قومی اسمبلی اجلاس سانحہ پمز پر متفقہ قرارداد منظور‘ذمہ داروں کیخلاف کارروائی کا مطالبہ کسی شخص کو نہیں چھوڑا جائیگا:مصطفی کمال

  بڑے ہسپتال کی یہ حالت ہے تو پھر ملک کے باقی حصوں کا تو اللہ ہی مددگار ہے،وزیر اعظم اور وزیر صحت استعفی دیں،اسد قیصر:شفاف اور غیر جانب دار تحقیقات کرائی جائیں تاکہ آئندہ ایسا واقعہ  پیش نہ آئے:بیرسٹرگوہر
حکومت نے جاں بحق بچوں کے لواحقین کیلئے 50 لاکھ  فی خاندان  امداد کا اعلان کیا ہے:خواجہ آصف‘قومی اسمبلی اور سینیٹ کی خصوصی پارلیمانی کمیٹی برائے سانحہ پمز بنانے کی تحریک  منظور‘، اعظم نذیر تارڑ کی  اپوزیشن کو بھی  شمولیت کی تجویز 
ملکی نظام گل سڑ گیا، روزانہ 1300 بچے مررہے ہیں، آئیں مل بیٹھ کر ان کو بچائیں:وزیر صحت مصطفی کمال‘اشرافیہ کے پرائیویٹ علاج پر پابندی سے سرکاری ہسپتال بہتر ہوں گے:سینیٹر پرویز رشید
اسلام آباد میں 2 ہسپتال سنبھلتے نہیں، اچھل اچھل کر کہتے ہیں نیا صوبہ بنائیں گے:سینیٹر فلک ناز‘  ای ڈی پمز اس واقعے کا قصور وار ہے،اسے تو گرفتار کرنا چاہیے تھا، یہ شخص قاتل ہے:سینیٹر سعدیہ عباسی کا اجلاس میں اظہار خیال
اسلام آباد(آئی ا ین پی‘آن لائن ) قومی اسمبلی  میں  پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) اسلام آباد کی نرسری میں آتشزدگی سے 14 بچوں کی جان جانے کے سانحے پر متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کر لی گئی ۔قرارداد چیئرمین پارلیمانی کاکس برائے حقوق اطفال بیرسٹر دانیال نے پیش کی جس میں کہا گیا کہ یہ ایوان پمز میں آتشزدگی کے حالیہ واقعہ میں معصوم بچوں کی جانوں کے المناک نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتا ہے۔قرارداد میں مزید کہا گیا کہ ایوان اس سانحے کی بھرپور مذمت کرتا ہے اور اس کا باعث بننے والی لاپرواہی پر شدید تشویش کا اظہار کرتا ہے۔قرارداد میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ اس لاپرواہی کا جو بھی ذمہ دار ہے اس کے خلاف قانون کے مطابق سنگین کارروائی عمل میں لائی جائے۔دوسری جانب ایوان نے قومی اسمبلی اور سینیٹ کی خصوصی پارلیمانی کمیٹی برائے سانحہ پمز بنانے کی تحریک بھی منظور کرلی۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اپوزیشن کو بھی اس پارلیمانی کمیٹی میں شمولیت کی تجویز دی۔اجلاس کے دوران حکومتی اور اپوزیشن ارکان کی جانب سے   پمز سانحے پر شدید بحث ہوئی ‘پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے کہا اگر اسلام آباد کے مرکز میں واقع سب سے بڑے اسپتال کی یہ حالت ہے تو پھر ملک کے باقی حصوں کا تو اللہ ہی مددگار ہے۔اسد قیصر نے وزیر صحت مصطفی کمال سے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس عہدے پر برقرار رہنے کا کوئی جواز نہیں رہا۔   پی ٹی آئی کے    بیرسٹر گوہر نے شفاف اور غیر جانب دار تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ کوشش ہونی چاہیے کہ آئندہ ایسا واقعہ دوبارہ پیش نہ آئے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے اجلاس کو بتایا کہ وفاقی حکومت نے جاں بحق بچوں کے لواحقین کے لیے 50 لاکھ روپے فی خاندان مالی امداد کا اعلان کیا ہے۔انہوں نے ایوان کو بتایا کہ واقعے سے متعلق قائمہ کمیٹی کا اجلاس پیر کو طلب کیا گیا ہے جس میں وزیر مملکت برائے داخلہ رپورٹ پیش کریں گے۔ خواجہ آصف نے ارکانِ اسمبلی پر زور دیا کہ وہ اجلاس میں شرکت کریں اور اپنی سفارشات پیش کریں‘دریں اثناء سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال رکتے ہوئے   وفاقی وزیر برائے صحت مصطفی کمال نے کہا  ملکی نظام گل سڑ گیا یہاں روزانہ 1300 بچے مررہے ہیں، آئیں مل بیٹھ کر ان کو بچائیں‘ وزیر اعظم کی قائم کمیٹی کی رپورٹ آ جائے گی، آپ رپورٹ دیکھ کر بتا دیں کہ یہ سقم رہ گیا ہے، وزیر اعظم سے لے کر کسی کی نیت نہیں کہ سانحہ پمز میں ملوث کسی بھی شخص کو بچایا جائے۔مصطفی کمال نے اپوزیشن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایک آدمی کو بھی نہیں چھوڑا جائے گا، آپ بتائیں ، حکومت آپ کو سپورٹ کرے گی، وزارتوں کے لئے  ہم اپنی قبروں کو خراب نہیں کریں گے، کوئی نہیں بچے گا چاہے کتنا بڑا ترم خان ہو، ہمیں آپ گائیڈ کریں، آپ ہمیں روڈ میپ دیں‘ لیگی سینیٹر پرویز رشید نے کہا ہے کہ اشرافیہ کے پرائیویٹ علاج پر پابندی لگائی جائے، اس پابندی سے ہی سرکاری ہسپتالوں میں بہتری آئے گی۔ پمزجیسے المیے روز پاکستان کی تقدیر بن چکے ہیں، ہم ایک نئے المیے کا استقبال کرتے ہیں ، یہ سب ختم نہیں ہو گا، انکوائری بھی ہو اور سزا بھی ہو ، مگر اس سے پہلے بھی انکوائریاں ہوئیں، سزائیں بھی ہوئیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایک قانون بنایا جائے کہ سب کا علاج سرکاری ہسپتال سے ہو گا، چاہے کوئی سینیٹر ہو، کوئی جج ہو، کوئی بیوروکریٹ ہو۔ سینیٹر فلک ناز چترالی نے  کہا کہ اسلام آباد میں دو اسپتال سنبھلتے نہیں، اچھل اچھل کر کہتے ہیں نیا صوبہ بنائیں گے، وزیر صحت سینیٹ اجلاس میں پمز کے قصیدے پڑھ رہے تھے، اس پر تو شرم سے ڈوب مرنا چاہیے۔  سینیٹر سعدیہ عباسی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا  وزیر اعظم نے سیکرٹری صحت کو تو معطل کردیا،ای ڈی پمز کو معطل نہیں کرسکے ، ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز کی رسائی ایسی جگہ ہے جہاں کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا، ای ڈی پمز اس واقعے کا قصور وار ہے،اسے تو گرفتار کرنا چاہیے تھا، یہ شخص قاتل ہے۔