وزیراعظم سے مسلم لیگ ق ، بلوچستان عوامی پارٹی، استحکام پاکستان پارٹی ‘ مسلم لیگ ضیاء ‘ایم کیو ایم کے وفود کی ملاقاتیں‘ اتحادی جماعتوں نے حکومت کیساتھ کھڑے رہنے کی یقین دہانی کرادی

لانگ مارچ معیشت تباہ کرنے کی سازش ایمرجنسی لگانا مشکل  فیصلہ تھا شہبازشریف
 خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت کے طرز عمل اور دہشت گردی کے خلاف دوٹوک موقف اختیار کرنے سے گریز کے باعث پاکستان کی ترقی کرتی معیشت کو خطرات لاحق تھے، 13 سال میں  صرف انتشار کا راستہ اپنایا گیا
صوبوں کی مشاورت سے گندم کی قیمت جلد مقرر کریںگے‘، ذخیرہ اندوزوں کو رعایت نہیں دی جائے گی‘ حکومت کی کوشش ہے کسانوں کو ان کی محنت کا مناسب معاوضہ ملے اور صارفین کو سستی گندم دستیاب ہو:وزیراعظم
اسلام آباد (آئی این پی )اتحادی جماعتوں  نے  وزیراعظم سے ملاقات میں  خیبرپختونخوا بارے حکومتی فیصلوں کی حمایت کردی ۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے  خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے، معیشت کی بہتری اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے گورنر کی معاونت کے لیے غیر جانب دار ٹیکنوکریٹ ایڈوائزری کونسل قائم کی گئی ہے۔وزیراعظم شہباز شریف سے پاکستان مسلم لیگ (ق)، بلوچستان عوامی پارٹی، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم لیگ (ضیا)کے پارلیمانی وفد نے ملاقات کی، جس میں وزیراعظم نے وفد کو خیبرپختونخوا کی صورتحال پر اعتماد میں لیا۔وزیراعظم نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت کے طرز عمل اور دہشت گردی کے خلاف دوٹوک موقف اختیار کرنے سے گریز کے باعث پاکستان کی ترقی کرتی معیشت کو خطرات لاحق تھے، وفاقی کابینہ نے باہمی مشاورت سے آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت آئینی اقدامات کا فیصلہ کیا۔شہباز شریف نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے دہشت گردی کی واضح الفاظ میں مذمت نہیں کی اور نہ ہی دہشت گردوں کے خلاف کوئی بھرپور کارروائی کی۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی سالوں سے خیبرپختونخوا میں پاک افواج، سکیورٹی فورسز اور پولیس کے کئی اہلکاروں نے جام شہادت نوش کیا اور مادر وطن کی حفاظت کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ 13 سال میں پاکستان تحریک انصاف اور خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت نے نہ عوامی فلاح و بہبود کے لیے کام کیا اور نہ ہی عوام کی جان و مال کی حفاظت کے لیے خاطر خواہ اقدامات کیے، صرف انتشار کا راستہ اپنایا گیا‘وزیراعظم محمد شہباز شریف سے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے کنوینر اور وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی سربراہی میں ایم کیو ایم کے وفد نے ملاقات کی، جس میں ملک کی مجموعی اور سیاسی صورتِ حال پر تبادلہ  خیال کیا گیا۔ ملاقات کے دوران وزیراعظم نے وفد کو خیبر پختونخوا کی صورتِ حال اور صوبے کے حوالے سے حکومتی فیصلوں کے پس منظر سے آگاہ کیا، جبکہ ایم کیو ایم کے وفد نے حکومتی اقدامات کی مکمل حمایت کا یقین دلایا۔وزیراعظم شہباز شریف نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام کے بہترین مفاد میں یہ مشکل فیصلہ کرنا پڑا۔ حکومت نے بھرپور کوشش کی کہ کسی طرح یہ انتہائی قدم اٹھانے کی نوبت نہ آئے، تاہم تمام تر کوششوں کے باوجود صورتِ حال میں بہتری کے لیے مطلوبہ پیش رفت نہ ہو سکی۔وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے کھلے دل کے ساتھ مذاکرات کیے، لیکن دوسری جانب سے مثبت جواب نہیں ملا۔ ان کے مطابق خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات میں عام شہریوں اور سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا جا رہا تھا، جبکہ صوبائی حکومت دہشت گرد گروہوں کے خلاف کھل کر آواز اٹھانے میں ناکام رہی۔شہباز شریف نے مزید کہا کہ ملک کی بہتر ہوتی ہوئی معیشت کو لانگ مارچ کے ذریعے نقصان پہنچانے کی سازش کی جا رہی تھی۔ دریں اثناء  شہباز شریف نے کہا ہے کہ گندم کی قیمت کا اعلان صوبوں سے مشاورت مکمل ہونے کے بعد جلد کیا جائے گا، حکومت کی کوشش ہے کہ کسانوں کو ان کی محنت کا مناسب معاوضہ ملے اور صارفین کو سستی گندم دستیاب ہو۔ انہوں نے واضح کیا کہ گندم کی ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کو کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی اور گندم کی بوائی سے پہلے اس کی مناسب قیمت کا تعین ضروری ہے تاکہ کسان فصل کی کاشت سے متعلق بہتر فیصلے کر سکیں۔وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت اسلام آباد میں قومی زرعی و غذائی تحفظ کونسل کا پہلا اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملکی زراعت کی ترقی، کسانوں کو سہولیات کی فراہمی، غذائی تحفظ، گندم کی قیمت کے تعین اور زرعی و مویشیوں کی مصنوعات کی برآمدات بڑھانے کے لیے مختلف اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