سمیع اللہ ملک (آخری قسط)
یہ وقت ہے کہ بھارت وپاکستان،دونوں اپنی سیاسی اناں سے بلند ہوکرتاریخ اورجغرافیہ کے تقاضوں کوسمجھیں۔اگرپانی کوہتھیاربنایاگیا،تواس کاعذاب صرف دشمن پرنہیں،خودحملہ آورپربھی نازل ہو گا۔ دریاؤں کی بندش گویازندگی کی بندش ہوگیاوریہ بندش،جوآج ممکنہ طورپرسیاسی برتری کاآلہ سمجھی جارہی ہے،کل انسانی تاریخ کاسب سے افسوسناک باب بن سکتی ہے۔فریقین کی طرف سے جارحانہ بیان بازی کوروکنے کیلئے اقوام متحدہ اوردیگرعالمی ادارے آگے بڑھ کراس میں مثبت کرداراداکرسکتے ہیں۔تاہم اگربھارت پانی کوہتھیاربناتاہے توپاکستان اسے سلامتی کونسل میں لے جا سکتاہے۔
یادرکھیں!دریاکبھی جھوٹ نہیں بولتے۔جب دریابپھرجائیں توپانی بہتاہے،بانٹتاہے،اورجوڑتاہے مگرجب سیاست اسے روکتی ہے،تو وہ چیخنے لگتاہے۔عالمی قانون،اقوام متحدہ، اورورلڈبینک کے پاس ایسے اوزارضرورہیں جن سے جنگ روکی جاسکتی ہے مگروہ صرف تب کام کرتے ہیں جب دونوں فریق قانون کوطاقت سے برترمانیں۔برصغیرمیں آبی سیاست ،عسکری دھمکیاں اورممکنہ جنگ کی کہانی کوروکنے کاواحدحل یہی ہے کہ یہاں انصاف کے تقاضے پورے کئے جائیں تاکہ متعصب ہندوپرست مودی بارباراپنے اقتدارکو دوام دینے کیلئے فالس فلیگ آپریشن کاڈرامہ رچاکراپنے ہی ملک کے شہریوں کی جان نہ لے سکے۔
تاریخ گواہ ہے کہ کارگل،پلوامہ،اوراوڑی جیسے بحرانوں کے بعدبھی دونوں ممالک بات چیت کی میزپرآئے۔آج بھی،اگرسیاسی عزم ہو،توبیک چینل سفارتکاری اورعالمی ثالثی اس بحران کوٹال سکتی ہے۔دریابغاوت نہیں کرتے،مگرجب انسان ان کی راہ روکتاہے،تو وہ تاریخ کی گواہی بن جاتے ہیں۔پانی کوہتھیار بنانے کی بجائے،اسے امن کاوسیلہ بنایا جائے۔اگربھارت نے پانی روکا،توپاکستان صرف خاموش تماشائی نہ رہے گایہ مسئلہ جنگ وامن کا،حیات وممات کا،اورتہذیب وتباہی کاہے۔
سوال یہ ہے کہ کیاان حالات میں جنگ ناگزیرہے؟نہیں،کیونکہ کوئی بھی ملک اپنی تباہی کاخطرہ مول نہیں لے گا۔ایٹمی تصادم کو روکنے کیلئے اقوام متحدہ،چین،اورامریکاثالثی کی کوشش کریں گے۔دونوں ملکوں کے اندرداخلی اورخارجی دباؤانڈیاکوانتخابات میں اورپاکستان کومعاشی بحران کی وجہ سے غیرمقبول بناسکتے ہیں۔ہاں اگرانڈیاسندھ طاس معاہدے کوتوڑدینے کااعلان کرے گاتویقینا پاکستان اپنے جائزحق کیلئے شدید ردعمل کے طورپر’’ریڈلائنز‘‘عبورکرے گااورحالات اس بات کی مضبوط گواہی دے رہے ہیں کہ ایساہونے پر پاکستان اپنے پانی کیلئے ان دریاؤں کے منبع پراپناقبضہ کرے گاجس سے کشمیرکے آزادہونے کابھی خواب شرمندہ تعبیر ہوسکتاہے اوریہ بھی عین ممکن ہے کہ رب تعالیٰ کی مشیت ہو سکتی ہے کہ ایک لاکھ سے زائد کشمیری شہدا کی قربانیوں رنگ لانے کاوقت آن پہنچاہے۔
اس تنازعہ کا پھر حل کیا ہے؟پہلاحل تویہ ہے کہ سندھ طاس معاہد کی تجدید کرتے ہوئے موسمیاتی تبدیلیوں کے پیش نظر پانی کی تقسیم کے نئے اصول طے کیے جائیں۔
٭مشترکہ واٹر مینجمنٹ سسٹم کے تحت خشک سالی کے منصوبوں سے بچنے کیلئے پانی کی تقسیم کا ڈیٹا شیئرنگ کا منصفانہ طریقہ رائج کیا جائے۔
