پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے حالیہ بیان میں اپوزیشن کو بچکانہ باتیں کرنے اور جمہوری عمل کو آگے بڑھانے کی طرف اشارہ دیا ہے۔
انہوں نے پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کا خیال تھا کہ ان کی پارٹی میں کوئی توڑ پیدا کرسکتے ہیں، مگر یہ کوشش بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔انہوں نے حلف برداری میں تاخیر کے حوالے سے کہا کہ اس کا کوئی جواز نہیں، چاہے آج ہو یا کل، یہ عمل مکمل ہو جائے گا۔ سلمان اکرم راجا نے یہ بھی واضح کیا کہ علی امین گنڈاپور نے یہ نہیں کہا کہ علیمہ خان نے انہیں ہٹایا ہے۔مزید بات کرتے ہوئے انہوں نے بلاول بھٹو کے تجربے پر تنقید کی اور کہا کہ سہیل آفریدی وزیر رہ چکے ہیں، اس لیے ان کے اردگرد ایک تجربہ کار ٹیم موجود ہے، جو ملکی امور کو سمجھتی ہے۔
افغانستان کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ دو برادر مسلم ممالک کے درمیان جنگ ہورہی ہے، اور کہا کہ بغیر معاملات طے کیے دونوں ملکوں کے تعلقات بہتر نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان سرحد بند نہیں کرسکتا کیونکہ معاشی اور روزگار کے مسائل جُڑے ہوئے ہیں۔سلمان اکرم راجا کا کہنا تھا کہ افغانستان کے ساتھ امن کے لیے بات چیت ضروری ہے، جب تک یہ بات چیت جاری رہے گی، امن قائم نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے یہ بھی زور دیا کہ حالات کو بہتر بنانے کے لیے مذاکرات اور بات چیت ناگزیر ہیں تاکہ دہشت گردی اور دیگر مسائل سے نمٹا جا سکے۔