قومی اسمبلی:فلسطین میں اسرائیلی مظالم کیخلاف قرارداد منظور حکومت قائداعظم کی پالیسی پر قائم ہے:وزیرقانون

ایوان مطالبہ کرتا ہے  اسرائیلی بربریت کو فوری طور پر روکا جائے‘اسرائیل کی جارحیت عالمی برادری کی ناکامی ہے‘غزہ سے فوج فوری نکالی جائے:قرارداد کا متن
فلسطین ہو یا مقبوضہ کشمیر، بارود سے آواز نہیں دبائی جا سکتی، مسئلہ فلسطین ہمارے ایمان کا بھی حصہ ہے، مسلمانوں کا قبلہ اول فلسطین میں ہے:اعظم نذیرتارڑکا خطاب

اسلام آباد(مانیٹرن ڈیسک‘آئی این پی)قومی اسمبلی میں فلسطین میں جاری اسرائیلی مظالم اور مظلوم فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کیلئے قرار داد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی۔وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ایوان میں قرارداد پیش کی جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اقوام متحدہ فلسطین میں بربریت رکوانے میں اپنا کردار ادا کرے اور تباہ شدہ غزہ کی تعمیر نو میں کردار ادا کیا جائے۔قرارداد میں کہا گیا ہے  یہ ایوان مطالبہ کرتا ہے کہ اسرائیلی بربریت کو فوری طور پر روکی جائے، یہ ایوان ایک بار پھر اسرائیلی مظالم کی مذمت کرتا ہے۔قرارداد میں کہا گیا ہے کہ یہ ایوان ساٹھ ہزار فلسطینی شہدا کو سلام پیش کرتا ہے، یہ ایوان اسرائیلی جنگ بندی کے باوجود بمباری کی شدید مذمت کرتا ہے، یہ ایوان اسرائیل جارحیت کو عالمی برادری کی ناکامی تصور کرتا ہے۔قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ یہ ایوان اسرائیلی افواج کے فوری انخلا کا مطالبہ کرتا ہے، قومی اسمبلی نے متفقہ طورپر فلسطینیوں کی حمایت جبکہ اسرائیل کے خلاف قرارداد منظور کرلی گئی۔۔قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا  اسرائیل کے بارے  میں  بانی پاکستان  قائداعظم  قومی پالیسی دے چکے ہیں، حکومت پاکستان بانی پاکستان کی قومی پالیسی پر کھڑی ہے،فلسطین ہو یا مقبوضہ کشمیر، بارود سے آواز نہیں دبائی جا سکتی۔ مسئلہ فلسطین ہمارے ایمان کا بھی حصہ ہے، مسلمانوں کا قبلہ اول فلسطین میں ہے، حکومت اپنی بساط سے بڑھ کر فلسطینیوں کے لیے ریلیف کا سامان بھیج رہی ہے،حکومت نے فلسطین کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان لاکر ان کی تعلیم شروع کی۔ اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ مسئلہ کشمیر و فلسطین کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے، پاکستان کا مسئلہ فلسطین کے حوالے سے موقف دو ٹوک اور واضح ہے،  اسرائیل کے بارے میں بانی پاکستان اپنی قومی پالیسی دے چکے ہیں