٭عوامی سطح پر بیداری کیلئے پانی کے تحفظ کیلئے اجتماعی اقدامات جیسے ڈرپ اریگیشن اور ڈیمز کی تعمیر کیلئے ہنگامی بنیادوں پر کام شروع کیا جائے تاکہ پانی کے ذخیرہ کو سمندر میں گرنے سے بچا کر اسے زرعی ضروریات کیلئے استعمال کیا جا سکے۔
سندھ،جہلم،چناب اورراوی کے کنارے صرف پانی ہی نہیں،تمدن کی سانسیں بہتی تھیں۔سندھ طاس معاہدہ(1960)اسی تاریخی تسلسل کاعقلی اوربین الاقوامی مظہرتھامگراس نازک موڑپرسی آرپاٹیل کابیان گویاپانی میں زہرگھولنے کے مترادف ہے کہ’’پاکستان کو ایک قطرہ بھی نہ ملے‘‘اورجواب میں پاکستانی وزیردفاع خواجہ آصف نے کہاکہ’’پانی روکنا جنگ چھیڑنے کے برابرہوگا‘‘۔یہ مکمل سپیکٹرم ڈیٹرنس بیان پاکستان کی فوجی پالیسی سے ہم آہنگ ہے،جوجوہری ہتھیاروں کوبھی شامل کرتاہے،پورے خطے کی آبی اور عسکری سلامتی کوخطرے میں ڈال دیاہے جبکہ پاکستان کاردِعمل ایک زخمی سناٹے کی طرح ہے جوکہہ رہاہے:’’مت کھیل میرے آنگن کے پانی سے،یہ میری رگوں میں دوڑتی زندگی ہے‘‘ ۔آخری بات یہ ہے کہ پانی کاتنازعہ انڈیااورپاکستان کیلئے وجودی خطرہ ہے،لیکن تاریخ اورجوہری توازن جنگ کو’’لاکھوں موتوں‘‘والے منظرتک پہنچنے سے روکتے ہیں۔دونوں ممالک کیلئے ضروری ہے کہ وہ پانی کو’’ہتھیار‘‘بنانے کی بجائے’’مشترکہ وسائل"‘‘کے طورپردیکھیں،کیونکہ موسمیاتی تبدیلیاں کسی کونہیں چھوڑیں گی۔
جب دوایٹمی طاقتیںبھارت اورپاکستان کسی تنازعے کی دہلیزپرکھڑی ہوں،تویہ مسئلہ صرف دوریاستوں کے درمیان نہیں رہتا؛یہ ایک ایسا عالمی خطرہ بن جاتا ہے جو سرحدوں، براعظموں، اور نسلوں تک پھیل سکتا ہے۔ اگر خدانخواستہ ان دونوں ممالک کے درمیان ایٹمی جنگ چھڑ جائے، تو اس کے اثرات صرف جنوبی ایشیا تک محدود نہیں ہوں گے، بلکہ پوری انسانیت اس کی لپیٹ میں آ جائے گی۔انڈیااورپاکستان کی ممکنہ ایٹمی جنگ کے دنیاپرکیااثرات مرتب ہوسکتے ہیں،کسی بھی ذی شعورپرخوف کی جھرجھری طاری ہوجاتی ہے۔
ایک تحقیق کے مطابق اگردونوں ممالک ایک دوسرے پرمحدودایٹمی حملے کرتے ہیں توابتدائی حملوں میں12کروڑافرادسے کہیں زیادہ فوری طورپرلقمہ اجل بن سکتے ہیں۔بڑے شہر(مثلادہلی،کراچی،لاہور،ممبئی اوردیگردرجن شہر)صفحہ ہستی سے مٹ سکتے ہیں،جہاں لاکھوں لوگ فوری تابکاری،آگ اوردباکی لہروں سے ہلاک ہوجائیں گے۔بنیادی ڈھانچے(اسپتال،سڑکیں،توانائی کے مراکز) مفلوج ہوجائیں گے۔
ایٹمی دھماکوں سے پیداہونے والادھواں اورراکھ فضامیں بلندہوکرسورج کی روشنی کوروکے گا،جس سے درجہ حرارت کئی ڈگری نیچے آجائے گا،اسے نیوکلیئرونٹرکہاجاتاہیاس کے ہولناک ماحولیاتی اثرات کی وجہ سے فصلوں کی پیداوارمتاثرہوگی،غذائی قلت کااندیشہ ہوگا،اوربالخصوص افریقا،مشرق وسطی اورلاطینی امریکاجیسے خطے اس کے غیرمتناسب شکارہوں گے۔عالمی سطح پر خوراک کی قلت،قیمتوں میں اضافہ،اورقحط کاخدشہ ناقابل یقین حدتک بڑھ جائے گا۔
