اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے کہا ہے کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات دو اہم نکات پر آگے نہ بڑھ سکے، بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے خاتمے کا معاملہ مذاکرات میں ڈیڈ لاک کا باعث بنا۔
اسلام آباد میں پی ٹی آئی وکلا کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے سلمان اکرم راجا نے کہا کہ حکومت کے وزرا مذاکرات کے حوالے سے غیر اہم باتیں کر رہے ہیں، مذاکرات کے دو دور ہوئے جو بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوگئے۔ ان کے مطابق پہلے روز اجلاس کے بعد پی ٹی آئی کی مذاکراتی کمیٹی پشاور گئی، جہاں وزیراعلیٰ اور کابینہ سے ملاقات کرکے دہشتگردی کی صورتحال پر بریفنگ لی گئی۔سلمان اکرم راجا نے بتایا کہ پی ٹی آئی کے دو بڑے مطالبات تھے، جن میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات بھی شامل تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کے بغیر پی ٹی آئی کوئی فیصلہ نہیں کرے گی۔ مذاکرات میں دوسرا بڑا مسئلہ خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کا خاتمہ تھا۔ ہمارا مؤقف تھا کہ سیاسی جماعتوں کے امن جرگے کو سنا جائے اور اس کی تجاویز کو مسترد کرنا دانشمندی نہیں ہوگی۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی آج امن جرگے کی دستاویزات بھی پیش کرے گی، جن پر مسلم لیگ ن، اے این پی سمیت دیگر جماعتوں کے دستخط موجود ہیں۔ ان کے مطابق خیبر پختونخوا میں ہونے والے امن جرگے میں تمام سیاسی جماعتوں اور قبائلی عمائدین نے شرکت کی اور قبائلی علاقوں کے نمائندوں نے وہاں کے مسائل اور ان کے حل کے حوالے سے اپنی تجاویز پیش کیں۔پی ٹی آئی سیکریٹری جنرل نے کہا کہ دور بیٹھ کر قبائلی علاقوں کے حوالے سے فیصلے نہیں کیے جا سکتے، وہاں کے حالات بہتر بنانے کے لیے مقامی لوگوں اور سیاسی جماعتوں کی مشاورت ضروری ہے۔
سلمان اکرم راجا کے مطابق مذاکرات میں مختلف مسودوں پر باری باری پیش رفت ہوئی۔ محسن نقوی کئی مرتبہ اجلاس چھوڑ کر باہر گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ رات 8 بجے تک کئی نکات پر اتفاق ہوچکا تھا، تاہم رات 2 بجے تک بانی پی ٹی آئی کے معالجین سے متعلق معاملے پر اتفاق نہ ہوسکا، جبکہ 72 گھنٹے والے معاملے پر بھی بات چیت ہوئی۔انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں پی ٹی آئی کا مطالبہ تھا کہ بانی پی ٹی آئی سے اسی روز ملاقات کروائی جائے۔ انہیں یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ معاہدہ ہونے کی صورت میں منگل کو وکلا اور بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کو ملاقات کی اجازت دی جائے گی اور آئندہ ملاقاتیں بھی بحال کردی جائیں گی۔ علامہ ناصر عباس کی ملاقات کے معاملے پر بھی بات ہوئی۔سلمان اکرم راجا نے مزید کہا کہ یہ بھی طے پایا تھا کہ معاہدہ ہونے کی صورت میں تمام اسیران کو رہا کردیا جائے گا، جبکہ معمر افراد اور خواتین کی رہائی کے معاملے پر بھی بات مثبت انداز میں آگے بڑھ رہی تھی۔ اسی وجہ سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ مذاکرات کامیابی کے قریب پہنچ چکے ہیں، تاہم بانی پی ٹی آئی کے معالجین اور خیبر پختونخوا کے معاملے پر بات چیت ٹوٹ گئی۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں یہ بات بھی زیر بحث آئی کہ قبائلی علاقوں کے حوالے سے فیصلے متفقہ طور پر کیے جائیں گے، لیکن سب کی مشاورت کو تسلیم نہیں کیا گیا۔ بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان کو طبی پینل کا حصہ بنانے پر بھی اتفاق نہیں ہوسکا۔ ان کے بقول خیبر پختونخوا میں دہشتگردی، بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور ذاتی معالج کی رسائی اہم معاملات تھے اور ان کے بغیر مذاکرات کی کامیابی ممکن نہیں تھی۔سلمان اکرم راجا نے کہا کہ لانگ مارچ کے سالار سہیل آفریدی ہیں اور پی ٹی آئی ان کا ساتھ دے گی۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں جو بھی فیصلہ ہوگا، وہ سب کی مشاورت سے ہونا چاہیے، جبکہ تمام سیاسی قوتیں مل کر ملک کو استحکام کی جانب لے جاسکتی ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی آج بھی چاہتی ہے کہ قربتوں کو دوریوں میں تبدیل نہ کیا جائے۔ ان کے مطابق مذاکرات کے دوران معاملات کے حل کے قریب پہنچ گئے تھے، تاہم اچانک یہ قربت دوری میں تبدیل ہوگئی۔ حکومتی کمیٹی کی جانب سے ذاتی معالجین تک رسائی اور متفقہ لائحہ عمل پر کام سے انکار کیا گیا، تو ایسی صورتحال میں مذاکرات کیسے کامیاب ہوسکتے تھے۔
دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بانی پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ سپریم کورٹ کے ایک بھی فیصلے پر عملدرآمد نہیں ہوا، جبکہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے متعدد فیصلوں پر بھی عمل نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اب اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچنا بھی مشن ناممکن بن چکا ہے۔بیرسٹر سلمان صفدر نے مزید کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کی فکسیشن برانچ عام طور پر کیسز مقرر نہیں کرتی، تاہم جب باہر صورتحال اور درجہ حرارت اتنا ہائی ہے تو اس کیس کو مقرر کیا جانا چاہیے۔