لاہور میں فضائی آلودگی کی شرح 174 ریکارڈ کی گئی، اقبال ٹاؤن کا ایئر کوالٹی انڈیکس 242 تک پہنچ گیا، شہر میں بارش کے 80 فیصد امکانات ظاہر کیے گئے ہیں۔
لاہور: صوبائی دارالحکومت لاہور میں فضائی آلودگی کی شرح 174 ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد شہر آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں چھٹے نمبر پر آگیا۔ شہر کے مختلف علاقوں میں ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی) کی سطح میں نمایاں فرق دیکھا گیا، جبکہ بعض علاقوں میں آلودگی کی شرح نسبتاً زیادہ ریکارڈ کی گئی۔فضائی آلودگی کے اعداد و شمار کے مطابق اقبال ٹاؤن میں ایئر کوالٹی انڈیکس 242 ریکارڈ کیا گیا، جو شہر کے دیگر علاقوں کے مقابلے میں زیادہ رہا۔ اسی طرح گلبرگ ٹو میں اے کیو آئی 193 اور چمن پارک میں 189 ریکارڈ کیا گیا۔اعداد و شمار کے مطابق پیراگون سٹی میں فضائی آلودگی کی شرح 175، برکی روڈ پر 171 اور بیدیاں روڈ پر 164 ریکارڈ کی گئی۔ ماڈل ٹاؤن میں ایئر کوالٹی انڈیکس 163 جبکہ ڈی ایچ اے فیز فائیو میں 156 رہا۔
ماہرین کے مطابق فضائی آلودگی کی بلند سطح انسانی صحت، بالخصوص بچوں، بزرگوں اور سانس کی بیماریوں میں مبتلا افراد کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔ آلودہ فضا میں زیادہ دیر تک رہنے سے آنکھوں میں جلن، گلے میں خراش، کھانسی اور سانس لینے میں دشواری جیسی شکایات پیدا ہوسکتی ہیں۔شہریوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ آلودگی کی سطح زیادہ ہونے کی صورت میں غیر ضروری طور پر کھلی فضا میں زیادہ وقت گزارنے سے گریز کریں۔ حساس افراد کو بیرونی سرگرمیوں کے دوران خصوصی احتیاط برتنی چاہیے۔
لاہور کا موسم
دوسری جانب لاہور میں صبح سویرے موسم خوشگوار رہا اور فضا میں خنکی محسوس کی گئی۔ شہر میں بارش کے 80 فیصد تک امکانات ظاہر کیے گئے ہیں، جس کے باعث موسم میں مزید تبدیلی متوقع ہے۔موسمی اعداد و شمار کے مطابق لاہور کا موجودہ درجہ حرارت 26 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 31 ڈگری اور کم سے کم 19 ڈگری سینٹی گریڈ رہنے کی توقع ہے۔شہر میں ہوا میں نمی کا تناسب 75 فیصد ریکارڈ کیا گیا، جبکہ ہوائیں 3 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی ہیں۔بارش کی صورت میں درجہ حرارت میں کمی اور موسم میں خنکی بڑھنے کا امکان ہے، تاہم فضائی آلودگی میں کمی کا انحصار بارش کی شدت، دورانیے اور ہوا کی رفتار سمیت دیگر موسمی عوامل پر ہوگا۔شہریوں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ موسم کی تازہ صورت حال اور فضائی آلودگی سے متعلق جاری کردہ ہدایات پر نظر رکھیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