دنیاکی دوبڑی معیشتیںچین اورامریکابھارت اورپاکستان کے حلیف یامفادیافتہ ممالک ہیں۔جنگ ان کوبالواسطہ طورپرکھینچ سکتی ہے۔اگرخاکم بدہن ایساہوگیاتوپھرجس قیامت کاوعدہ ہے،وہ پوراہوجائے گا۔اگرمعاملہ یہاں تک نہیں پہنچتاتواس کے باوجودان دوملکوں کے درمیان ایٹمی جنگ کے نتیجے میں اقوام متحدہ،نیٹو،روس،ترکی اورخلیجی ممالک پردبابڑھے گاکہ وہ کسی ایک طرف کاساتھ دیں یاثالثی کریں۔علاوہ ازیں عالمی سیاسی اوراقتصادی اثرات کی بناپرجنوبی ایشیاعالمی تجارتی روٹس(بحیرہ عرب، گوادر،ممبئی،چٹاگانگ)کامرکزہے۔جنگ ان راستوں کومعطل کرسکتی ہے،جس سے عالمی تجارت کونقصان پہنچے گا۔
ایٹمی جنگ ہوتی ہے تو پناہ گزینوں کاایسابحران پیداہوگاجس میں10کروڑسے زائدافرادبے گھرہوسکتے ہیں۔ایران،افغانستان،بنگلہ دیش،نیپال اورچین جیسے ممالک کوپناہ گزینوں کے بڑے ریلے کاسامناہوگا۔یورپ کوبھی ایک نیاپناہ گزین بحران درپیش آسکتاہے، جوپہلے ہی یوکرین،شام اورسوڈان سے متاثرہے۔
جنگ کوہندومسلم کشمکش کارنگ دینے کی کوشش کی جاسکتی ہے،جس سے بین الاقوامی سطح پراسلاموفوبیاکوتقویت ملے گی۔ عالمی میڈیااورسیاسی ادارے اس تنازعے کونظریاتی تصادم کے طورپربیان کرسکتے ہیں،جوبین الاقوامی ہم آہنگی کومزیدکمزور کرے گا۔یادرہے کہ یہودی نژادہنری کیسینجر کا’’ون ورلڈآرڈر‘‘اسی نظریہ پر ترتیب دیاگیاہے کہ گریٹراسرائیل کی ساری دنیاپرحکومت ہو گی جبکہ مسلمانوں کابھی ایمان ویقین ہے کہ دجال کے زمانے میں امام مہدی کے نزول کے بعدساری دنیامیں اسلام کی حکمرانی ہو گی اورغزوہ ہندکی پیشینگوئی بھی موجودہے۔
٭جنگ کے بعددنیامیں ایٹمی ہتھیاروں کے خلاف ایک نئی اخلاقی وقانونی تحریک جنم لے سکتی ہے۔ایٹمی عدم پھیلاجیسے معاہدوں پرعملدرآمدکادباؤبڑھے گا۔ایٹمی طاقتوں کی شفافیت اورکنٹرول کی مانگ دنیابھرمیں زورپکڑے گی۔
٭خطے میں جنگی ذہنیت کاپھیلا،اسلحہ کی دوڑ،اورجنوبی ایشیائی خطے میں داخلی سیاسی عدم استحکام بڑھے گا۔
٭پاکستان اوربھارت میں سول سوسائٹی،معیشت،تعلیم اورعوامی خدمات کانظام پاش پاش ہوجائے گا۔
٭ایک ممکنہ ایٹمی جنگ نہ صرف ایک جغرافیائی مسئلہ ہے،بلکہ یہ اخلاقی،انسانی اورتہذیبی بحران کی بھی نمائندگی کرتی ہے۔ پاکستان اوربھارت کی قیادت کوچاہیے کہ وہ عقل،تدبیر،اوربین الاقوامی مکالمے کاراستہ اختیارکریں۔
عالمی برادری،بالخصوص اوآئی سی،اقوامِ متحدہ،یورپی یونین،اورچین،کوچاہیے کہ فوری،غیرجانبداراوردیرپاثالثی کاکرداراداکریں اور مودی اوراس کے آقاں جیسے خونخواربھیڑیوں سے دنیاکوبچانے کیلئے ایک عالمگیرتحریک چلائیں تاکہ دنیاکودرپیش خطرات اور تباہی کے کنارے سے واپس لایاجاسکے۔
مجھے یقینِ کامل ہے کہ اگران سفارشات پرفوری عملدرآمدشروع کیاجائے تودنیاکوممکنہ تباہی سے بچایاجاسکتاہے۔
٭اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں فوری قراردادبرائے ایٹمی کشیدگی میں کمی پرعملدرآمدکروایاجائے۔
٭جنوبی ایشیائی خطے کیلئے ایٹمی ہتھیاروں سے پاک عالمی زون پربات چیت کاآغازکیاجائے۔
٭پاکستان،ایران،بھارت،چین اورافغانستان کے درمیان پنج فریقی امن فورم کی تشکیل دی جائے۔
٭میڈیااورعوامی بیانیے میں نفرت اورتصادم کی زبان کے خلاف عالمی ضابطہ اخلاق نافذکیاجائے۔