف اعلانِ جنگ سمجھ رہاہے۔اگربھارت آبی جارحیت کوہتھیاربنائے،توپاکستان کیلئے خاموش رہناممکن نہ ہوگا۔اگربھارت نے یہ’’آبی سرجیکل سٹرائیک‘‘کی،تویہ ممکن ہے کہ میدانِ جنگ زمین پرہو،لیکن اس کے شعلے فضا،معیشت اورتہذیب کوجھلسادیں۔
پاک وہندمیں تنازعات کی تاریخ کئی دہائیوں پرمحیط ہے لیکن پہلگام کے فالس فلیگ آپریشن کے بعد تیزی کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ ہوتاجارہاہے۔1965اور1971کی کشیدگی کے جواب میں جنگوں کوبھی ایک اہم وجہ سمجھاجاتاہے لیکن2000کی دہائی میں پانی،کشمیراوردہشتگردی پرجامع مذاکرات ہوئے لیکن2019میں ایک اورفالس فلیگ پلوامہ آپریشن کے نتیجے میں انڈیانے پاکستان کودریاکے پانی کا’’ریاستی ہتھیار‘‘بنانے کی دھمکی دی تھی۔بعدازاں2021میں دونوں ممالک نے کشمیرمیں فائربندی پراتفاق کیاجو چندروز قبل تک کامیابی کے ساتھ چل رہاتھا۔
سویڈن کے سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی رپورٹ کے مطابق بھارت نے2024میں دفاع پر86ارب ڈالرخرچ کرنے کا منصوبہ بنایا،جبکہ پاکستان کی مجموعی دفاعی بجٹ محض10ارب ڈالرکے آس پاس ہے۔یہ عدم توازن محض ہتھیاروں کی گنتی کا معاملہ نہیں،بلکہ ایک ایسی جنگی فضاکاآئینہ ہے جس میں دانائی،حکمت اورسفارت کے بغیرامن کی کوئی صورت باقی نہیں بچتی۔یہ فرق نہ صرف وسائل کاہے،بلکہ عالمی طاقتوں کی حمایت،ٹیکنالوجی اورجنگی حکمت عملی کابھی ہے۔پاکستان اپنی جغرافیائی مجبوریوں میں جکڑاہواہے،جبکہ بھارت کومشرق،مغرب اوردنیابھرمیں تزویراتی شراکت داری حاصل ہے۔
انڈیاکی فوجی طاقت((15اکھ اہلکار)پاکستان((6لاکھ اہلکار)سے کہیں زیادہ ہے لیکن پاکستان کی پیشہ وارانہ مہارت کی حامل فوج جو برسوں سے ملک کے اندربھارتی دہشتگردی کے خلاف بھرپورکامیاب کاروائیوں میں مصروفِ عمل اورمتحرک ہے اوراس کے ساتھ ساتھ فوجی عدم توازن کے مقابلے کیلئے جوہری ردعمل بھی جنگ کوغیرمنطقی انجام تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتاہے کیونکہ جنگ صرف بندوقوں کی گنتی کانام نہیں،مگرجب کسی ملک کے پاس ڈرون،سیٹلائٹ،اوربیلسٹک میزائل ہوں اوردوسرے کے پاس صرف غیرت اور تجربہ،توجنگ کاانجام بہت کچھ طے شدہ محسوس ہونے لگتاہے۔یہ عسکری تفاوت خطے میں ممکنہ تنازع کومزید پیچیدہ بناتاہے۔تاہم جنگ صرف ہتھیاروں سے نہیں،بلکہ حکمت اور سفارت سے بھی جیتی جاتی ہے لیکن تاریخ گواہ ہے کہ چھوٹے لشکربھی اگراپنی بقاکیلئے لڑیں،تووہ بڑے لشکروں کوتھام سکتے ہیںشرط یہ ہے کہ تدبیر،ایمان،اوراتفاق ساتھ ہو۔
مودی اوراس کے جنگی مافیاکایہ فالس فلیگ آپریشن جن مقاصدکیلئے سرانجام دیاگیاتھا،اب اس کے ممکنہ نتائج کی بجائے الٹاان کے گلے میں ہڈی بن کران کاسانس بندکررہاہے ۔ ان ممکنہ خوفناک حالات سے نکلنے کیلئے جوجنگ کے ممکنہ مناظرنظرآرہے ہیں اس میں مودی اوران کے حواری اپنی قوم کے سامنے شرمندگی سے بچنے کیلئے محدودجنگ کاآغازکرسکتے ہیں جس میں کشمیرمیں سرحدی جھڑپیں جوشروع ہوچکی ہیں اورپاکستان کی طرف سے بھرپورجواب ملنے پرخاموشی چھاگئی ہے اوراب ممکن ہے کہ وہ سائبرجنگ(جیسے پاکستان کے پانی کے ڈیٹاسسٹمزکوہیک کرنا)کابھی آغازکریں۔پاکستان میں اپنے پراکسی دہشتگرد گروپس کی مددسے پاکستان میں داخلی کشیدگی میں اضافہ کرنے کی کوشش کریں گے۔
(جاری ہے)