قومی اسمبلی خاتون کے کپڑے پھاڑنے، ہائی جیکر سے تعلقات یا ملاقات پر سزائے موت ختم سوشل میڈیا کے غلط استعمال اور غیرت کے نام پر قتل کیخلاف قرارداد منظور

  خاتون کے کپڑے پھاڑنے کی شق کا ہمیشہ غلط استعمال ہوا:وزیر قانون ‘ترمیمی بل پر جے یو آئی کی رکن عالیہ کامران  کی مخالفت‘بل  کثرت رائے سے منظور 
سوشل میڈیا کے درست استعمال کیلئے قوانین بنائے جائیں: قرارداد کا متن‘اجلاس میں غزہ کے عوام سے اظہارِ یکجہتی کی قرارداد  بھی منظور کرلی گئی
اسلام آباد(آئی این پی )قومی اسمبلی نے فوجداری قوانین میں 2 ترامیم کی منظوری دے دی جن کے تحت خاتون کے کپڑے پھاڑنے اور ہائی جیکر سے ملاقات یا تعلقات پر سزائے موت ختم کردی گئی ہے۔وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم تارڑ  نے کہا ہے   خاتون کے کپڑے پھاڑنے کی شق کا ہمیشہ غلط استعمال ہوا۔اسپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیر قانون اعظم تارڑ نے فوجداری قوانین ترمیمی بل 2025 ایوان میں پیش کیا، وزیر قانون اعظم تارڑ نے ایوان کو بتایا  بل کے تحت فوجداری قوانین میں دو ترامیم لائی جا رہی ہیں، پہلی ترمیم شق 354 اے سے متعلق ہے، یہ شق خاتون کے کپڑے پھاڑنے کی سزا کا احاطہ کرتی ہے، سابق صدر ضیاالحق کے دور میں خاتون کے کپڑے پھاڑنے پر سزا ئے موت متعارف کرائی گئی تھی، تاہم اس شق کا غلط استعمال کیا جاتا ہے۔وزیر قانون نے کہا کہ354 کو 354اے میں بدلنے پر تھانوں میں رشوت چلتی ہے، ترمیم کے تحت اس جرم پر سزائے موت ختم کر کے سزا کم کی جا رہی ہے۔ قومی اسمبلی نے سوشل میڈیا کے غلط استعمال کی روک تھام اور غیرت کے نام پر قتل کے خلاف قرارداد کثرتِ رائے سے منظور کرلی۔، پیپلز پارٹی کی رکن اسمبلی شاہدہ رحمانی نے یہ قرارداد اسمبلی میں پیش کی، جس میں کہا گیا کہ حالیہ عرصے میں کچھ صوبوں میں غیرت کے نام پر قتل ہوئے، جن کی روک تھام ضروری ہے اور حکومت اس سلسلے میں اقدامات کرے۔سوشل میڈیا سے متعلق قرارداد کے متن میں کہا گیا کہ ایوان سوشل میڈیا کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کرتا ہے اور اس سلسلے میں وفاقی حکومت صوبائی حکومتوں کے ساتھ مشاورت کے بعد سوشل میڈیا کے درست استعمال کے لیے قوانین بنائے، اس کے علاوہ ڈیجیٹل حقوق، قواعد اور اخلاقیات کی آگاہی کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں۔معلوم ہوا ہے کہ اجلاس کے دوران وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری کی جانب سے پاکستان شہریت ترمیمی بل 2025ء قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا، تاہم تحریک انصاف کے ایم این اے شہریار آفریدی نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ’شہریت بل ہے کیا؟ اس کے متعلق ایوان کو تفصیل سے بتایا جائے‘، اس پر وزیر مملکت داخلہ نے بتایا کہ ’یہ بل سینیٹ اور قائمہ کمیٹی کے بعد منظور ہوا، بہت ممالک میں دوسری شہریت کے لیے اپنی شہریت ترک کرنا پڑتی تھی لیکن اب اب اوورسیز پاکستانیوں کو دوسرے ملک کی شہریت حاصل کرنے کے لیے پاکستانی شہریت ترک نہیں کرنا پڑے گی، غزہ کے عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کی قرارداد بھی کثرت رائے سے منظور کر لی گئی